Right of pardon in murder | case of tazeer, only the heirs of the victim have the right to pardon, and not the heirs of the heirs.
یہ اصول سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا گیا جس میں تعزیری جرائم کے ضمن میں سیکشن 345 ضابطۂ فوجداری کے تحت صلح (compounding) کے حق کی حدود متعین کی گئیں۔
صلح کا حق صرف متوفی کے زندہ وارثان (surviving heirs of the victim) کو حاصل ہوتا ہے،
چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے اپنے فیصلے میں یہ اصول طے کیا کہ تعزیری مقدمات میں صلح کا حق صرف متوفی کے زندہ وارثان (surviving heirs of the victim) کو حاصل ہوتا ہے، نہ کہ وارثان کے وارثان (heirs of the heirs) کو۔ یعنی اگر کسی مقتول کا کوئی وارث پہلے وفات پا چکا ہو تو اس کے ورثا کو مقتول کی جانب سے صلح کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا۔ اس تشریح کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ صلح کا حق ذاتی نوعیت کا ہے اور یہ حق صرف براہِ راست متاثرہ فریق یعنی مقتول کے زندہ قانونی وارثان تک محدود ہے۔
بھائی صلح میں حصہ نہیں ڈال سکتے کیونکہ وہ وارث نہیں ھیں۔
جسٹس سید منصور علی شاہ نے نتیجے سے اتفاق کرتے ہوئے اپنی جداگانہ وجوہات بیان کیں۔ ان کے مطابق مقتول کے بھائیوں کو صلح کے حق سے محروم اس بنیاد پر نہیں کیا گیا کہ وہ وارث کے وارث تھے، بلکہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ اسلامی قانونِ وراثت کے تحت وہ مقتول کے وارث ہی نہیں بنتے تھے۔ یعنی معاملہ وارث در وارث ہونے کا نہیں بلکہ اس بنیادی سوال کا تھا کہ آیا وہ افراد سرے سے مقتول کے شرعی وارث تھے بھی یا نہیں۔
مقتول کے بھائی صلح کے مجاز نہیں تھے، تاہم ان کی قانونی بنیاد مختلف تھی۔
یوں دونوں معزز جج صاحبان کا نتیجہ ایک ہی رہا کہ مقتول کے بھائی صلح کے مجاز نہیں تھے، تاہم ان کی قانونی بنیاد مختلف تھی۔ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے معاملے کو ضابطۂ فوجداری کی تشریح اور وارث کے تصور تک محدود رکھا، جبکہ جسٹس سید منصور علی شاہ نے اسلامی قانونِ وراثت کو فیصلہ کن عنصر قرار دیا۔
اس فیصلے کا عملی اور قانونی اثر یہ ہے کہ آئندہ تعزیری مقدمات میں صلح کے معاملے پر عدالتیں سب سے پہلے یہ تعین کریں گی کہ صلح کرنے والا شخص مقتول کا زندہ اور شرعی وارث ہے یا نہیں۔ اگر کوئی شخص اسلامی قانون کے تحت وارث نہیں بنتا تو وہ چاہے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اسے سیکشن 345 ضابطۂ فوجداری کے تحت صلح کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
یہ فیصلہ فوجداری قانون اور اسلامی قانونِ وراثت کے باہمی تعلق کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ صلح کے حق کو محدود اور منضبط کرنے میں ایک مضبوط عدالتی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
بیان کردہ مقدمے میں، پاکستان کی سپریم کورٹ نے تعزیر کیسز میں معافی دینے کے حق کے بارے میں وضاحت کی:
**آصف سعید کھوسہ، چیف جسٹس** نے کہا کہ صرف مقتول کے زندہ وارثین کے پاس معافی دینے کا حق ہے، نہ کہ مقتول کے وارثین کے وارثین کے پاس۔ اس کا مطلب ہے کہ کیس کو صلح کے ذریعے ختم کرنے کا اختیار صرف مقتول کے براہ راست وارثین کے پاس ہوتا ہے۔
**سید منصور علی شاہ، جج** نے اس نقطہ نظر سے اتفاق کیا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ مقتول کے بھائیوں کو اس لیے خارج کیا گیا کیونکہ وہ اسلامی وراثت کے قانون کے تحت مقتول کے وارث نہیں تھے۔ اس بناء پر، ان بھائیوں کو معافی دینے کا حق نہیں دیا گیا۔
اس طرح، دونوں ججوں نے عملی نتیجہ پر تو اتفاق کیا، لیکن ان کے دلائل میں تھوڑا سا فرق تھا۔
Must read part of judgement
Per Asif Saeed Khan Khosa, CJ]: Surviving heirs of the victim and not the heirs of the heirs of the victim have the right to compound in Tazir cases under Section 345 Cr.PC.
[Per Syed Mansoor Ali Shah, J, agreeing with his own reasons]: The brothers of the victim were excluded not because they were the heirs of the heirs of the victim but because they were not the heirs of the victim under the Islamic Law of inheritance
In the case you're referring to, the Supreme Court of Pakistan, through the judgments of Asif Saeed Khan Khosa, CJ, and Syed Mansoor Ali Shah, J, clarified the scope of who can compound offenses under Section 345 of the Criminal Procedure Code (Cr.PC) in Tazir cases.
**Asif Saeed Khan Khosa, CJ** stated that only the surviving heirs of the victim, and not the heirs of the heirs, have the right to compound such offenses. This means that the ability to forgive or settle the case out of court is limited to those who are direct heirs of the victim.
**Syed Mansoor Ali Shah, J** agreed with this interpretation but emphasized a different aspect: the exclusion of the victim’s brothers was based on their status under Islamic inheritance law. In this context, the brothers were not considered direct heirs of the victim under Islamic Law, which is why they did not have the right to compound the offense.
In essence, both judges agreed on the practical outcome but based their reasoning on slightly different principles.
Tags
Right of Pardon in Murder 302
تعزیر کیسز میں معافی دینے کا حق زندہ وارثان کا ھے بھائیوں کا نہیں
