489F cheque bail Accepted by supreme court on grounds , there was not any transaction proof and accused was in jail for last five months .
![]() |
| 489F cheque bail Accepted by supreme court |
دفعہ 489-F
کے تحت ضمانت: سپریم کورٹ کا فیصلہ
(2021 SCMR 2092) ایک نظیر
پاکستان میں چیک کے بدنیتی پر مبنی اجرا سے متعلق دفعہ 489-F تعزیراتِ پاکستان کے تحت متعدد مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ ایسے مقدمات میں ضمانت کے اصولوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ 2021 SCMR 2092 ایک اہم نظیر ہے، جس میں عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
پسِ منظر
اس مقدمے میں ملزم محمد ناصر شفیق پر الزام تھا کہ اس نے ایک چیک جاری کیا جو کیش نہ ہو سکا۔ شکایت کنندہ کا مؤقف تھا کہ اس نے ملزم کو نقد رقم ادا کی تھی، جبکہ ملزم کا موقف اس سے مختلف تھا۔ معاملہ عدالت میں آیا اور ملزم تقریباً 5 ماہ تک جیل میں رہا۔
سپریم کورٹ کی آبزرویشنز
عدالت نے درج ذیل نکات پر غور کیا:
- رقم کی ادائیگی پر عدم وضاحت – شکایت کنندہ نے کہا کہ رقم نقد دی گئی تھی، لیکن کوئی تحریری معاہدہ یا رسید فراہم نہ کر سکا، جس سے مقدمے کی نوعیت کمزور ہو گئی۔
- زیادہ سے زیادہ سزا اور ملزم کی حراست – چیک کے بدنیتی سے اجرا کا جرم زیادہ سے زیادہ 3 سال قید کی سزا رکھتا ہے، جبکہ ملزم پہلے ہی 5 ماہ جیل میں گزار چکا تھا۔
- ادائیگی کی تفصیلات مشکوک
- – شکایت کنندہ نے دعویٰ کیا کہ رقم قسطوں میں دی گئی، لیکن وہ اس کا کوئی واضح ثبوت نہ دے سکا۔
- ٹرائل کورٹ پر فیصلہ چھوڑنے کا رجحان – عدالت نے قرار دیا کہ معاملے کے مکمل حقائق اور شواہد کا جائزہ ٹرائل کورٹ میں لیا جانا چاہیے، اس لیے ملزم کی غیر ضروری حراست مناسب نہیں۔
Must read Judgement
Citation Name : 2021 SCMR 2092 SUPREME-COURT
Side Appellant : MUHAMMAD NASIR SHAFIQUE
Side Opponent : State
S. 489-F---Constitution of Pakistan, Art. 185(3)---Dishonestly issuing a cheque---Bail, grant of---During the course of proceedings, the complainant categorically stated that the amount paid to the accused was in fact in cash and the same was neither paid in lieu of any agreement nor any receipt in such regard could be furnished---Furthermore accused was behind bars for the last 05 months and the maximum punishment provided under the statute for the offence alleged was 03 years---As the amount was allegedly paid by the complainant to the accused in installment s which was not satisfactorily disclosed by the complainant, therefore, it was best to leave the matter to be decided by the Trial Court after recording of evidence --- Petition for leave to appeal was converted into appeal and allowed, and accused was admitted to bail
