Absconder bail | The Supreme Court ordered the release of the petitioner on bail as no direct and strong evidence was found against him. 2024 S C M R 464
پانچ سال سے مفرور کی ضمانت
2024 S C M R 464 – سپریم کورٹ آف پاکستان
پس منظر کیس
یہ کیس Said Nabi کی طرف سے دائر Criminal Petition No. 104-P of 2023 ہے، جس میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی تھی، جس میں مقدمہ قتل اور دیگر جرائم سے متعلق تھا۔
جرم اور الزامات
ا۔ Penal Code 1860: Ss. 302 (قتل)، 324، 427، 148، 149، 337-A(ii) اور 337-F(ii)
ب۔ Criminal Procedure Code 1898, S. 497: ضمانت کے اصول
ج۔ مقدمہ مجرمانہ حملہ اور قتل کی کوشش سے متعلق تھا۔
د۔ الزامات عمومی نوعیت کے تھے اور پٹیشنر کے دو ساتھی، جن پر اسی طرح کے الزامات تھے، عدالت نے بری کر دیا تھا۔ تین دیگر ملزمان کو فریقین کے درمیان مصالحت کی بنیاد پر بریت دی گئی۔
ضمانت کی بنیاد
ا۔ باقی الزام صرف یہ تھا کہ پٹیشنر پانچ سال تک غائب رہا۔
ب۔ پٹیشنر کے قبضے سے کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔
ج۔ پٹیشنر کا معاملہ بری شدہ ساتھی ملزمان کے برابر تھا۔
د۔ اس صورتحال میں عدالت نے پٹیشنر کے لیے ضمانت کی سفارش کی۔
غائب ہونے (Abscondence) کا معاملہ
ا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ غائب ہونا ضمانت سے انکار کے لیے ایک فیکٹر ہے، لیکن اسے تنہا بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
ب۔ کسی قتل کے مقدمے میں نامزد شخص، چاہے درست یا غلط، اگر قانون سے فرار ہو جائے تو اس کا طبعی رویہ سمجھا جا سکتا ہے۔
ج۔ حوالہ جات:
- State v. Malik Mukhtar Ahmed Awan 1991 SCMR 322
- Rasool Muhammad v. Asal Muhammad 1995 SCMR 1373
- Muhammad Tasaweer v. Hafiz Zulkarnain PLD 2009 SC 53
فیصلہ
ا۔ سپریم کورٹ نے پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کر کے منظور کیا۔
ب۔ Said Nabi کو ضمانت دے دی گئی۔
ج۔ عدالت نے واضح کیا کہ پانچ سال کی غیر حاضری ضمانت سے انکار کے لیے واحد بنیاد نہیں ہو سکتی۔
سبق آموز نکات
ا۔ ضمانت کے فیصلے میں مجموعی حالات اور دیگر بری شدہ ملزمان کے فیصلے کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ب۔ غائب رہنا واحد وجہ نہیں کہ عدالت ضمانت سے انکار کرے۔
ج۔ عدالتی رویہ متوازن اور حقیقت پسندانہ ہونا چاہیے۔
یہ کیس 2024 S C M R 464 (سپریم کورٹ آف پاکستان) میں جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمد علی مزہر کے سامنے پیش ہوا۔ اس کیس میں درخواست گزار سعید نبی نے پشاور ہائی کورٹ کے آرڈر کے خلاف اپیل دائر کی تھی، جس میں ان کی درخواست برائے ضمانت مسترد کر دی گئی تھی۔
کیس کے مطابق،
درخواست گزار پر ایک عام نوعیت کا الزام تھا جس میں ان کے دو شریک ملزمان کو، جنہیں اسی طرح کے الزامات کا سامنا تھا، قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد بری کر دیا گیا تھا۔ دیگر تین ملزمان کو فریقین کے درمیان صلح کے تحت بری کیا گیا۔ درخواست گزار کے خلاف واحد الزام یہ تھا کہ وہ پانچ سال تک مفرور رہا، جبکہ اس کے قبضے سے کچھ بھی قابلِ اعتراض برآمد نہیں ہوا۔ لہٰذا، عدالت نے فیصلہ کیا کہ درخواست گزار ضمانت کا حقدار ہے، اور اس کی درخواست منظور کر لی گئی۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا
کہ مفرور ہونا ایک متعلقہ عنصر ضرور ہے، مگر اسے دیگر حالات سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا اور صرف اسی بنیاد پر کسی شخص کو غیر معینہ مدت کے لیے قید میں نہیں رکھا جا سکتا۔
