G-KZ4T1KYLW3 Delay in mutation limit is 6 years

Delay in mutation limit is 6 years

Delay in mutation limit is 6 years.


Mutation delay 


درخواست گزار نے زمین کا انتقال 15 سال بعد چیلنج کیا، جبکہ قانون کے تحت انتقال کی درستی کے لیے 6 سال کی مدت مقرر ہے۔


یہاں اس کیس کے اہم نکات مختصر طور پر بیان کیے گئے ہیں:

1. حد معیاد (Limitation):


درخواست گزار نے زمین کا انتقال 15 سال بعد چیلنج کیا، جبکہ قانون کے تحت انتقال کی درستی کے لیے 6 سال کی مدت مقرر ہے۔

درخواست معیاد سے باہر ہونے کی وجہ سے مسترد کر دی گئی۔



2. دستاویزات کی قانونی حیثیت:


ایسے دستاویزات جو قانونی طور پر گواہوں کی موجودگی میں تصدیق شدہ ہونی چاہیے، دو گواہوں کے بغیر ناقابل قبول ہیں (آرٹیکل 79، قانون شہادت 1984)۔



3. ثبوت کی ذمہ داری:


درخواست گزار کو اپنا کیس مضبوط اور قابل اعتبار شواہد کے ساتھ ثابت کرنا ضروری ہے۔

مدعا علیہ کی کوتاہیوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔



4. نظرثانی کی حدود:


نظرثانی کے دوران نئے دستاویزات شامل نہیں کیے جا سکتے جو ابتدائی درخواست میں شامل نہ ہوں۔

عدالت نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو برقرار رکھا کیونکہ کوئی قانونی خامی یا بے قاعدگی ثابت نہیں کی گئی۔




نتیجہ:

درخواست معیاد سے باہر ہونے کی بنیاد پر اور شواہد کی کمی کے باعث مسترد کر دی گئی۔




یہ فیصلہ جائیداد سے متعلق دعویٰ، ریونیو ریکارڈ کی درستی، قانونِ تحدید (Limitation)، اور شہادت کے اصولوں کے حوالے سے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں یہ واضح کیا کہ محض ملکیت کا دعویٰ کافی نہیں بلکہ بروقت قانونی اقدام اور قابلِ قبول شہادت ناگزیر ہے۔

مقدمے کا پس منظر

درخواست گزار عبدالنفیع نے دعویٰ دائر کیا کہ وہ متنازعہ زمین کا مالک ہے اور متعلقہ ریونیو ریکارڈ میں درج میوٹیشنز کو چیلنج کیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ اس نے سال 1980 میں زمین خریدی تھی، مگر ریونیو ریکارڈ اس کے نام منتقل نہیں کیا گیا۔ درخواست گزار نے بالآخر 1995 میں دعویٰ دائر کیا جس میں ملکیت کے اعلان اور مستقل حکمِ امتناعی کی استدعا کی گئی۔

ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ

ٹرائل کورٹ اور بعد ازاں لوئر اپیلیٹ کورٹ نے درخواست گزار کا دعویٰ مسترد کر دیا۔ دونوں عدالتوں نے قرار دیا کہ دعویٰ نہ صرف قانونِ تحدید کے تحت ناقابلِ سماعت ہے بلکہ شہادت کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔

قانونِ تحدید کا اطلاق

ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ Limitation Act, 1908 کے آرٹیکل 120 کے تحت ریونیو اندراجات (میوٹیشن) کی درستی کے لیے چھ سال کی مدت مقرر ہے۔ چونکہ متنازعہ میوٹیشن 1980 میں ہوئی اور دعویٰ 1995 میں دائر کیا گیا، اس لیے یہ دعویٰ واضح طور پر وقت کی پابندی سے باہر تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہر مدعی پر لازم ہے کہ وہ اپنے حق کے تحفظ کے لیے بروقت قانونی چارہ جوئی کرے۔

حق سے باخبر ہونے کا اصول

عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ وہ میوٹیشن کے اندراجات سے لاعلم تھا۔ اس لیے یہ مفروضہ قبول نہیں کیا جا سکتا کہ اسے اپنے حق کا علم نہیں تھا۔ طویل خاموشی اور عدمِ توجہی اس کے دعوے کے خلاف جاتی ہے۔

نظرثانی میں نئے دستاویزات پیش کرنے کا سوال

ہائی کورٹ نے یہ اصول دہرایا کہ وہ دستاویزات جو نہ تو ابتدائی دعویٰ میں بیان کی گئی ہوں اور نہ ہی نچلی عدالتوں کے ریکارڈ کا حصہ ہوں، انہیں نظرثانی کے مرحلے پر متعارف کرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ نظرثانی کا دائرہ محدود ہوتا ہے اور اس میں نئے شواہد پیش نہیں کیے جا سکتے۔

شہادت کے قانون کے تحت دستاویزات کی حیثیت

عدالت نے Qanun-e-Shahadat Order, 1984 کے آرٹیکل 79 کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ وہ دستاویزات جن کا قانوناً گواہوں سے تصدیق شدہ ہونا ضروری ہو، اس وقت تک قابلِ قبول شہادت نہیں ہوتیں جب تک کم از کم دو تصدیقی گواہوں کو پیش نہ کیا جائے۔ محض دستاویز پیش کر دینا یا حاشیہ نویس گواہوں کا ذکر کافی نہیں۔
دعویٰ ثابت کرنے کا بوجھ
عدالت نے آرٹیکل 117 کے تحت یہ اصول بھی واضح کیا کہ دعویٰ ثابت کرنے کی ذمہ داری مدعی پر ہوتی ہے۔ مدعی کو مضبوط، قابلِ اعتماد اور ہم آہنگ شہادت پیش کرنا ہوتی ہے اور وہ مدعا علیہ کی کمزوریوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ

بلوچستان ہائی کورٹ نے نچلی دونوں عدالتوں کے متفقہ حقائق پر مبنی فیصلوں میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار کسی قسم کی قانونی بے ضابطگی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہا۔ چنانچہ سول نظرثانی خارج کر دی گئی۔

قانونی اہمیت

یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ جائیداد کے معاملات میں محض دعویٰ کافی نہیں بلکہ بروقت اقدام، درست ریونیو اندراجات، اور قانونِ شہادت کے مطابق ثبوت پیش کرنا لازمی ہے۔ یہ فیصلہ وکلاء اور مدعیان کے لیے ایک واضح تنبیہ ہے کہ تاخیر اور ناقص شہادت ناقابلِ تلافی نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

Must read judgement 

2024 C L C 1437

[Balochistan]

Before Abdul Hameed Baloch, J

ABDUL NAFAY----Petitioner

Versus

GOVERNMENT OF BALOCHISTAN C&W DEPARTMENT through Superintending Engineering Project Circle and another----Respondents

Civil Revision No.415 of 2011, decided on 26th April of 2022.

(a) Specific Relief Act (I of 1877)---

----Ss. 42 & 54---Limitation Act (IX of 1908), Art.120---Qanun-e-Shahadat (10 of 1984), Arts. 79 & 117---Civil Procedure Code (V of 1908), S. 115---Suit for declaration and injunction---Revenue entries, correction of---Limitation---New documents---Petitioner / plaintiff claimed his ownership over suit property and had assailed mutations in question---Trial Court as well as Lower Appellate Court dismissed the suit---Validity---Suit land was mutated in the name of a person in the year 1980 and petitioner / plaintiff alleged that he purchased property in year 1980 but did not bother to transfer the land to his name in revenue record---Petitioner / plaintiff filed suit for correction of revenue record in the year 1995---Limitation period provided under Art.120 of Limitation Act, 1908, for correction of mutation entries was six years---Relief which petitioner / plaintiff was entitled was subject to law of limitation---Every litigant is to be vigilant in claiming his / her right within the prescribed period of limitation---Petitioner / plaintiff was not vigilant to pursue his right---There was no evidence on record that petitioner / plaintiff was not in knowledge of mutation entries---Petitioner / plaintiff filed suit after fifteen years of alleged transaction, which suit was barred by time---Documents which were neither pleaded nor part of pleading could not be allowed to be introduced during revisional jurisdiction---High Court declined to interfere in concurrent findings of facts by two Courts below as petitioner / plaintiff failed to point out any illegality and irregularity---Revision was dismissed, in circumstances.

   Rozi Khan v. Nasir 1997 SCMR 1849;
 Chairman, WAPDA, Lahore v. Gulbat Khan
 1996 SCMR 230; Manzoor Ahmad v. Government
 of Balochistan 1995 SCMR 221; Asif Mowjee v. 
Zaheer Abbas 2015 CLC 877; Azam Ali (Late) 
through legal heirs v. Alam Sher 2019 YLR 401;
 Bakhtiar v. Nasrullah 2015 CLC 395; Muhammad 
Iqbal's case 2015 SCMR 21 and Moiz Abbas v. Mrs.
 Latifa SCMR 74 rel.  

(b) Qanun-e-Shahadat (10 of 1984)---

----Art. 79---Document not attested by witnesses---Effect---Document which is required under law to be attested, such document cannot be used as evidence until two attesting witnesses have been called for the purpose of proving its execution---Provision of Art. 79 of Qanun-e-Shahadat, 1984, is mandatory in nature and non-compliance renders the document inadmissible in evidence without producing two witnesses, if alive---Court cannot rely on such document---Mere production of marginal witnesses is not enough, the witnesses in their deposition have to show signing of the document in their presence.

   Sheikh Muhammad Muneer v. Mst. Feezan 
PLD 2021 SC 538 rel.  

(c) Qanun-e-Shahadat (10 of 1984)---

----Art. 117---Proof---Onus to prove---Plaintiff must prove the case with cogent, trustworthy and consistent evidence and cannot take advantage of shortcomings of defendant's side.

   Mushtaq-ul-Haq Aarifin's case 2022 SCMR 55 rel.  

   Manzoor Ahmed Rehmani for Petitioner.  

   Muhammad Ali Rakhshani, 
Additional Advocate General 
and Allauddin Kakar, Assistant 
Advocate General for Respondents





For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 






































Post a Comment

Previous Post Next Post