Strict Compliance Required for Substituted Service in Civil Suits.
متبادل تعمیل کے اصول اور آئینی دائرہ اختیار
(2024 C L C 1588 – پشاور ہائیکورٹ، منگورہ بنچ)
یہ مقدمہ متبادل تعمیل (Substituted Service) کے قانونی اصولوں، یکطرفہ کارروائی (Ex Parte Proceedings) اور آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ دائرہ اختیار کی حدود سے متعلق ایک اہم عدالتی نظیر ہے۔
پس منظرِ مقدمہ
درخواست گزار نے فروخت کے معاہدے کے مخصوص نفاذ (Specific Performance) کے لیے دعویٰ دائر کیا۔ ٹرائل کورٹ نے مدعا علیہ / مدعا علیہان کے خلاف یکطرفہ کارروائی اختیار کر لی۔ بعد ازاں، لوئر اپیلیٹ کورٹ نے نظرِ ثانی کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس حکم کو اس بنیاد پر کالعدم قرار دے دیا کہ متبادل تعمیل قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں کی گئی تھی۔
اس فیصلے کے خلاف درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ درخواست دائر کی۔
متبادل تعمیل کا قانونی تصور
عدالت نے قرار دیا کہ متبادل تعمیل، عدالتی نظام میں ایک اہم ذریعہ ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ جب ذاتی طور پر سمن کی تعمیل ممکن نہ ہو تو بھی عدالتی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے، بشرطیکہ:
فریقِ مخالف کو مقدمہ کی اطلاع دی جائے؛
اسے مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے؛
شفافیت، انصاف اور fair trial کے اصولوں کو برقرار رکھا جائے۔
آرڈر V رول 17 سی پی سی کی لازمی شرائط
عدالت نے واضح کیا کہ آرڈر V رول 17، ضابطہ دیوانی 1908 کے تحت متبادل تعمیل اختیار کرنے سے قبل درج ذیل شرائط کی پابندی لازمی ہے:
پہلے ذاتی تعمیل (Personal Service) کی سنجیدہ اور مؤثر کوشش کی جائے؛
ریکارڈ سے یہ ثابت ہو کہ مدعا علیہ جان بوجھ کر سمن وصول کرنے سے گریز کر رہا ہے؛
ان تقاضوں کی عدم تکمیل کی صورت میں متبادل تعمیل غیر قانونی تصور ہو گی۔
عدالت کے مطابق، اگر ذاتی تعمیل کے تقاضے پورے نہ کیے جائیں تو بعد کی پوری کارروائی قانونی حیثیت کھو دیتی ہے۔
لوئر اپیلیٹ کورٹ کا کردار
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ لوئر اپیلیٹ کورٹ نے درست طور پر:
یکطرفہ کارروائی کو ختم کیا؛
آرڈر IX سی پی سی کا اطلاق کرتے ہوئے مدعا علیہ کو سماعت کا حق دیا؛
انصاف کے بنیادی اصولوں کو ترجیح دی۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس عمل سے درخواست گزار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، کیونکہ سول ریویژن ابھی زیرِ سماعت تھی۔
آئینی رِٹ دائرہ اختیار کی حدود
عدالت نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ سرٹیوراری کے اصول بیان کرتے ہوئے کہا کہ:
رِٹ صرف اسی صورت جاری کی جا سکتی ہے جب ماتحت عدالتیں قانون کو صریحاً نظر انداز کریں؛
یا قانون کی واضح خلاف ورزی کی گئی ہو؛
محض مختلف قانونی رائے یا صوابدیدی فیصلے رِٹ مداخلت کا جواز نہیں بنتے۔
زیرِ نظر مقدمہ میں چونکہ لوئر اپیلیٹ کورٹ نے قانون کے مطابق فیصلہ دیا تھا، اس لیے ہائی کورٹ نے مداخلت سے انکار کیا۔
عدالتی فیصلہ
ہائی کورٹ نے رِٹ درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ:
متبادل تعمیل کے لیے سخت قانونی تقاضوں کی پابندی لازمی ہے؛
بغیر درست تعمیل کے یکطرفہ کارروائی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے؛
لوئر اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ قانون کے عین مطابق ہے۔
قانونی اہمیت
یہ فیصلہ درج ذیل اصولوں کو مستحکم کرتا ہے:
متبادل تعمیل ایک غیر معمولی طریقہ ہے، معمول نہیں؛
ذاتی تعمیل کے بغیر متبادل تعمیل اختیار کرنا غیر قانونی ہے؛
ہر فریق کو سماعت کا پورا حق دینا انصاف کی بنیاد ہے؛
آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ دائرہ اختیار محدود اور محتاط نوعیت کا ہے۔
![]() |
| Exparte-decree setaside. |
یک طرفہ فیصلے کو سیٹ-ایسائیڈ کرنے کی وجوہات درج ذیل تھیں:
1. متبادل سروس کی درست طریقے سے ادائیگی نہ ہونا:
ٹرائل کورٹ نے جب یک طرفہ فیصلہ دیا، تو اپیلیٹ کورٹ نے یہ فیصلہ سیٹ-ایسائیڈ کیا کیونکہ بدلی ہوئی خدمت (Substituted Service) کے ذریعے نوٹس ارسال کرنے کا طریقہ درست طور پر نہیں اپنایا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ قبل اس کے کہ متبادل خدمت استعمال کی جائے، اس بات کو یقینی بنانا ضروری تھا کہ ذاتی طور پر نوٹس بھیجا جائے، جو کہ یہاں نہیں کیا گیا تھا۔
2. قانونی طریقہ کار کا عدم اتباع
: اپیلیٹ کورٹ نے کہا کہ اگر ذاتی خدمت کا عمل مکمل طور پر نہیں کیا جاتا، تو پھر متبادل خدمت کا عمل قانونی طور پر درست نہیں ہوتا۔ لہذا، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اس بنیاد پر غلط تھا کہ ضروری قانونی طریقہ کار کی پیروی نہیں کی گئی۔
3. مدعا علیہ کو سماعت کا موقع نہ دینا
: اپیلیٹ کورٹ نے یہ بھی کہا کہ مدعا علیہ کو اپنی پوزیشن پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، اور اس کی سماعت کے بغیر یک طرفہ فیصلہ صادر کیا گیا، جو کہ قانونی اصولوں کے خلاف تھا۔
ان وجوہات کی بناء پر اپیلیٹ کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے یک طرفہ فیصلے کو سیٹ-ایسائیڈ کر دیا۔
