Expectancy of life ' , principle of --- Period of incarceration equal to or more than a full term of imprisonment for life.
زندگی کی توقع کے اصول کا تعارف
فوجداری قانون میں “زندگی کی توقع” کا اصول ایک ایسا تشریحی معیار ہے جس کے تحت عدالت یہ دیکھتی ہے کہ آیا سزائے موت پانے والا ملزم اپنی اپیلوں اور عدالتی کارروائیوں کے دوران اتنا طویل عرصہ قید میں گزار چکا ہے جو عملاً عمر قید کے مساوی یا اس سے زائد ہو۔ یہ اصول سزا میں تخفیف کے لیے ایک اہم عامل بن سکتا ہے، خصوصاً جب تاخیر ملزم کی اپنی غلطی کے بغیر واقع ہوئی ہو۔
طویل قید اور عدالتی تاخیر کی اہمیت
اگر کوئی ملزم سزائے موت سنائے جانے کے بعد طویل عرصہ ڈیتھ سیل میں گزار دے اور اس دوران اپیلوں کا فیصلہ غیر معمولی تاخیر کا شکار رہے، تو عدالت اس پہلو کو انسانی بنیادوں پر غور کے قابل سمجھتی ہے۔ ایسی تاخیر اگر عدالتی یا پروسیجرل نقائص کی وجہ سے ہو اور اس میں ملزم کا کوئی قصور ثابت نہ ہو، تو یہ سزا میں نرمی کا جواز فراہم کرتی ہے۔
2024 SCMR 1474 کا عدالتی فیصلہ
سال 2024 SCMR 1474 میں سپریم کورٹ نے اسی اصول کو بنیاد بناتے ہوئے ایک اہم فیصلہ دیا۔ اس مقدمے میں ملزم نے سزائے موت کے دوران سولہ سال ڈیتھ سیل میں گزارے جبکہ اس کی عدالتی اپیلیں زیر التوا رہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اتنی طویل قید بذاتِ خود ایک غیر معمولی حالت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تاخیر کی ذمہ داری اور ملزم کا کردار
عدالت نے اس پہلو پر خصوصی زور دیا کہ مقدمے میں ہونے والی تاخیر ملزم کی کسی غفلت یا بدنیتی کا نتیجہ نہیں تھی۔ اپیلیٹ کورٹ نے مقدمہ دو مرتبہ ٹرائل کورٹ کو واپس بھیجا، پہلی بار ناقص فردِ جرم اور دوسرے تفتیشی افسر کے بیان کے فقدان کی وجہ سے، اور دوسری بار ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے ناقص بیان کے باعث۔ ان وجوہات نے عدالتی عمل کو طول دیا، جس کا بوجھ ملزم پر نہیں ڈالا جا سکتا تھا۔
سزا میں تخفیف کی بنیاد
ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے یہ قرار دیا کہ اگرچہ دفعہ 302(b) تعزیراتِ پاکستان کے تحت ملزم کی سزا برقرار رکھی جاتی ہے، لیکن سزا کی نوعیت میں نرمی انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ چنانچہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا، اور اس تبدیلی کی بنیاد “زندگی کی توقع” کا اصول اور دیگر مخفف حالات بنے۔
انصاف، انسانیت اور قانون کا توازن
یہ فیصلہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ فوجداری انصاف کا نظام محض سزا پر نہیں بلکہ انصاف، انسانیت اور قانون کے توازن پر قائم ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جہاں قانون اجازت دے، وہاں طویل قید، عدالتی تاخیر اور انسانی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
نتیجہ
2024 SCMR 1474 کا فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ اگر سزائے موت پانے والا ملزم اپنی عدالتی اپیلوں کے دوران عمر قید کے مساوی یا اس سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکا ہو، اور تاخیر اس کی اپنی غلطی نہ ہو، تو “زندگی کی توقع” کے اصول کے تحت سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ فوجداری قانون میں انسانی انصاف کے تصور کو مزید تقویت دیتا ہے۔
2024 SCMR 1474 کے مقدمے میں "زندگی کی توقع" کے اصول کا اطلاق ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے کیا گیا۔ اس مقدمے میں، ملزم نے موت کی سزا کے دوران 16 سال جیل میں گزارے جبکہ عدالتی اپیلوں کے فیصلے کا انتظار کر رہا تھا۔ اس اصول کے تحت، اگر کسی ملزم نے سزائے موت کی مدت کے دوران زندگی کی معمولی مدت سے زیادہ وقت جیل میں گزارا ہو، تو یہ ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے۔ اس معاملے میں، عدالتی تاخیر ملزم کی غلطی نہیں تھی بلکہ یہ اپیلٹ کورٹ کی جانب سے دو بار مقدمہ واپس بھیجنے اور دیگر پروسیجرل مسائل کی وجہ سے تھی۔ نتیجتاً، سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا۔
2024 SCMR 1474 میں، عدالت نے "زندگی کی توقع" کے اصول کے تحت ایک ملزم کی 16 سال کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا، کیونکہ طویل جیل کی مدت اور عدالتی تاخیر ملزم کی اپنی غلطی نہیں تھی۔
Must read Judgement
'Expectancy of life ' , principle of --- Period of incarceration equal to or more than a full term of imprisonment for life - In a case where a convict sentenced to death undergoes period of custody equal to or more than a full term of imprisonment for life during the pendency of his judicial remedy against his conviction and sentence of death , the principle of ' expectancy of life ' may be considered as a relevant factor along with other circumstances for reducing his sentence of death to imprisonment for life In the present case the petitioner ( convict ) had been in the death cell for 16 years awaiting the fate of his juridical remedies Inordinate delay in disposal of case was not attributable to the petitioner as the trial proceedings were twice remanded by the Appellate Court to the Trial Court , firstly due to defective charge and non examining the second investigating officer , and secondly , due to defective 342 , CPC statement of the petitioner Petition was converted into an appeal and was partly allowed , and conviction awarded to the petitioner / appellant under section 302 ( b ) . P.P.C. was maintained , however his sentence of death was converted into imprisonment for life on the basis of the mitigating
2024 SCMR 1474
Tags
Expectancy of life
