Land acquisition | .The late father sold the land to the government in his lifetime and the children filed a case for compensation. 2024 C L C 239.
![]() |
| The late father sold the land to the government in his lifetime and the children filed a case for compensation.. |
عدالت نے اپیل کنندگان کے دعویٰ کو مسترد کر دیا، کیونکہ وہ اپنے والد کی زمین کی ملکیت کو ثابت کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ سے انہیں معاوضے کا حق بھی نہیں ملا۔ یہ فیصلہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ زمین کے حصول کے معاملات میں دعویداروں کو بروقت کارروائی اور مستند شواہد پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔
مقدمے کا تعارف
یہ مقدمہ سندھ ہائی کورٹ (سکھر بنچ) میں فیصلہ 2024 CLC 239 کے تحت آیا۔ اس میں اسد علی خان اور دیگر اپیل کنندگان نے دی کنزرویٹر آف فارسٹ اور دیگر کے خلاف پہلی سول اپیلز نمبر D-6، D-7 اور D-11 آف 2005 دائر کی تھیں، جن کا فیصلہ 11 مئی 2022 کو سنایا گیا۔ مقدمے کا تعلق لینڈ ایکوزیشن ایکٹ، 1894 کے تحت زمین کی حصولی اور معاوضے کے دعووں سے تھا۔
فریقین اور پس منظر
اپیل کنندگان نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد کی ملکیت میں تقریباً 2.60 ایکڑ زمین تھی جو WAPDA نے حاصل کر لی تھی، لیکن ان کو کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔ وہ ہائی کورٹ سے زمین کی ملکیت اور معاوضے کے دعوے کا از سر نو جائزہ چاہتے تھے۔ جواب دہندگان کا موقف تھا کہ اپیل کنندگان نے زمین کی ملکیت کو ثابت نہیں کیا اور اس لیے معاوضہ کا دعویٰ مسترد ہونا چاہیے۔
مقدمے کی نوعیت
یہ مقدمہ بنیادی طور پر اپیل کنندگان کے معاوضے کے دعوے کے گرد گھومتا تھا۔ اپیل کنندگان نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے والد کی زمین حاصل کی گئی اور ان کے والد نے اس معاوضے کے لیے کبھی کوئی دعویٰ نہیں کیا، جس کی وجہ سے وہ عدالت سے رجوع کر رہے ہیں۔ عدالت نے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا اپیل کنندگان نے قانونی طور پر زمین کی ملکیت اور معاوضے کا دعویٰ ثابت کیا یا نہیں۔
ٹرائل اور ریفرنس کی کارروائی
ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ اپیل کنندگان کے والد 1996 میں انتقال کر گئے، جبکہ زمین 1974، 1985 اور 1989 میں حاصل کی گئی تھی۔ اس دوران اپیل کنندگان نے کسی بھی اتھارٹی کے سامنے دعویٰ دائر نہیں کیا اور نہ ہی لینڈ ایکوزیشن آفیسر کے سامنے کسی ریفرنس کی کاروائی مکمل کی۔ انہوں نے صرف آفس آف اومبڈسمین کے ذریعے شکایت دائر کی، جو کہ خصوصی قانون کے تحت کسی خاص دائرہ کار میں محدود تھا۔
اپیل کنندگان کے دلائل
اپیل کنندگان نے دعویٰ کیا کہ انہیں معاوضہ نہیں دیا گیا اور ان کے والد کی زمین کی ملکیت ثابت کرنی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لینڈ ایکوزیشن آفیسر کے سامنے ریفرنس دائر کیا گیا تھا، لیکن ریکارڈ اس کی تفصیلات فراہم نہیں کرتا۔ اپیل کنندگان نے یہ دعویٰ کیا کہ زمین خریدی گئی تھی اور اس کی ملکیت ان کے والد کے پاس تھی۔
عدالت کا تجزیہ
عدالت نے اپیل کنندگان کے دلائل کا جائزہ لیا اور پایا کہ اصل مالک کی ملکیت کو ثابت کرنا ضروری ہے۔ اپیل کنندگان نے نہ تو زمین کی خریداری کے دستاویزات فراہم کیے، نہ ہی کوئی رجسٹریشن شدہ سیل ڈیڈ پیش کی۔ موجودہ ریکارڈ کے مطابق زمین کی ملکیت زراعتی محکمہ کے نام تھی، اور اپیل کنندگان نے اس حقیقت کو ثابت کرنے میں ناکامی دکھائی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ Mutation entry، جو 1990 میں درج کی گئی، زمین کی اصل ملکیت کے لیے قابل قبول ثبوت نہیں تھی اور یہ زمین کے حصول کے وقت (1974، 1985، 1989) سے متعلق نہیں تھی۔
قانونی اصول اور حوالہ جات
عدالت نے کہا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت معاوضے کا دعویٰ کرنے والا شخص اپنی زمین کی ملکیت کو ثابت کرے۔ Mutation entry یا کسی غیر قانونی بنیاد پر زمین کے حقوق کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہے۔ عدالت نے مقدمے میں مختلف سابقہ فیصلوں جیسے Ghulam Muhammad v. Government of West Pakistan PLD 1967 SC 191 اور دیگر کا حوالہ دیا کہ معاوضے کے دعوے کے لیے زمین کی ملکیت یا موثر قبضہ ثابت کرنا لازمی ہے۔
ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ
ہائی کورٹ نے اپیل کنندگان کی اپیل مسترد کر دی۔ عدالت نے کہا کہ اپیل کنندگان نے زمین کی ملکیت اور معاوضے کا دعویٰ ثابت کرنے میں ناکامی دکھائی، اور پہلے سے حاصل شدہ ریکارڈ اور دستاویزات کے مطابق زمین کی ملکیت زراعتی محکمہ کے نام تھی۔ عدالت نے ٹرائل اور ریفرنس کی کارروائیوں کو برقرار رکھا اور اپیل کنندگان کی درخواست مسترد کر دی۔
اہم قانونی نکات
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت معاوضے کے دعوے کے لیے دعویٰ کرنے والے شخص کو زمین کی اصل ملکیت اور دستاویزی ثبوت فراہم کرنا لازمی ہے۔ صرف Mutation entries یا غیر رجسٹرڈ معاہدوں کی بنیاد پر دعویٰ قابل قبول نہیں ہوتا۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ دیر سے یا غیر مؤثر قانونی کارروائی دعوے کو مسترد کرنے کے لیے کافی ہے۔
کیس کی پوری کہانی:
اس کیس میں اپیل کنندگان، یعنی اسد علی خان اور دیگر، نے زمین کے معاوضے کے لیے عدالت سے رجوع کیا جس کی ملکیت ان کے مرحوم والد کی تھی۔ یہ زمین تقریباً 2.60 ایکڑ تھی اور اس کی حصولیابی WAPDA (واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی) نے 1974، 1985، اور 1989 میں کی تھی۔ اپیل کنندگان کا دعویٰ تھا کہ یہ زمین ان کے والد کی ملکیت تھی اور ان کے والد کو اس کے بدلے کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔
جب یہ کیس عدالت میں پیش ہوا تو یہ نکات سامنے آئے:کارڈ: عدالت نے یہ دیکھا کہ جس زمین کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، وہ دراصل زرعی محکمے کے نام پر تھی۔ اپیل کنندگان نے یہ ثابت کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا کہ یہ زمین کسی وقت ان کے والد کے پاس رہی۔
2. دستاویزی شواہد کی کمی: اپیل کنندگان نے کوئی مستند دستاویزات یا شواہد پیش نہیں کیے جو یہ ثابت کریں کہ ان کے والد اس زمین کے قانونی مالک تھے۔
3. معاوضے کی عدم درخواست: اپیل کنندگان یہ واضح نہیں کر سکے کہ ان کے والد نے زمین کی حصولیابی کے وقت معاوضے کے لیے کیوں درخواست نہیں دی، حالانکہ وہ اس وقت زندہ تھے۔
4. تاریخ میں تاخیر: اپیل کنندگان نے کئی سال بعد یہ معاملہ اٹھایا، جس نے ان کے دعویٰ کی مضبوطی کو کمزور کر دیا۔
5. دعویٰ کی ناکامی: عدالت نے ان تمام وجوہات کی بنا پر اپیل کنندگان کے دعویٰ کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی شخص کو معاوضہ کا حق حاصل کرنے کے لیے اپنی ملکیت ثابت کرنا ضروری ہے، اور اپیل کنندگان اس میں ناکام رہے۔
نتیجہ:
عدالت نے اپیل کنندگان کے دعویٰ کو مسترد کر دیا، کیونکہ وہ اپنے والد کی زمین کی ملکیت کو ثابت کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ سے انہیں معاوضے کا حق بھی نہیں ملا۔ یہ فیصلہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ زمین کے حصول کے معاملات میں دعویداروں کو بروقت کارروائی اور مستند شواہد پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔
