Possession | The woman filed a claim against the defendant for possession of the property with the help of government officials, but the court dismissed the claim.
مقدمے کا تعارف
یہ مقدمہ 2024 CLC 1596 کے تحت سندھ ہائی کورٹ میں آیا جس میں مِسٹ صاحب خاتون المعروف صبان نے محمد رمضان کے خلاف سول ریویژن نمبر 1167 دائر کی۔ مقدمہ بنیادی طور پر غیر منقولہ جائیداد کے حوالے سے دعویٰ برائے اعلامیہ (declaration) اور مستقل احکامات (permanent injunction) سے متعلق تھا۔
فریقین اور پس منظر
درخواست گزارہ، مِسٹ صاحب خاتون، نے دعویٰ کیا کہ جائیداد میں اس کا حصہ ہے اور اس نے دعویٰ کیا کہ مدعی/respondent، محمد رمضان، نے رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ذریعے زمین پر غیر قانونی قبضہ کیا اور ریوینیو اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت کی۔ مدعی/respondent نے زمین پر قبضہ جاری رکھا اور اس پر ترقی کی، جو درخواست گزارہ کے علم میں تھی۔
اکوئیسنس (Acquiescence) کا اصول
ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ درخواست گزارہ نے طویل عرصے تک مدعی/respondent کو زمین میں رہنے دیا اور زمین پر قبضہ اور ترقی کرنے کی اجازت دی، جبکہ اس کے علم میں تھا کہ وہ زمین پر خود کار خرچ کر رہا تھا۔ اس رویے نے عدالت کے مطابق اکویسنس کے اصول کو جنم دیا، یعنی درخواست گزارہ نے بطور قانونی مالک اپنے حق کو تحفظ دینے کی بجائے مدعی کے قبضے کو تسلیم کیا۔ مزید برآں، کوئی ثبوت نہیں تھا کہ زمین کے پیداوار میں سے اس کا حصہ اسے ادا کیا جاتا رہا ہو۔
رجسٹرڈ سیل ڈیڈ اور ریوینیو اہلکار
درخواست گزارہ نے دعویٰ کیا کہ رجسٹرڈ سیل ڈیڈ مدعی/respondent نے ریوینیو اہلکاروں کے ملی بھگت سے حاصل کی، لیکن عدالت نے نوٹ کیا کہ کوئی ریوینیو اہلکار بطور مدعا علیہ شامل نہیں کیا گیا، جس سے دعویٰ ادھورا رہا۔ اس بنیاد پر عدالت نے کہا کہ صرف دعویٰ کرنا کافی نہیں، قانونی کارروائی کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو شامل کرنا ضروری ہے۔
عدالت کا تجزیہ
عدالت نے دیکھا کہ درخواست گزارہ نے زمین کے حق میں کوئی مؤثر قانونی اقدام نہیں اٹھایا اور مدعی/respondent نے زمین پر اپنے حقوق کے مطابق قبضہ کر رکھا تھا۔ ریکارڈ اور موجودہ حقائق کے مطابق مدعی/respondent نے زمین پر ترقی کی اور مستقل احکامات کے لیے دعویٰ کرنے والی درخواست گزارہ کے اقدامات ناکافی تھے۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ
ہائی کورٹ نے سول ریویژن نمبر 1167 میں درخواست گزارہ کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے کہا کہ اکویسنس کا اصول اور زمین پر مدعی/respondent کا مسلسل قبضہ، قانونی طور پر اس کے حق میں مؤثر ہے۔ رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے خلاف دعویٰ تبھی قابل غور تھا جب تمام متعلقہ فریقین، بشمول ریوینیو اہلکار، کو مقدمے میں شامل کیا گیا ہوتا۔
اہم قانونی نکات
اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ:
اگر کسی جائیداد میں حصہ دار طویل عرصے تک دوسرے فرد کو قبضہ کرنے دیتا ہے، تو اکویسنس کے اصول کے تحت اس کا حق محدود ہو سکتا ہے۔
رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے خلاف دعویٰ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریقین شامل ہوں، ورنہ دعویٰ ناقابل قبول ہوگا۔
زمین پر قبضے اور ترقی کے معاملات میں، طویل مدتی عدم مزاحمت قانونی تسلیم کے طور پر شمار کی جا سکتی ہے۔
کیس کا خلاصہ:
کیس میں مدعیہ (ایم ایسٹ ساہب خاتون) نے اپنے دعویٰ میں مستقل انجماد اور اعلامیہ کی درخواست دی تھی، جس میں انہوں نے غیر منقولہ جائیداد کے متعلق بیان کیا کہ مدعا علیہ (محمد رمضان) نے اس جائیداد پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق، مدعیہ نے مدعا علیہ کو جائیداد پر رہنے کی اجازت دی تھی، جس نے اصل میں مدعیہ کی جانب سے اس کی جائیداد میں تصرف کی تصدیق کی۔ یہ معاملہ قانونی اصول "اقوا سکینس" (Acquiescence) کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کے مطابق مدعیہ کی خاموشی اور عدم اقدام نے مدعا علیہ کو اس جائیداد کا خصوصی مالک سمجھنے کی اجازت دی۔
مدعیہ نے اپنی درخواست میں یہ بھی بیان کیا کہ مدعا علیہ نے ایک رجسٹرڈ فروخت نامہ کو سرکاری عہدیداروں کی سازش کے تحت تبدیل کر لیا، لیکن مدعیہ نے اس معاملے میں کسی سرکاری عہدیدار کو فریق نہیں بنایا۔ اس کے نتیجے میں، عدالت نے مدعیہ کے دعویٰ کی قانونی بنیاد پر سوال اٹھایا۔
یہ مقدمہ Mst. Sahib Khatoon alias Saban بمقابلہ Muhammad Ramzan کے تحت آیا تھا اور اس کی سماعت Civil Revision No. 1167 کے تحت کی گئی۔ فیصلے میں مدعیہ کی درخواست کے نتیجے میں عدم کامیابی ہوئی۔
Must read part of judgement
Suit for declaration and permanent injunction in respect of immoveable property---Acquiescence, -----principle of Record showed that the act of the petitioner of allowing the respondents to remain in possession of the suit property attracted the principle of acquiescence on her part in the respondent's title to the suit property thereby allowing him to deal with it as exclusive owner and for developing it at his own expense over a period of time while within the knowledge of the plaintiff, because she could not bring on record anything showing that the share of produce used to be paid to her by the respondent-Another aspect in the case was that petitioner in her plaint stated that the disputed registered sale deed was amested by the respondent in his favour in connivance with revenue officials, however, no revenue official was impleaded or arrayed as defendant by the petitioner in the suit-
Mst. SAHIB KHATOON alias SABAN versus MUHAMMAD RAMZAN
Civil Revision No. 1167
2024 CLC 1596
Tags
limitation
