9c acquittal contradiction in statements of witnesses 2024 YLR 1425
![]() |
| 9c acquittal | contradiction in statements of witness | 2024 YLR 1425 |
کیس میں بیانات میں فرق درج ذیل تھا:
1. **میمو کی تیاری**:
- **شکایت کنندہ**: شکایت کنندہ نے بیان دیا کہ میمو پولیس موبائل کیبن میں تیار کیا گیا اور اس کی تیاری میں پولیس اہلکاروں کی مدد لی گئی۔
- **مشیر (گواہ)**: مشیر نے کہا کہ میمو پولیس موبائل کیبن کے اندر شکایت کنندہ نے خود تیار کیا اور وہ اس پر صرف دستخط کرنے کے لیے موجود تھا۔
2. **موقع پر گواہوں کی موجودگی**:
- **شکایت کنندہ**: شکایت کنندہ نے کہا کہ واقعے کے وقت کوئی نجی گواہ دستیاب نہیں تھا، اس لیے پولیس اہلکاروں کو گواہ بنایا گیا۔
- **مشیر**: مشیر نے اس بات کا انکار کیا اور کہا کہ شکایت کنندہ نے کسی نجی شخص کو شامل کرنے کی کوشش نہیں کی اور پولیس اہلکاروں کو گواہ بنانے پر اصرار کیا۔
3. **مواد کی سیلنگ**:
- **گواہ**: گواہوں نے بیان دیا کہ تمام مواد کو موقع پر ہی سیل کر دیا گیا اور کوئی نمونہ الگ نہیں کیا گیا۔
- **کیمیائی معائنہ کا خط**: کیمیکل امتحان کے لیے بھیجے گئے خط میں ایک سیل شدہ نمونہ کا ذکر تھا، جو کہ گواہوں کے بیانات سے متصادم تھا۔
یہ تضادات اہم تھے کیونکہ انہوں نے کیس کی حقیقت پر سوالات اٹھائے اور عدالت نے ان بنیادوں پر فیصلہ کیا کہ استغاثہ کا کیس قابل اعتبار نہیں ہے۔
مذکورہ کیس میں عدالت نے درج ذیل فیصلے دیے:
1. **تضاد کی نشاندہی*
*: عدالت نے پایا کہ شکایت کنندہ اور مشیر کی گواہیوں میں تضاد موجود تھا۔ ان دونوں گواہوں نے مواد کی سیلنگ اور نمونوں کے بھیجنے کے طریقہ کار پر مختلف بیانات دیے جو کہ کیس کی سچائی پر سوال اٹھاتے ہیں۔
2. **گواہوں کی ناقابل اعتمادیت*
*: عدالت نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا کہ گواہوں کے بیانات میں تضاد اور دیگر بے قاعدگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شکایت کنندہ اور مشیر اصل وقوعے کے عینی شاہد نہیں تھے۔
3. **پرامن شک*
*: عدالت نے یہ تسلیم کیا کہ استغاثہ کی طرف سے پیش کردہ شواہد میں بہت ساری بے قاعدگیاں اور تضادات ہیں، جن کی وجہ سے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
ان بنیادوں پر، عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے سزا کے خلاف فیصلہ صادر کیا۔
سیشن عدالت نے کیس میں یہ فیصلہ سنایا:
1. **شواہد میں تضادات*
*: سیشن عدالت نے اس بات کو تسلیم کیا کہ گواہوں کی گواہیوں میں واضح تضادات موجود تھے، خاص طور پر میمو کی تیاری اور مواد کی سیلنگ کے بارے میں۔
2. **استغاثہ کے کیس کی کمزوری*
*: عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ استغاثہ کے کیس میں بے شمار بے قاعدگیاں اور تضادات ہیں، جن کی بنا پر کیس کی سچائی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
3. **سزا کے خلاف اپیل*
*: ان تضادات اور بے قاعدگیوں کی بنا پر، سیشن عدالت نے اپیل منظور کی اور ملزم کی سزا کو کالعدم قرار دیا۔
یہ فیصلہ اس بات کا اشارہ تھا کہ استغاثہ اپنے کیس کو مؤثر طریقے سے ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
Must read Judgement
2024 YLR 1425
---S.9(c)---Possession of Narcotic ---Appreciation of evidence---Benefit of doubt--- Contradictions in the statements of witnesses---Prosecution case was that 25 packets of charas weighing 30 kilos and 900 grams were recovered from the rickshaw driven by the accused--- Complainant in his examination-in-chief deposed that the memo was prepared by Munshi on his dictation who was called from police station---Mashir in whose presence the memo was papered and who also signed the same as a witness in his cross-examination stated that complainant prepared the memo inside police mobile cabin on which he signed as a witness--- Complainant during his cross-examination stated that no private witness was available at the place of incident therefore he made Police Officials as witnesses—.
Mashir/witness had deposed against such fact and stated during cross- examination that complainant did not try to associate any private person and that he called private persons but people did not cooperate---Prosecution case was that entire recovered contraband was sealed at the spot and no samples were separated from any of the slabs---Such fact was also admitted by the witnesses in their evidence but the letter issued for sending the contraband for chemical examination addressed to the incharge Chemical Examiner showed that at serial No.4 sealed sample was also mentioned as sent for chemical examination which created very serious doubt in the prosecution case---Such contradictions clearly indicated that the complainant and mashir were not the true eye-witnesses of the incident and no such incident of arrest of accused and recovery of charas from the possession of accused had occurred as alleged by the prosecution---Both the witnesses contradicted each other on material aspects of the case---No implicit reliance could be placed in view of said contradictions on the evidence of prosecution witnesses---Appeal against conviction was allowed, in circumstances. [Sindh]
Tags
Acquittal 9c
