![]() |
| 2024 M L D 238 |
1. ضمانت منسوخی کا اصول: ضمانت تب ہی منسوخ کی جا سکتی ہے جب ضمانت دینے کا حکم ظالمانہ ہو یا اس میں واضح غیر قانونی عمل شامل ہو۔
2. ایف آئی آر میں تاخیر: وقوعہ کا وقت 1:00 بجے بتایا گیا لیکن ایف آئی آر 5:20 بجے درج کی گئی، جس میں 4 گھنٹے اور 20 منٹ کی تاخیر کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔ اس سے ملزمان کے نام شامل کرنے میں غور و فکر اور مشاورت کا عنصر خارج نہیں کیا جا سکتا۔
3. فریقین میں دیوار کی تعمیر پر تنازعہ: ریکارڈ سے پتہ چلا کہ فریقین کے درمیان دیوار یا مکان کی تعمیر پر ایک سول تنازعہ موجود تھا۔
4. طبی رپورٹ اور دفعات: طبی سرٹیفکیٹ میں صرف ایک چوٹ دکھائی گئی جو زیادہ سے زیادہ دفعہ 337-A(i) کے تحت آتی تھی، جو کہ قابلِ ضمانت جرم ہے۔ دفعہ 337-D اور 337-F اس کیس میں لاگو نہیں ہوئیں۔
5. ضمانت کی تصدیق: ٹرائل کورٹ نے عبوری ضمانت کی توثیق کے لیے ٹھوس وجوہات دیں اور ضمانت کے غلط استعمال کا کوئی ثبوت یا گواہ کا حلفیہ بیان نہیں تھا۔
6. فیصلہ: ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
7. حوالہ جات:
2005 SCMR 1539
2009 SCMR 786
جمال الدین کیس 1983 SCMR 1979
میران بخش بمقابلہ ریاست PLD 1989 SC 347
Tags
Cancelation of Bail
