Gift Cancelled | The Supreme Court held that the validity of the document requires proper acceptance, presence of parties, and effective evidence.
![]() |
| The Supreme Court held that the validity of the document requires proper acceptance, presence of parties, and effective evidence, otherwise such documents can be declared void. 2024 S C M R 24 |
حقیقی قبولیت، قبضہ اور شہادت کے بغیر کوئی ھبہ قابلِ نفاذ نہیں ہوتا۔
1۔ قانونی اصول (2024 SCMR 24)
(ا) سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسی دستاویز کی قانونی حیثیت کے لیے اس کا صحیح طور پر قبول کیا جانا، فریقین کی موجودگی، اور مؤثر شہادت لازمی ہے۔
(ب) اگر یہ بنیادی شرائط پوری نہ ہوں تو ایسی دستاویز قانوناً باطل (Void) قرار دی جا سکتی ہے۔
(ج) محض رجسٹریشن کسی دستاویز کو خود بخود درست اور قابلِ نفاذ نہیں بناتی۔
2۔ مقدمے کا پس منظر
(ا) یہ معاملہ ایک ھبہ نامہ کے گرد گھومتا ہے جسے ایک بہن (مسٹ۔ طاہرہ سمینہ) نے اپنے چھوٹے بھائی کے خلاف چیلنج کیا۔
(ب) مدعا علیہ بیرونِ ملک (برطانیہ) مقیم تھا اور اس نے مالی حیثیت ظاہر کرنے کے لیے بہن سے ایک گھر کا ھبہ نامہ دستخط کروایا۔
(ج) اس وقت ھبہ کا مقصد ملکیت کی حقیقی منتقلی نہیں بلکہ محض دستاویزی سہولت حاصل کرنا تھا۔
3۔ تنازعے کی بنیاد
(ا) تقریباً 20 سال بعد مدعا علیہ نے اسی ھبہ نامہ کی بنیاد پر جائیداد اپنے نام منتقل کروانے کی کوشش کی۔
(ب) اس اقدام پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ دستخط کے وقت موجود نہیں تھی اور نہ ہی ھبہ کی شرعی و قانونی شرائط پوری ہوئیں۔
(ج) اسی بنیاد پر ھبہ نامہ کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی گئی۔
4۔ عدالت کا قانونی تجزیہ
(ا) عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مدعا علیہ پاکستان میں موجود ہی نہیں تھا، اس لیے ھبہ کی پیشکش (Offer) اور قبولیت (Acceptance) ممکن ہی نہ تھی۔
(ب) جائیداد کی ملکیت یا بیرونِ ملک سے رقوم بھیجنے کا کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
(ج) والدہ، جو مبینہ طور پر گواہ تھیں، انہیں کسی بھی فریق نے بطور گواہ پیش نہیں کیا۔
5۔ اسلامی قانونِ ھبہ کے تقاضے
(ا) عدالت نے ڈی ایف ملا کے مطابق اسلامی قانون کے تحت ھبہ کے تین بنیادی اجزاء پر زور دیا:
(ا) پیشکش
(ب) قبولیت
(ج) قبضہ کی منتقلی
(ب) عدالت نے قرار دیا کہ یہ تینوں اجزاء اس مقدمے میں ثابت نہیں ہو سکے۔
(ج) لہٰذا ھبہ نامہ شرعاً اور قانوناً غیر مؤثر تھا۔
6۔ حدِ معیاد (Limitation) کا نکتہ
(ا) اگرچہ ھبہ نامہ 20 سال پرانا تھا، مگر اس کے خلاف دعویٰ اس وقت دائر کیا گیا جب اسے پہلی مرتبہ درخواست گزار کے خلاف استعمال کیا گیا۔
(ب) کینٹونمنٹ ریکارڈ میں انتقال درج کروانا سببِ دعویٰ (Cause of Action) بنا۔
(ج) عدالت نے قرار دیا کہ مقدمہ بروقت دائر کیا گیا تھا اور حدِ معیاد کی پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
7۔ حتمی فیصلہ
(ا) سپریم کورٹ نے درخواستیں منظور کرتے ہوئے اپیلوں میں تبدیل کیں۔
(ب) ھبہ نامہ کو کالعدم قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا۔
(ج) مدعا علیہ کے حق میں دیا گیا فیصلہ غیر قانونی قرار دے کر ختم کر دیا گیا۔
8۔ قانونی اہمیت
(ا) یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ ھبہ میں محض کاغذی کارروائی کافی نہیں۔
(ب) حقیقی قبولیت، قبضہ اور شہادت کے بغیر کوئی ھبہ قابلِ نفاذ نہیں ہوتا۔
(ج) یہ فیصلہ مستقبل میں جعلی یا نمائشی ھبہ ناموں کے خلاف ایک مضبوط نظیر ہے۔
یہ کہانی ایک قانونی تنازعے کے گرد گھومتی ہے جس میں ایک شخص نے اپنے بھائی کے خلاف ایک ھبہ (گفٹ) کے نامہ کو چیلنج کیا۔
کہانی کا خلاصہ:
کردار: درخواست گزار (مسٹ۔ طاہرہ سمینہ) اور ان کا چھوٹا بھائی (مدعا علیہ) شامل ہیں۔
مقدمہ: مدعا علیہ نے درخواست گزار سے ایک گھر کے لیے ھبہ نامہ دستخط کروایا، جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ مالی حیثیت کو ثابت کرنے کے لیے اسے استعمال کرے۔
مدت: 20 سال بعد، جب مدعا علیہ نے اس ھبہ نامہ کی بنیاد پر جائیداد اپنے نام منتقل کرنے کی کوشش کی تو درخواست گزار نے اس عمل کو چیلنج کیا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ دستخط کرتے وقت موجود نہیں تھا اور ھبہ کی تمام قانونی شرائط پوری نہیں ہوئیں۔
تجزیہ: عدالت نے دیکھا کہ نہ تو مدعا علیہ نے جائیداد کی حقیقی ملکیت کی ثبوت فراہم کیا اور نہ ہی وہ پاکستان میں موجود تھا جب یہ ھبہ نامہ تیار ہوا تھا۔
نتیجہ:
عدالت نے درخواست گزار کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ھبہ نامہ کو کالعدم قرار دیا اور اس کے نتیجے میں مدعا علیہ کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔
یہ کہانی بنیادی طور پر قانونی شرائط کی عدم موجودگی اور اہل و بیل کی غیر موجودگی کی بنیاد پر ایک شخص کے حقوق کی حفاظت کے بارے میں ہے۔
Must read judgement
2024 S C M R 24
