Police encounter. raising questions on the integrity of the chain of custody. Accused acquitted. 2024 Y L R 905.
![]() |
| (Police encounter) |
پولیس مقابلہ کے مقدمات میں ثبوت کے معیار سے متعلق اہم فیصلہ
یہ فیصلہ سندھ ہائی کورٹ کا ایک نہایت اہم اور قابلِ مطالعہ فیصلہ ہے جس میں عدالت نے پولیس مقابلہ، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی کے مقدمات میں استغاثہ پر عائد ذمہ داریوں کو واضح کیا ہے۔ عدالت نے اس اصول کو دہرایا کہ فوجداری مقدمات میں الزام کو محض بیان یا سرکاری مؤقف سے نہیں بلکہ ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔
کیس کا پس منظر
زیرِ نظر مقدمے میں ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے پولیس پارٹی پر براہِ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان، سندھ آرمز ایکٹ اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو مختلف سزائیں سنائیں، تاہم اپیل میں ہائی کورٹ نے تمام ریکارڈ کا ازسرِنو جائزہ لیا۔
مبینہ پولیس مقابلہ اور اس کی ساکھ
ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ مبینہ پولیس مقابلہ چند منٹ جاری رہا، مگر اس کے باوجود نہ کسی پولیس اہلکار کو گولی لگی اور نہ ہی سرکاری گاڑی کو کوئی نقصان پہنچا۔ عدالت کے مطابق اگر واقعی براہِ راست فائرنگ ہوئی ہوتی تو اس کے مادی آثار لازماً موجود ہوتے۔ اس غیر فطری صورتحال نے پولیس مقابلے کی کہانی کو مشکوک بنا دیا۔
فائرنگ کے باوجود مادی آثار کا فقدان
عدالت نے اس پہلو پر بھی غور کیا کہ مبینہ فائرنگ کے باوجود جائے وقوعہ سے خون کے کوئی نشانات برآمد نہیں ہوئے۔ عدالت کے نزدیک یہ حقیقت بھی استغاثہ کے مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتی اور فائرنگ کے واقعے کی صداقت پر سوالیہ نشان قائم کرتی ہے۔
اسلحہ کی برآمدگی اور شواہد کا تسلسل
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ برآمد شدہ اسلحہ کس پولیس اہلکار کے ذریعے فارنسک سائنس لیبارٹری بھیجا گیا۔ کسی گواہ نے اس اہلکار کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی یہ ثابت کیا جا سکا کہ کیس پراپرٹی محفوظ حالت میں فارنسک ماہر تک پہنچی۔ اس کمی کی وجہ سے شواہد کا تسلسل ٹوٹ گیا۔
Chain of Custody کی قانونی اہمیت
ہائی کورٹ کے مطابق فوجداری مقدمات میں Chain of Custody غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کیس پراپرٹی کی محفوظ روانگی اور ترسیل ثابت نہ ہو تو ایسے شواہد اپنی قانونی حیثیت کھو دیتے ہیں اور عدالت ان پر انحصار نہیں کر سکتی۔
فرانزک رپورٹ پر انحصار کا سوال
عدالت نے واضح کیا کہ جب کیس پراپرٹی کی ترسیل مشکوک ہو جائے تو فارنسک رپورٹ بھی قابلِ اعتماد نہیں رہتی، کیونکہ اس بات کا کوئی اطمینان بخش ثبوت موجود نہیں ہوتا کہ جس چیز کا معائنہ کیا گیا وہی اصل برآمد شدہ چیز تھی۔
فوجداری قانون کا بنیادی اصول
ہائی کورٹ نے اس اصول کو دہرایا کہ فوجداری قانون میں معمولی شک بھی ملزم کے حق میں جاتا ہے۔ اگر استغاثہ اپنا مقدمہ بلا شبہ ثابت کرنے میں ناکام رہے تو عدالت سزا برقرار نہیں رکھ سکتی۔
عدالتی نتیجہ
ان تمام وجوہات کی بنا پر سندھ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور اپیل منظور کرتے ہوئے ملزمان کو بری کر دیا۔
فیصلے کی عملی اہمیت
یہ فیصلہ پولیس مقابلہ اور انسدادِ دہشت گردی کے مقدمات میں ایک واضح مثال ہے کہ عدالتیں صرف الزام کی سنگینی کو نہیں بلکہ ثبوت کے معیار، فطری حالات اور شواہد کے تسلسل کو بنیاد بناتی ہیں۔ یہ فیصلہ دفاعی وکلا اور تفتیشی اداروں دونوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
1. پولیس مقابلہ:
ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی تھی، لیکن کوئی پولیس اہلکار زخمی نہ ہوا اور نہ ہی پولیس کی گاڑی کو کوئی گولی لگی، جو مقابلے کی حقیقت پر سوال اٹھاتا ہے۔
2. اسلحہ کی برآمدگی:
ملزمان سے اسلحہ برآمد کیا گیا، لیکن کیس پراپرٹی کو فورینسک سائنس لیبارٹری بھیجنے میں پولیس کے عمل میں سقم پایا گیا، جس سے شواہد کی سالمیت پر سوال اٹھا۔
3. چین آف کسٹڈی:
کیس پراپرٹی کو فورینسک لیبارٹری تک پہنچانے میں کوئی پولیس اہلکار گواہ نہ تھا، جس سے چین آف کسٹڈی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔
4. عدالت کا فیصلہ:
ان سقموں کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمان کو بری کر دیا۔
Must read Judgement
2024 Y L R 905
Tags
Polce encounter
