Government policy and interference of the courts 2024 S C M R 581.
عدالت پالیسی کے افادیت یا مناسبت پر رائے نہیں دے سکتی۔
پس منظر
فیڈرل سروس ٹریبونل نے فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان ریلوے کے ملازم محمد پرویز کو ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے پر دو پیشگی انکریمنٹس دیے جائیں، جو اس کی ڈگری کے حصول کی تاریخ سے مؤثر ہوں۔
پاکستان ریلوے نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ پیشگی انکریمنٹس کی پالیسی صرف عدالتوں یا عدالتی کام سے منسلک اداروں کے ملازمین پر لاگو ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ کے اہم نکات
1۔ پیشگی انکریمنٹس (Advance Increments) کا قانونی جواز
متعلقہ Standing Instruction No. 32، Estacode 2007 اور متعلقہ Office Memorandums کے مطابق، ایل ایل بی کی ڈگری پر پیشگی انکریمنٹس صرف عدالتوں کے ملازمین یا عدالتی کام سے براہِ راست منسلک اداروں کے اہلکاروں کے لیے ہیں۔
دو انکریمنٹس کی رقم ایل ایل بی کو ایم اے/ایم ایس سی کے مساوی شمار کی گئی۔
محمد پرویز کی خدمات عدالت یا عدالتی کام سے متعلق نہیں تھیں۔
اس کے علاوہ، اس نے ایم اے کی ڈگری پر پہلے ہی دو انکریمنٹس حاصل کر لیے تھے، اور پالیسی کے تحت اس کے بعد ایل ایل بی کے لیے مزید انکریمنٹس نہیں دیے جا سکتے۔
نتیجہ: فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا اور اپیل منظور کی گئی۔
2۔ عدالتی نظرِ ثانی (Judicial Review) اور پالیسی کے دائرہ کار
عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی نظرِ ثانی کا مقصد پالیسی کی مناسبت یا افادیت کا جائزہ لینا نہیں۔
عدالت صرف یہ دیکھ سکتی ہے کہ آیا پالیسی:
آئینی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے،
کسی قانونی شق کے متصادم ہے،
ظلم یا امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔
عدالت پالیسی کی افادیت، مناسبیت یا صلاحیت پر رائے نہیں دے سکتی، اور نہ ہی وہ ایگزیکٹو کی پالیسی سازی میں مشیر کے طور پر مداخلت کر سکتی ہے۔
عدالتی مداخلت صرف اس حد تک ہے کہ فیصلہ ساز نے قانون کی غلط تشریح کی ہو، غیر قانونی اختیارات استعمال کیے ہوں، یا اختیارات سے تجاوز کیا ہو (Ultra Vires)۔
خلاصۂ فیصلہ
ایل ایل بی کی ڈگری پر پیشگی انکریمنٹس صرف عدالتی اداروں یا عدالتی کام سے متعلق ملازمین کے لیے ہیں۔
ایم اے/ایم ایس سی کے بعد ایل ایل بی پر مزید انکریمنٹس نہیں دیے جا سکتے۔
فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا۔
عدالتی نظرِ ثانی کا دائرہ آئینی اور قانونی حدود تک محدود ہے، اور عدالت پالیسی کے افادیت یا مناسبت پر رائے نہیں دے سکتی۔
اردو خلاصہ:
اس مقدمے میں پاکستان ریلویز کے سینئر جنرل منیجر اور دیگر اپیل کنندگان نے محمد پرویز کے خلاف عدالت میں درخواست دی تھی، جو پاکستان ریلویز کے ملازم تھے۔ محمد پرویز نے فیڈرل سروس ٹریبیونل میں اپیل کی تھی، جس میں انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے پر اضافی انکریمنٹ کا مطالبہ کیا تھا۔ ٹریبیونل نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جسے پاکستان ریلویز نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔
اس کیس میں عدالت نے یہ قرار دیا کہ ایل ایل بی کی ڈگری پر اضافی انکریمنٹ صرف ان ملازمین کو دی جاتی ہے جو عدالتی کاموں یا انصاف کی فراہمی کے شعبے میں براہ راست ملوث ہیں۔ محمد پرویز کا یہ استدلال نہیں تھا کہ وہ عدالت یا انصاف کی فراہمی کے کام میں شامل تھے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی ملازم کو پہلے ہی ماسٹرز ڈگری پر انکریمنٹ دیا گیا ہے، تو اسے قانون کی ڈگری پر اضافی انکریمنٹ نہیں ملے گا۔
نتیجہ
عدالت نے مزید وضاحت کی کہ حکومتی پالیسیوں میں عدالت کا مداخلت کا دائرہ محدود ہے اور عدالت صرف اس وقت مداخلت کرسکتی ہے جب کوئی حکومتی پالیسی بنیادی حقوق، آئین یا کسی قانونی دفعات کی خلاف ورزی کرتی ہو یا صریحاً غیر منصفانہ ہو۔
چنانچہ عدالت نے فیڈرل سروس ٹریبیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل کنندگان کے حق میں فیصلہ دیا۔
