Rules Regarding Notice to Produce under Qanun-e-Shahadat.
![]() |
نوٹس برائے پیش کرنے کے قواعد
قانونِ شہادت 1984 کے آرٹیکل 77 کے مطابق کسی بھی دستاویز کے ثانوی شواہد پیش کرنے سے قبل ضروری ہے کہ جس کے پاس اصل دستاویز موجود ہو یا اس کا وکیل ہو، اسے نوٹس دیا جائے تاکہ وہ دستاویز پیش کر سکے۔ یہ نوٹس قانونی تقاضوں یا عدالت کی مناسب سمجھ کے مطابق ہونا چاہیے۔
نوٹس دینے کی استثناء کی صورتیں
عدالت نوٹس دینے کی شرط سے استثناء کر سکتی ہے اگر پیش کی جانے والی دستاویز خود نوٹس ہو، معاملے کی نوعیت یہ ہو کہ مخالف فریق بخوبی جانتا ہو کہ اسے دستاویز پیش کرنی ہوگی، یا اگر یہ ثابت ہو کہ مخالف فریق نے اصل دستاویز دھوکہ یا جبر کے ذریعے حاصل کی ہو۔ اسی طرح اگر مخالف فریق یا اس کا ایجنٹ عدالت میں اصل دستاویز کے ساتھ موجود ہو، یا دستاویز کے ضائع ہونے کا اعتراف کیا ہو، یا دستاویز رکھنے والا فریق عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہو، تو نوٹس کی شرط معاف کی جا سکتی ہے۔
اہم اصول
آرٹیکل 77 کا مقصد یہ ہے کہ ثانوی شواہد صرف تبھی قابل قبول ہوں جب مناسب نوٹس دیا گیا ہو اور عدالت صرف مخصوص حالات میں نوٹس کی شرط سے مستثنیٰ کر سکتی ہے تاکہ فریقین کے حقوق اور قانونی تقاضے برقرار رہیں۔
قانونِ شہادت 1984 کے آرٹیکل 77 کے تحت ثانوی شہادت اُس وقت تک پیش نہیں کی جا سکتی جب تک وہ فریق جس کے پاس اصل دستاویز موجود ہے یا اُس کے اٹارنی کو پہلے سے نوٹس نہ دیا گیا ہو۔ لیکن کچھ حالات میں نوٹس دینے کی ضرورت نہیں ہوتی، جیسے:
1. جب ثابت کرنے والی دستاویز خود ایک نوٹس ہو؛
2. جب معاملے کی نوعیت سے ظاہر ہو کہ مخالف فریق کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسے یہ دستاویز پیش کرنی ہو گی؛
3. جب ثابت ہو جائے کہ مخالف فریق نے اصل دستاویز دھوکہ یا زبردستی سے حاصل کی ہے؛
4. جب مخالف فریق یا اُس کا نمائندہ اصل دستاویز عدالت میں لے آئے؛
5. جب مخالف فریق یا اُس کے نمائندے نے دستاویز کے ضائع ہونے کا اقرار کیا ہو؛
6. جب دستاویز کا حامل شخص عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہو۔
2024 CLC 707: اس فیصلے کے تحت، آرٹیکل 77 کے مطابق ثانوی شہادت اس وقت تک پیش نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس فریق یا اس کے اٹارنی کو نوٹس نہ دیا جائے جس کے پاس دستاویز موجود ہے، البتہ اس کی ضرورت نہیں ہوتی اگر ثابت کرنے والی دستاویز خود ایک نوٹس ہو۔ [پشاور]
Must read Judgement
Qanun-E-Shahadat (10 of 1984)
Art. 77. Rules as to notice to produce: Secondary evidence of the contents of the
documents referred to in Article 76, paragraph (a), shall not be given unless the party proposing to give such secondary evidence has previously given to the party in whose possession or power the document is, or to his advocate, such notice to produce it as is prescribed by Law and, if no notice is prescribed by law, then such notice as the Court considers reasonable under the circumstances of the case:
Provided that such notice shall not be required in order to render secondary evidence admissible in any of the following cases, or in any other ease in which the Court thinks fit to dispense with it: —
(1) when the document to be proved is itself a notice ;
(2) when, from the nature of the case, the adverse party must know that he will be
required to produce it;
(3) when it appears or is proved that the adverse party has obtained possession of the original by fraud or force ;
(4) when the adverse party or his agent has the original in Court ;
(5) when the adverse party or his agent has admitted the loss of the document ;
(6) when the person in possession of the document is out of reach of, or not subject to, the process of the Court.
2024 CLC 707
----Art. 77---Rules as to notice to produce---Scope---Article 77 of the Qanun-e-Shahadat, 1984, stipulates that a person shall not be allowed to produce secondary evidence unless he gave a notice to the person or his advocate in whose possession such document is, however, giving such notice shall not be required where the document to be proved is itself a notice. [Peshawar]
Tags
secondary evidence
