Specific performance | . Enforcement of property purchased from attorney The High Court held that the original owner did not authorize the attorney to sell the property in the power of attorney.
![]() |
| Enforcement of property purchased from attorney 2024 Y L R 910 |
فیصلے کا تعارف اور نوعیت
یہ فیصلہ آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ کی جانب سے Specific Relief Act, 1877 کی دفعہ 12 کے تحت دائر معاہدۂ فروخت کی مخصوص تکمیل سے متعلق اپیل میں دیا گیا۔ اپیل محمد خلیق کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جبکہ جواب دہندگان غلام فاطمہ اور دیگر تھے۔ اپیل کا فیصلہ 19 جون 2023 کو سنایا گیا۔
مقدمے کا پس منظر
مدعی نے دعویٰ دائر کیا کہ اصل مالک کی جانب سے مقرر کردہ جنرل پاور آف اٹارنی ہولڈر نے اس کے حق میں معاہدۂ فروخت انجام دیا، جس کے تحت دس مرلہ زمین بمعہ پختہ مکان اور صحن دس لاکھ روپے کے عوض فروخت کیے گئے۔ ٹرائل کورٹ نے یہ دعویٰ مسترد کر دیا، جس کے خلاف یہ اپیل دائر کی گئی۔
پاور آف اٹارنی کی قانونی حیثیت
ہائی کورٹ نے ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور یہ امر واضح کیا کہ جنرل پاور آف اٹارنی کے متن میں اٹارنی کو کسی بھی شخص کے حق میں معاہدۂ فروخت کرنے کا اختیار صراحتاً نہیں دیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ پاور آف اٹارنی میں نہ تو مکان فروخت کرنے کا اختیار موجود تھا اور نہ ہی صحن یا متنازعہ رقبے کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی۔
معاہدۂ فروخت اور اختیارات کا تضاد
عدالت نے یہ تضاد بھی نمایاں کیا کہ پاور آف اٹارنی کے تحت جو اختیارات دیے گئے تھے وہ معاہدۂ فروخت میں ظاہر کیے گئے اختیارات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ معاہدے کے ذریعے دس مرلہ زمین بمعہ مکان اور صحن فروخت کیا گیا، جبکہ پاور آف اٹارنی اس نوعیت کے کسی بھی تصرف کی اجازت نہیں دیتی تھی، جس سے معاہدہ قانونی حیثیت سے محروم ہو گیا۔
ملکیت اور حصص کی حقیقت
پٹواری رپورٹ کے مطابق اصل مالک اور دیگر شریک مالکان کی مجموعی زمین ایک کنال دس مرلہ دو سرسائی پر مشتمل تھی، جسے چار بیٹیوں میں برابر تقسیم ہونا تھا۔ ایسی صورت میں اصل مالک صرف اپنے حصے تک معاہدہ کر سکتی تھی، مگر معاہدۂ فروخت اس کے حصے سے زائد زمین پر محیط تھا، جو قانوناً ناقابلِ قبول ہے۔
قبضے کی صورتحال
عدالت نے اس نکتے پر بھی غور کیا کہ خود اپیل کنندہ کے مؤقف کے مطابق مکان جواب دہندہ کے قبضے میں تھا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اصل مالک نے ایسے مکان کے متعلق معاہدہ کرنے کی کوشش کی جو اس کے قبضے میں ہی نہیں تھا، جو معاہدۂ فروخت کی قانونی بنیاد کو مزید کمزور کرتا ہے۔
Cognovits کی قانونی حیثیت
جہاں تک اصل مالک کی جانب سے دیے گئے cognovits کا تعلق ہے، عدالت نے قرار دیا کہ اگر یہ دستاویزات مدعی کے حق میں دی بھی گئی ہوں تب بھی ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں بنتی، کیونکہ جب بنیادی اختیار ہی موجود نہ ہو تو اس کے تحت دی گئی کوئی بھی اجازت قانون کی نظر میں غیر مؤثر ہوتی ہے۔
ماتحت عدالت کے فیصلے کا جائزہ
ہائی کورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ماتحت عدالت نے فیصلہ دیتے وقت نہ کوئی قانونی غلطی کی اور نہ ہی کسی بے قاعدگی کا ارتکاب کیا۔ فیصلے کی بنیاد درست شواہد اور قانون کے مطابق تھی، جس میں کسی قسم کی مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
حتمی فیصلہ
ان تمام حقائق اور قانونی نکات کی روشنی میں عدالت نے قرار دیا کہ اپیل میں کوئی وزن نہیں، چنانچہ اپیل خارج کر دی گئی اور ماتحت عدالت کا فیصلہ و ڈگری برقرار رکھی گئی۔
قانونی اہمیت
یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ پاور آف اٹارنی کی بنیاد پر کیا گیا معاہدۂ فروخت اسی صورت قابلِ نفاذ ہو سکتا ہے جب اٹارنی کو فروخت کا صریح اور واضح اختیار دیا گیا ہو۔ اختیارات سے تجاوز پر مبنی معاہدے نہ صرف ناقابلِ نفاذ ہوتے ہیں بلکہ مخصوص تکمیل کے دعوے بھی اس بنیاد پر مسترد ہو جاتے ہیں۔
Must read judgement
2024 Y L R 910
[High Court (AJ&K)]
Before Syed Shahid Bahar, J
MUHAMMAD KHALIQ---Appellant
Versus
GHULAM FATIMA and 4 others---Respondents
Civil Appeal No. 59 of 2017, decided on 19th June, 2023.
Specific Relief Act (I of 1877)---
----S. 12---Suit for specific performance of agreement to sell---Power of attorney---Scope---Suit filed by the plaintiff regarding agreement to sell/ transfer of proprietary rights qua suit property was dismissed---Allegedly, the agreement to sell was executed by the attorney of original owner in favour of appellant---Perusal of record revealed that regarding general power of attorney the authority had not been given to general attorney for executing agreement to sell to appellant by original owner---Script of power of attorney did not disclose that she was allowed to perform agreement to sell with someone through the said general power, moreover, in the general power of attorney she was not given power to sell the house or courtyard, whereas, through agreement to sell 10 Marla piece of land along with a concrete house and courtyard were sold in lieu of rupees ten lac (1000000/-rupees)---Report of Patwari revealed that total share of land of original owner and others had 1 kanal 10 marla 2 sarsahi, which had to be divided among four daughters in equal proportions---In such like situation, original owner had made an agreement from her share---As per stance/statement of appellant, the house was stated to be in possession of respondent, hence, it could be said that original owner performed the agreement regarding the house which was not in her possession---As far as the matter of cognovits given by original owner was concerned, respondent was not entitled under law to execute agreement to sell of the land measuring 10 Marlas along with house which was above her original share---If she had given the said cognovits in favour of appellant/plaintiff even then the same had no value in the eye of law---Circumstances established that the court below had not committed any illegality or irregularity while passing the impugned judgment and decree, hence, the appeal was dismissed accordingly.
Ch. Muhammad Ilyas for Appellant.
Zahid ul Hassan Chaudhary for Respondent No.1
