Acquittal of drugs 1650 grams of hashish.
![]() |
| 2024 Y L R 996 |
منشیات کے مقدمے میں شواہد کی کمی پر اپیل کامیاب"
مقدمے کا پس منظر
علی حسین عرف راجو کے خلاف کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 1997 کے تحت مقدمہ درج تھا۔ پولیس کے حوالے سے 1650 گرام چرس کی ضبطگی کے بعد مقدمہ چلایا گیا، تاہم عدالت نے شواہد کی غیر تسلی بخش پیش کش اور پروسیکیوشن کی خامیوں کی بنیاد پر اپیل کی سماعت کی۔
محفوظ حوالگی اور شواہد کی کمی
عدالت نے نوٹ کیا کہ ضبط شدہ چرس کو پولیس اسٹیشن میں محفوظ رکھنے اور ماہر کیلیے بھیجنے کا عمل درست طور پر ریکارڈ پر ثابت نہیں ہوا۔ نہ ہی ہیڈ موہریر سے گواہی لی گئی اور نہ ہی رجسٹر نمبر 19 کی اندراج پیش کی گئی۔ اس بنا پر عدالت نے کہا کہ پروسیکیوشن نے محفوظ حوالگی اور شواہد کا درست عمل نہیں دکھایا، لہٰذا الزام ثابت نہیں ہوا۔
پروسیکیوشن کے شواہد میں تضادات
عدالت نے پروسیکیوشن کے گواہوں کے بیانات میں تضادات کو بھی نوٹ کیا۔ ایک گواہ نے ابتدائی بیان میں چرس کی ایک بڑی سلّاب ہونے کی تصدیق کی، جبکہ کراس ایکزامینیشن میں سات چھوٹے ٹکڑے ہونے کا بتایا۔ اس کے علاوہ، گرفتار ہونے کے وقت موجود دو یا تین نجی افراد کو پیش نہیں کیا گیا۔ چونکہ مدعی نے پولیس کے ساتھ دشمنی کا دعویٰ کیا تھا، عدالت نے کہا کہ پروسیکیوشن نے آزاد گواہی یا تصدیق فراہم نہیں کی۔
شک کا فائدہ
عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی ایک قابل اعتماد شواہد یا صورتحال سے معقول شک پیدا ہوتا ہے تو ملزم کو اس کا حق حاصل ہے۔ یہ حق رعایت یا عنایت کے طور پر نہیں بلکہ قانون کی بنیاد پر ہے۔ جس کا اصول ہے: "ایک معصوم کو سزا دینے کے بجائے دس قصوروار آزاد رہیں۔"
اہم نکات:
1. محفوظ تحویل کا فقدان:
چرس (1650 گرام) کی محفوظ تحویل اور اس کیمیکل ایگزامینر تک منتقلی کا عمل ریکارڈ پر ثابت نہیں کیا جا سکا۔
نہ ہی ہیڈ محرر کو بطور گواہ پیش کیا گیا اور نہ رجسٹر نمبر 19 کی انٹری عدالت میں پیش کی گئی۔
2. استغاثہ کے شواہد میں تضادات:
گواہ کے بیانات میں تضاد پایا گیا؛ ایک گواہ نے چرس کا ایک سلَب بتایا جبکہ جرح کے دوران 7 ٹکڑوں کا ذکر کیا۔
گرفتاری کے وقت موجود 2/3 عام افراد کو شامل تفتیش نہ کرنا استغاثہ کے مقدمے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔
3. پولیس سے دشمنی کا دعویٰ:
ملزم نے پولیس سے دشمنی کا دعویٰ کیا، جس کے بعد آزاد گواہی ضروری تھی، لیکن ایسی کوئی شہادت پیش نہیں کی گئی۔
4. شک کا فائدہ:
عدالت نے قرار دیا کہ صرف ایک معقول شک بھی ملزم کو بری کرنے کے لیے کافی ہے۔
یہ اصول کہ "دس مجرم بری ہو جائیں لیکن ایک بے گناہ سزا نہ پائے" پر عمل کیا گیا۔
5. استغاثہ کا مقدمہ ناکام:
استغاثہ محفوظ تحویل اور آزاد شہادت فراہم کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔
Must read Judgement
2024 Y L R 996
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.
Tags
Acquittal 9c
