G-KZ4T1KYLW3
سی ڈی اے، ایم سی آئی اور یونین کونسلز کے اشتہاری چارجز کالعدم
(2024 MLD 261، اسلام آباد ہائی کورٹ – انٹرا کورٹ اپیل)
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ (جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان) نے ایک نہایت اہم اور اصولی فیصلہ دیتے ہوئے Capital Development Authority (CDA)، Metropolitan Corporation Islamabad (MCI) اور Union Councils کی جانب سے عائد کردہ اشتہاری چارجز کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ خاص طور پر ان تمام کمپنیوں اور کاروباری اداروں کے لیے نہایت اہم ہے جو سائن بورڈز، بل بورڈز، ہورڈنگز وغیرہ کے ذریعے تشہیر کرتے ہیں۔
Shell Pakistan Limited کو مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے اشتہارات کے نام پر بھاری رقوم کے ڈیمانڈ نوٹسز موصول ہوئے۔
ان نوٹسز کی بنیاد یہ تھی کہ:
اشتہارات پر نئی ریٹس لاگو کی گئی تھیں
نوٹیفکیشن S.R.O. 1022(I)/2014 کے تحت فیس میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا
ریونیو بڑھانا اصل مقصد قرار دیا گیا
شیل پاکستان نے ان نوٹسز کو عدالت میں چیلنج کیا۔
عدالت کے سامنے اصل سوال یہ تھا:
کیا اشتہارات پر عائد کردہ یہ چارجز "فیس" ہیں یا "ٹیکس"؟
اور اگر یہ ٹیکس ہیں تو:
کیا انہیں قانون کے مطابق نافذ کیا گیا؟
عدالت کے اہم قانونی نکات
عدالت نے واضح کیا کہ:
فیس (Fee) صرف اسی صورت جائز ہے جب:
اس کا تعلق کسی سروس کی لاگت سے ہو
Quid Pro Quo (یعنی سروس کے بدلے ادائیگی) ثابت ہو
جبکہ ٹیکس (Tax) لگانے کے لیے:
واضح قانونی اختیار
لازمی قانونی طریقہ کار
متعلقہ آرڈیننس کی شرائط کی مکمل پابندی ضروری ہے
2. S.R.O. 1022(I)/2014 اور 2008 کی ترامیم غیر قانونی
عدالت نے قرار دیا کہ:
اشتہاری ریٹس میں اضافہ:
کسی Cost Center کی بنیاد پر نہیں تھا
سروس کی لاگت ظاہر نہیں کی گئی
محض ریونیو بڑھانے کے لیے کیا گیا
یہ فیس نہیں بلکہ درحقیقت ایک غیر اعلانیہ ٹیکس تھا
3. Section 15-A CDA Ordinance کی خلاف ورزی
عدالت نے کہا کہ:
CDA Ordinance, 1960 کی دفعہ 15-A
Municipal Administration Ordinance, 1960 کی دفعہ 33
کے تحت:
ٹیکس لگانے سے پہلے مخصوص قانونی شرائط پوری کرنا لازمی تھا
جو یہاں پوری نہیں کی گئیں
اسی بنیاد پر:
نوٹیفکیشن اور ریگولیشنز کو void ab initio قرار دیا گیا
عدالت نے سخت الفاظ میں کہا:
ریگولیشن 14 خود تسلیم کرتی ہے کہ:
فیس بڑھانے کا مقصد ریونیو میں اضافہ تھا
جبکہ:
سروس کی لاگت میں اضافے کا کوئی ثبوت موجود نہیں
یہ طرز عمل:
سپریم کورٹ کے مستقل عدالتی اصولوں کے منافی ہے
یونین کونسلز اور ایم سی آئی کے مطالبات
عدالت نے واضح کیا کہ:
Islamabad Local Government Act, 2015 کے تحت:
ٹیکس لگانے کے لیے مخصوص قانونی تقاضے ہیں
یونین کونسلز اور ایم سی آئی نے:
ان تقاضوں کی مکمل خلاف ورزی کی
لہٰذا:
ان کے تمام ڈیمانڈ نوٹسز بھی غیر قانونی قرار دیے گئے
عدالت کا حتمی فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے:
Intra Court Appeal منظور کر لی
تمام:
ڈیمانڈ نوٹسز کالعدم
زبردستی وصول کی گئی رقوم
بینک گارنٹیز
کو:
ادائیگی کرنے والوں کو واپس کرنے کا حکم دیا
اہم قانونی اصول (Legal Takeaways)
سرکاری ادارے:
فیس کے نام پر ٹیکس نہیں لگا سکتے
فیس کا:
سروس کی لاگت سے براہِ راست تعلق ہونا ضروری ہے
محض ریونیو بڑھانا:
فیس عائد کرنے کی قانونی بنیاد نہیں
ریگولیٹری اداروں کو:
Cost Center واضح کرنا ہوگا
یہ فیصلہ نہ صرف اشتہاری کمپنیوں بلکہ تمام کاروباری اداروں کے لیے ایک مضبوط قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ عدالت نے واضح پیغام دیا ہے کہ:
قانون کے بغیر کوئی فیس یا ٹیکس جائز نہیں
یہ فیصلہ مستقبل میں CDA، MCI اور دیگر بلدیاتی اداروں کی مالی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
![]() |
| Shell Limited vs CDA The government sought charges for the billboards Shell filed an appeal against the advertisement charges of (CDA) and other agencies. Th 2024 M L D 261 |
2024 M L D 261
[Islamabad]
Before Mohsin Akhtar Kayani and Sardar Ejaz Ishaq Khan, JJ
SHELL PAKISTAN LIMITED, KARACHI through Authorized Attorney---Appellant
Versus
CAPITAL DEVELOPMENT AUTHORITY through Chairman, Islamabad and 2 others---Respondents
Intra Court Appeal No. 130 of 2015, decided on 31st August, 2023.
Capital Development Authority Ordinance (XXIII of 1960)---
----Ss. 15-A & 51---Municipal Administration Ordinance (X of 1960), S. 33---Islamabad (Control of Advertisements) Regulations, 1977, Reglns. 9(3) & 14--- Notification S.R.O. 1022(I)/2014, dated 12.11.2014---Charges for advertisements---Recovery notices---Appellant company was aggrieved of demand notices issued by Capital Development Authority (CDA), National Highway Authority (NHA), Union Councils and Metropolitan Corporation of Islamabad (MCI) for advertisement charges by way of signboards, billboards, hoardings, etc.---Validity---
Federation of Pakistan v. Durrani Ceramics and others 2014 SCMR 1630; Pakcom Limited v. Federation of Pakistan PLD 2011 SC 44; Khurshid Soap and Chemical Industries (Private) Limited v. Federation of Pakistan PLD 2020 SC 641; Secundrabad Hyderabad Hotel Owners Association v. Hyderabad Municipal Corporation and others AIR 1999 SC 635; University of Malakand v. Dr. Alam Zeb and others 2021 SCMR 678; Workers Welfare Fund v. East Pakistan Chrome Tannery PLD 2017 SC 28 and Mrs. Bilquis Anwar Khan and others v. Pakistan and others 2001 SCMR 809 rel.
Salim-ur-Rehman, Ali Sibtain Fazli, Muhammad Ilyas Sheikh, Raja Muqsit Nawaz, Habib Ahmad Bhatti, Abad-ur-Rehman, Ehsan Ali Qazi, Malik Muhammad Siddique Awan, Rizwan Faiz Muhammad, Haseeb Shakoor Paracha, Abdul Hameed Baloch and Mst. Zainab Janjua for Appellant.
Muhammad Nazir Jawad, Amir Latif Gill, Muhammad Atif Khokhar, Syed Qamar Hussain Sabzwari and Ms. Mehraj Tareen for Respondents.