2 cases on same topic | The Lahore High Court held that the 2016 case is connected with the pending case of 2009.
پہلے درج مقدمے کے اثر میں نئی درخواست کی سماعت: S.10 C.P.C. اور Specific Relief Act کے اطلاق پر عدالت عالیہ سندھ کا فیصلہ
تعارف:
سندھ ہائی کورٹ نے 19 جنوری 2023 کو فیصلے میں یہ واضح کیا کہ اگر کوئی نئی دعویٰ اسی موضوع یا نوعیت کے مقدمے سے متعلق ہو جس کا فیصلہ پہلے سے زیر سماعت ہو، تو سیکشن 10، C.P.C. کے تحت عدالت اسے معطل یا مسترد کرنے کا حق رکھتی ہے۔
قانونی پس منظر:
سیکشن 10، C.P.C. کا مقصد عدالتوں کو یہ پابند کرنا ہے کہ وہ ایک ہی نوعیت کے متوازی مقدمات پر بیک وقت سماعت نہ کریں تاکہ متوازی فیصلوں سے قانونی الجھن پیدا نہ ہو۔ Specific Relief Act، 1877 کی دفعہ 42 کے تحت بھی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے مقدمات میں جہاں حقوق کی تصدیق کی ضرورت ہو، مؤثر طریقے سے فیصلہ کرے۔
حقیقت اور مقدمے کی تفصیل:
مدعی، علی مشتاق و دیگر، نے 2016 میں وفاق پاکستان کے خلاف دعویٰ دائر کیا جو 2009 میں دائر شدہ مقدمے سے متعلق تھا۔ مدعا علیہ نے دعویٰ مسترد کرنے کی درخواست دائر کی۔ عدالت نے دیکھا کہ اگرچہ نئی درخواست میں کچھ اضافی فریق یا کچھ مختلف نکات شامل ہو سکتے ہیں، مگر اصل مسئلہ اور اس سے منسلک حقوق پہلے درج مقدمے سے براہِ راست اور اہم طور پر وابستہ ہیں۔
عدالتی موقف اور فیصلہ:
عدالت نے فیصلہ دیا کہ نئی درخواست میں شامل فریق یا اضافی نکات اگر قانونی اثر ڈالنے کے لیے نہ ہوں، تو یہ سیکشن 10، C.P.C. کے اطلاق میں رکاوٹ نہیں۔ اس لیے High Court نے 2016 کی دائر شدہ درخواست کی سماعت کو پہلے سے زیر سماعت 2009 کے مقدمے کے فیصلے تک معطل کر دیا۔
نتیجہ:
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ متوازی مقدمات میں غیر ضروری سماعت سے بچنا چاہیے تاکہ عدالتی وسائل کے مؤثر استعمال اور قانونی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
عدالتی حوالہ جات:
Shri Ram Tiwari v. Bholi Devi AIR 1994 Patna 76; S.K. Rangta Et Co. v. Nawal Kishore Debi Prasad AIR 1964 Calcutta 373.
یہ کیس دو مقدمات کے بارے میں تھا جو ایک ہی موضوع پر دائر کیے گئے تھے۔ پہلا مقدمہ 2009 میں دائر کیا گیا، اور دوسرا 2016 میں۔ مدعی (یعنی علی مشتاق اور دیگر) نے 2016 میں ایک مقدمہ دائر کیا جو تقریباً اسی موضوع پر تھا جو پہلے سے 2009 کے مقدمے میں زیر بحث تھا۔ پاکستان فیڈریشن، جو اس کیس میں مدعا علیہ تھی، نے 2016 کے مقدمے کو ختم کرنے کی درخواست دی، یہ کہہ کر کہ ایک ہی موضوع پر دو مقدمات کی سماعت نہیں ہو سکتی۔
سیکشن 10، سول پروسیجر کوڈ کا مقصد یہ ہے کہ ایک ہی معاملے پر دو متوازی مقدمات نہ چلائے جائیں، کیونکہ یہ غیر ضروری ہو گا اور عدالت کے فیصلوں میں الجھن پیدا ہو سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگرچہ کچھ ریلیف اور معاملات نئے مقدمے میں شامل کیے گئے تھے، لیکن وہ پہلے سے زیر التوا مقدمے سے براہ راست جڑے ہوئے تھے۔
لہٰذا، عدالت نے فیصلہ کیا کہ پہلے مقدمے کا فیصلہ ہونے تک 2016 کے مقدمے کی سماعت کو روک دیا جائے، تاکہ متوازی مقدمات سے بچا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ دونوں مقدمات میں ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جائے۔
Must read judgement
2024 C L C 18
