5 million fine on used international company logo and name by competition tribunal , upheld by Supreme Court .
![]() |
| 5 million fine on used international company logo and name by competition tribunal , upheld by Supreme Court . |
کمپنی کا لوگو استعمال کرنے پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ Civil Appeal No. 1011 of 2024 مسابقتی قانون، تجارتی نام (Trade Name) اور تجارتی نشان (Trademark) کے غیر مجاز استعمال، اور پاکستان میں مسابقت پر اس کے اثرات کے حوالے سے ایک نہایت اہم اور اصولی نظیر ہے۔ اس فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ بین الاقوامی سطح پر رجسٹرڈ اور پاکستان میں محفوظ ٹریڈ مارک کا غیر قانونی استعمال، خواہ اصل مالک کا پاکستان میں کوئی فعال آؤٹ لیٹ موجود نہ ہو، تب بھی مسابقت کو متاثر کر سکتا ہے اور Competition Act, 2010 کے تحت قابلِ کارروائی ہے۔
مقدمے کا پس منظر
یہ مقدمہ M/s Options International (SMC-Pvt.) Ltd کی جانب سے Starbucks کے نام اور لوگو کے استعمال سے متعلق ہے۔ اسٹاربکس ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ برانڈ ہے، جس کا نام اور لوگو نہ صرف دنیا کے مختلف ممالک میں بلکہ پاکستان میں بھی رجسٹرڈ اور قانونی تحفظ یافتہ ہیں۔ اسٹاربکس کارپوریشن USA نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے سامنے شکایت درج کروائی کہ اپیل کنندہ نے ان کے نام اور لوگو کو بغیر اجازت استعمال کرتے ہوئے اپنی مصنوعات فروخت کیں، جس سے پاکستان میں منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
مسابقتی کمیشن کا فیصلہ
مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے شکایت کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اپیل کنندہ کا طرزِ عمل Competition Act, 2010 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ چنانچہ کمیشن نے اپیل کنندہ پر پچاس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا اور یہ بھی حکم دیا کہ اگر فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو یومیہ ایک لاکھ روپے اضافی جرمانہ بھی عائد ہوگا۔
مسابقتی اپیلیٹ ٹریبونل کی کارروائی
اپیل کنندہ نے کمیشن کے فیصلے کو مسابقتی اپیلیٹ ٹریبونل، اسلام آباد میں چیلنج کیا۔ ٹریبونل نے تفصیلی سماعت کے بعد یہ قرار دیا کہ خلاف ورزی ثابت ہے، تاہم اس نے جرمانے کی رقم کو پچاس لاکھ سے بڑھا کر ساٹھ لاکھ روپے کر دیا، جبکہ یومیہ جرمانے کی رقم کو کم کرتے ہوئے ایک لاکھ سے پانچ ہزار روپے کر دیا، جو ٹریبونل کے فعال ہونے کی تاریخ یعنی 3 دسمبر 2021 سے نافذ کی گئی۔
سپریم کورٹ میں بنیادی قانونی نکتہ
سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا ایسے بین الاقوامی برانڈ کے نام اور لوگو کا استعمال، جس کا پاکستان میں کوئی باقاعدہ آؤٹ لیٹ یا مجاز صارف موجود نہ ہو، پاکستان میں مسابقت کو متاثر کر سکتا ہے یا نہیں، اور آیا اس بنیاد پر Competition Act, 2010 کا اطلاق درست ہے۔
اپیل کنندہ کا مؤقف
اپیل کنندہ کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ Competition Act, 2010 صرف اُن سرگرمیوں پر لاگو ہوتا ہے جو پاکستان میں وقوع پذیر ہوں اور مقامی مسابقت کو متاثر کریں۔ چونکہ اسٹاربکس کارپوریشن USA کا پاکستان میں کوئی آؤٹ لیٹ نہیں اور نہ ہی اس نے کسی کو اپنے نام یا لوگو کے استعمال کی اجازت دی ہے، اس لیے اپیل کنندہ اور اسٹاربکس کے درمیان کوئی براہِ راست مسابقت موجود نہیں، اور اس قانون کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ کا قانونی تجزیہ
سپریم کورٹ نے اس مؤقف کو سختی سے مسترد کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اپیل کنندہ نے جان بوجھ کر اپنے آپ کو ایک معروف بین الاقوامی برانڈ کے طور پر پیش کیا اور اسٹاربکس کے نام اور لوگو کے تحت مصنوعات فروخت کیں۔ اس طرزِ عمل کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں موجود مقامی تاجر، جو اسی نوعیت کی مصنوعات فروخت کر رہے ہیں، شدید نقصان اور غیر منصفانہ مقابلے کا شکار ہوتے ہیں۔ عام صارف یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ فروخت کی جانے والی مصنوعات اصل اسٹاربکس کی ہیں، جس سے مارکیٹ میں مسابقت بگڑ جاتی ہے۔
پاکستان میں مسابقت کے تصور کی وضاحت
عدالت نے واضح کیا کہ مسابقت کا تصور صرف اس بات سے مشروط نہیں کہ برانڈ کا اصل مالک پاکستان میں براہِ راست کاروبار کر رہا ہو۔ اگر کسی بین الاقوامی شہرت یافتہ نام یا لوگو کا غیر مجاز استعمال پاکستان میں صارفین کے انتخاب، تاثر اور مارکیٹ کے توازن کو متاثر کرتا ہے تو یہ عمل مسابقت کو بگاڑنے کے مترادف ہے اور Competition Act, 2010 کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
جرمانے سے متعلق اعتراضات
اپیل کنندہ نے جرمانے کی قانونی حیثیت پر بھی اعتراض اٹھایا، تاہم سپریم کورٹ نے نشاندہی کی کہ سیکشن 38 کے تحت مسابقتی کمیشن ایسے جرمانے عائد کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔ چونکہ اپیل کنندہ کے وکیل نے خود تسلیم کیا کہ قانون جرمانے کی اجازت دیتا ہے، اس لیے اس نکتے پر مزید بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ
سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا کہ ٹریبونل کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم موجود نہیں اور کوئی ایسا نکتہ پیش نہیں کیا گیا جو عدالت کو مختلف رائے اختیار کرنے پر آمادہ کر سکے۔ چنانچہ اپیل خارج کر دی گئی اور مسابقتی اپیلیٹ ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا گیا، تاہم چونکہ اسٹاربکس کارپوریشن USA عدالت میں پیش نہیں ہوئی، اس لیے اخراجات سے متعلق کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
قانونی و تجارتی اہمیت
یہ فیصلہ پاکستان میں ٹریڈ مارک کے تحفظ اور مسابقتی قانون کے نفاذ کے حوالے سے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس فیصلے سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی برانڈز کے نام اور لوگو کا غیر مجاز استعمال، چاہے اصل برانڈ کا پاکستان میں کوئی آؤٹ لیٹ موجود نہ ہو، پھر بھی قانوناً قابلِ سزا ہے اگر اس سے مقامی مسابقت متاثر ہو۔
اس مقدمے کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ **M/s Options International (SMC-Pvt.) Ltd** نے **اسٹاربکس** کے نام اور لوگو کا استعمال کیا، جو کہ بین الاقوامی سطح پر رجسٹرڈ ہے اور پاکستان میں بھی محفوظ ہے۔ اسٹاربکس کارپوریشن USA نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے ذریعے شکایت کی کہ اپیل کنندہ نے اسٹاربکس کے نام اور لوگو کو بغیر اجازت استعمال کیا، جس کی وجہ سے مقامی مسابقت پر منفی اثر پڑا ہے۔
مسابقتی کمیشن نے اپیل کنندہ پر پانچ ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا اور عدم تعمیل کی صورت میں روزانہ ایک لاکھ روپے اضافی جرمانے کا حکم دیا۔ اپیل کنندہ نے اس فیصلے کو ٹریبونل میں چیلنج کیا، جس نے جرمانے کی رقم تو بڑھا دی لیکن روزانہ جرمانے کو کم کر دیا۔
اپیل کنندہ نے اس فیصلے پر اعتراض کیا، خاص طور پر اس بات پر کہ چونکہ اسٹاربکس کے نام اور لوگو کا پاکستان میں کوئی فعال مقام نہیں ہے، اس لیے ان کا استعمال پاکستان میں مسابقت کو متاثر نہیں کرتا۔ لیکن عدالت نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے اپیل کو خارج کر دیا اور ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
Must read judgement
IN THE SUPREME COURT OF PAKISTAN
(Appellate Jurisdiction)
Present:
Justice Qazi Faez Isa, CJ
Justice Naeem Akhtar Afghan
Justice Shahid Bilal Hassan
Civil Appeal No.1011 of 2024
(On appeal against the judgment dated 29.05.2024 of the Competition
Appellate Tribunal, Islamabad passed in Appeal No. 45/2023)
M/s Options International (SMC-Pvt.) Ltd through its CEO
Appellant
Versus
The Competition Commission of Pakistan through its
Registrar and another
Respondents
For the Appellant:
Mr. Taimoor Aslam Khan, ASC
For Respondent No. 1:
Mr. Hafiz Naeem, Legal Advisor
For Respondent No. 2:
Not represented
Date of Hearing:
07.08.2024
ORDER
Qazi Faez Isa, CJ. This appeal has been filed under section 44 of the
Competition Act, 2010 (‘the Act’) against the judgment dated 29 May
2024 passed by the Competition Appellate Tribunal, Islamabad (‘the
Tribunal’). The judgment of the Tribunal is unanimous; two learned
Members agreeing with the learned Chairperson.
2.
The Competition Commission of Pakistan (‘the Commission’) had
imposed a penalty of five million rupees on the appellant and ordered
further additional penalty of one hundred thousand rupees per day from
the date of passing of the order in case of non-compliance.
3.
The appellant had assailed before the Tribunal the above order
dated 19 December 2018 passed by the Commission. The Tribunal
decided the appeal by enhancing the penalty amount from five million to
six million rupees but reduced the per day penalty amount to five
thousand rupees from one hundred thousand rupees with effect from 3
December 2021, which was the date from which the Tribunal had become
functional. We inquired from learned counsel which judgment, whether of
CA No. 1011 of 2024 2
the Commission or the Tribunal, favours the appellant, and he stated that
the one of the Tribunal.
4.
We also inquired from the learned counsel whether the appellant
disputes that the name Starbucks and logo are registered trademarks, and
he conceded that both the said name and logo are registered abroad and
in Pakistan. The matter before the Commission, and then before the
Tribunal, was with regard to the use of the Starbucks name and logo by
the appellant and selling its products under such name and style. A
complaint from the proprietor of the said tradename and trademark,
Starbucks Corporation USA (respondent No. 2), was received by the
Commission which took action on it, and passed the abovementioned
order.
5.
The learned counsel contended that the Act only applies to
‘undertakings and all actions or matters that take place in Pakistan and
distort competition within Pakistan’, as stipulated in sub-section (3) of
section 1 of the Act. However, he submitted, since the respondent No. 2
does not have any outlet in Pakistan, nor has authorized anyone to use its
name, logo and products in Pakistan, therefore, the appellant was not in
competition with the respondent No. 2, its authorized user(s) and/or its
products.
6.
We cannot bring ourselves to agree with the said submission, which
has no substance. The appellant had put itself forward by selling its own
products under the international brand name Starbucks and by using its
logo, which must have had the effect of distorting competition within
Pakistan because a local vendor selling similar products, as those being
sold by the appellant, would be at a serious disadvantage and not able to
compete therewith since the unsuspecting public would believe,
understand or perceive the same to be the genuine products of the
respondent No. 2.
7.
The learned counsel then objected to the levy of the said penalties.
We inquired from the learned counsel whether the law authorizes the
penalties which had been imposed and he conceded that it did under
CA No. 1011 of 2024 3
section 38 of the Act. Therefore, it is not understandable how the same
can be objected to.
8.
No other point has been urged which may persuade us to take a
view different from the one taken by the Tribunal. Therefore, this appeal is
dismissed, but with no order as to costs as the respondent No. 2 did not
enter appearance. Copy of this order be sent to the respondent No. 2 for
information.
Chief Justice
Judge
Judge
Islamabad
7 August 2024
Atif/
Approved for reporting
Tags
Logo Used and fine
