Right of a Defendant to Cross-Examine a Co-Defendant in Case of Conflict of Interest — Scope of Articles 132 & 150, Qanun-e-Shahadat, 1984.
شریک مدعا علیہ پر جرح کا حق — لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
(2024 C L C 57)
پیرا نمبر 1: تعارف
لاہور ہائیکورٹ نے مقدمہ عطاء محمد بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج و دیگر میں قانونِ شہادت 1984 کے آرٹیکل 132 اور 150 کی تشریح کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ کن حالات میں ایک مدعا علیہ کو اپنے ہی شریک مدعا علیہ پر جرح (Cross-examination) کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔
پیرا نمبر 2: مقدمے کا پس منظر
مدعی کی جانب سے دائر دعویٰ میں درخواست گزار اور ایک خاتون دونوں مدعا علیہ تھے۔ دیگر مدعا علیہان نے درخواست گزار کے مؤقف کی حمایت کی، تاہم مذکورہ خاتون مدعا علیہ نے نہ صرف مدعی کے دعویٰ کی تائید کی بلکہ بطور دفاعی گواہ بھی مدعی کے مؤقف کے مطابق بیان دیا۔
پیرا نمبر 3: تنازعہ کی نوعیت
درخواست گزار نے اس خاتون مدعا علیہ پر جرح کی اجازت طلب کی، کیونکہ اس کا بیان درخواست گزار کے مفاد کے خلاف تھا۔ ٹرائل کورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی، جسے اپیلیٹ کورٹ نے بھی برقرار رکھا، جس کے خلاف آئینی درخواست دائر کی گئی۔
پیرا نمبر 4: بنیادی قانونی سوال
ہائی کورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ:
کیا ایک مدعا علیہ کو اپنے شریک مدعا علیہ پر جرح کرنے کا حق حاصل ہے؟
اور اگر ہے تو کن حالات میں؟
پیرا نمبر 5: آرٹیکل 132 کی تشریح
عدالت نے آرٹیکل 132(2) قانونِ شہادت کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ جرح وہ امتحان ہے جو adverse party یعنی مخالف مفاد رکھنے والا فریق کرتا ہے۔
عدالت نے Black’s Law Dictionary کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ adverse party وہ فریق ہوتا ہے جس کا مفاد دوسرے فریق کے مفاد کے برعکس ہو۔
پیرا نمبر 6: شریک مدعا علیہ بھی Adverse Party ہو سکتا ہے
عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ قانونِ شہادت میں واضح طور پر شریک مدعا علیہ پر جرح کا ذکر نہیں، لیکن جہاں:
شریک مدعا علیہ کا بیان
دوسرے مدعا علیہ کے مفاد کے خلاف ہو
تو وہ شریک مدعا علیہ adverse party کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
پیرا نمبر 7: جرح کا مقصد اور اہمیت
عدالت نے واضح کیا کہ:
کسی بھی ایسے بیان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا
جو بیان مخالف مفاد کے خلاف ہو
جب تک متعلقہ فریق کو جرح کا مکمل موقع نہ دیا جائے
جرح کے بعد ہی شہادت قابلِ قبول (Admissible) بنتی ہے۔
پیرا نمبر 8: آرٹیکل 150 اور عدالتی اختیار
ہائی کورٹ نے آرٹیکل 150 قانونِ شہادت کی روشنی میں قرار دیا کہ عدالت کو وسیع اختیار حاصل ہے کہ:
اگر گواہ کا بیان بلانے والے فریق کے خلاف ہو
یا توقع کے برعکس ہو
تو عدالت اسے hostile witness قرار دے کر جرح کی اجازت دے سکتی ہے۔
پیرا نمبر 9: لاکونا پُر کرنے کی ممانعت
عدالت نے اہم اصول بیان کیا کہ:
جرح کی اجازت صرف اس لیے نہیں دی جا سکتی کہ فریق اپنی شہادت کی کمزوری (lacuna) پوری کرے
تاہم، اگر ابتدا ہی سے گواہ کا مؤقف مخالف ہو تو ایسی اجازت لاکونا پُر کرنے کے مترادف نہیں سمجھی جائے گی۔
پیرا نمبر 10: موجودہ مقدمے کے حقائق
عدالت نے نوٹ کیا کہ:
درخواست گزار اپنا دفاعی ثبوت پہلے ہی مکمل کر چکا تھا
خاتون مدعا علیہ کا بیان بعد میں ریکارڈ ہوا
اس کے تحریری بیان سے پہلے ہی واضح تھا کہ وہ درخواست گزار کے حق میں بیان نہیں دے گی
لہٰذا اسے hostile قرار دینا اور جرح کی اجازت دینا لاکونا پُر کرنا نہیں تھا۔
پیرا نمبر 11: ماتحت عدالتوں کی قانونی غلطی
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:
ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ نے جرح کی اجازت نہ دے کر
قانونی اختیار سے تجاوز کیا
اور ان کے احکامات قانون کے مطابق نہیں تھے۔
پیرا نمبر 12: حتمی فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ نے:
ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیے
ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کو شریک مدعا علیہ پر جرح کی اجازت دی جائے
یوں آئینی درخواست منظور کر لی گئی
پیرا نمبر 13: اصولِ قانون (Ratio Decidendi)
اس فیصلے سے یہ اصول مستحکم ہوا کہ:
جب کسی شریک مدعا علیہ یا گواہ کا بیان دوسرے فریق کے مفاد کے خلاف ہو تو، مفاد کے تصادم (Conflict of Interest) کی صورت میں، اسے adverse party سمجھتے ہوئے جرح کا حق دیا جانا لازم ہے۔
![]() | |||
| . | C |
خلاصہ
عدالت نے قرار دیا کہ مدعا علیہ کو دوسرے مدعا علیہ پ
ر جرح کا حق دیا جانا چاہیے، جب کہ گواہ کا بیان اس کے مفادات کے خلاف ہو، اور اس حوالے سے نچلی عدالتوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جرح کی اجازت دی۔
قانونی سوال
اس مقدمے میں سوال یہ تھا کہ کیا ایک مدعا علیہ دوسرے مدعا علیہ کو جرح کرنے کا حق رکھتا ہے؟ ایک مقدمے میں، مدعی (Plaintiff) نے مقدمہ دائر کیا، اور درخواست گزار ایک مدعا علیہ تھا۔ ایک خاتون مدعا علیہ نے مدعی کے حق میں بیان دیا جبکہ دیگر مدعا علیہان نے درخواست گزار کی حمایت کی۔ درخواست گزار نے اس خاتون مدعا علیہ کو جرح کرنے کی درخواست دی، لیکن اسے ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ دونوں نے مسترد کر دیا۔
جرح کا حق
عدالت نے قرار دیا کہ قانون شہادت 1984 میں کوئی خاص دفعہ ایسی نہیں جو مدعا علیہ کو دوسرے مدعا علیہ پر جرح کرنے کی اجازت دے، لیکن قانونی اصول یہ ہے کہ اگر کوئی گواہ کسی پارٹی کے خلاف بیان دیتا ہے، تو اس پارٹی کو جرح کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔ جب تک گواہ پر جرح نہ کی جائے، اس کا بیان قابل قبول نہیں ہوتا۔ اگر مدعا علیہ اور دوسرے مدعا علیہ کے مفادات میں تضاد ہو تو جرح کا حق دیا جانا ضروری ہے۔
عدالت کی صوابدید
عدالت نے یہ بھی کہا کہ جب ایک گواہ پہلے دیے گئے بیان سے منحرف ہو جائے، یا اس کا بیان اس کی امید کے برعکس ہو، تو اسے مخالف پارٹی کے طور پر جرح کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ تاہم، جرح کا حق عدالت کی صوابدید پر ہے، اور اسے دانشمندی سے استعمال کیا جانا چاہیے۔
اس کیس میں، درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ دوسری مدعا علیہ کا بیان اس کے مفادات کے خلاف ہے، اس لیے اسے جرح کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔ عدالت نے نچلی عدالتوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ درخواست گزار کو جرح کی اجازت دی جائے۔
