Legality of Registered Document The court declared the registered exchange document to be admissible .
![]() |
رجسٹرڈ دستاویز کی حیثیت، وقت کی حد، اور شہادت کی مضبوطی، کی ناکامی پر مبنی تھا۔ عدالتوں نے مدعیان کے کیس کو غیر قانونی اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
اہم نکات:
1. رجسٹرڈ دستاویز کی قانونی حیثیت
رجسٹرڈ تبادلہ دستاویز کو عدالت نے تسلیم شدہ قرار دیا اور کہا کہ تسلیم شدہ حقائق کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔
2. شہادت کی کمی
مدعی قابل اعتماد زبانی یا دستاویزی شہادت پیش کرنے میں ناکام رہے، جس سے ان کا دعویٰ غیر ثابت رہا۔
3. حدود کا اطلاق
رجسٹرڈ تبادلہ 1981 میں ہوا، جبکہ دعویٰ 2009 میں داخل کیا گیا، جو آرٹیکل 120 کے تحت 6 سالہ مدت کی حد سے تجاوز کر گیا۔
مدعیان وقت کی تاخیر کے بارے میں تسلی بخش وضاحت دینے میں ناکام رہے۔
4. ہائی کورٹ کا نظرثانی کا دائرہ کار
نچلی عدال متفقہ فیصلوں میں ہائی کورٹ نے مداخلت سے انکار کیا، کیونکہ فیصلے حقائق پر مبنی تھے۔
5. فیصلہ کا نتیجہ
مدعیان کا دعویٰ وقت کی حد سے باہر ہونے اور شہادت کی کمی کی بنیاد پر مسترد کر دیا گیا۔
حوالہ جات:
رجسٹرڈ دستاویزات کی اہمیت: Mst. Rehmat (2021 SCMR 1534)
وقت کی حد اور اس کی پابندی: Agha Syed Mustaque (2016 SCMR 910)
نظرثانی کا دائرہ کار: Mst. Zaitoon Begum (2014 SCMR 1469)
کہانی کیس کی:
یہ کیس زمین کے ایک حصے (خسرہ نمبر) سے متعلق تنازع کا ہے۔ مدعیان (Syed Tazeeb Abbas اور دیگر) نے دعویٰ کیا کہ رجسٹرڈ تبادلہ دستاویز (Exchange Deed) اور اس کے نتیجے میں ہونے والا 1981 کا انتقال (Mutation) غیر قانونی ہیں اور انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔ مدعیان کا مؤقف تھا کہ یہ دستاویزات اور انتقال ان کے زمین کے مخصوص حصے پر ان کے حقوق کے خلاف ہیں۔
ابتدائی عدالتوں کے فیصلے:
ٹرائل کورٹ نے دعویٰ مسترد کر دیا، کیونکہ:
رجسٹرڈ تبادلہ دستاویز ایک تسلیم شدہ دستاویز تھی۔
مدعیان کوئی قابل اعتماد زبانی یا دستاویزی شہادت پیش کرنے میں ناکام رہے۔
اپیل کورٹ نے بھی یہی فیصلہ برقرار رکھا اور مدعیان کی اپیل خارج کر دی۔
ہائی کورٹ میں نظرثانی:
ہائی کورٹ میں مدعیان نے نچلی عدالتوں کے فیصلوں کو چیلنج کیا، لیکن عدالت نے یہ نکات واضح کیے:
1. رجسٹرڈ دستاویز کو چیلنج کرنے کے لیے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
2. دعویٰ وقت کی حد (28 سال کی تاخیر) سے باہر تھا، کیونکہ حد بندی کے تحت یہ دعویٰ 6 سال میں داخل کیا جانا چاہیے تھا۔
3. نچلی عدالتوں کے متفقہ فیصلے میں کوئی قانونی یا شواہد کی خامی نہیں پائی گئی۔
نتیجہ:
ہائی کورٹ نے بھی مدعیان کی درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ کیس میں نہ وقت کی حد کا خیال رکھا گیا، نہ ہی دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی مضبوط ثبوت پیش کیا گیا۔
خلاصہ:
یہ کیس زمین کے حصے پر دعویٰ کرنے اور قانونی اصولوں، جیسے کہ رجسٹرڈ دستاویز کی حیثیت، وقت کی حد، اور شہادت کی مضبوطی، کی ناکامی پر مبنی تھا۔ عدالتوں نے مدعیان کے کیس کو غیر قانونی اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
Must read judgement
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.
Tags
registed documents
