489F bail granted on ground that why money was taken borrow details was not provided in FIR as well as in investigation .
![]() |
| 489F bail granted on ground that why money was taken borrow details was not provided in FIR as well as in investigation . |
واضح نہیں ہوا کہ یہ رقم کب، کس کے سامنے، کس مقصد کے لیے اور کس بنیاد پر مدعی نے ملزم کو دی تھی اور کس طرح یہ رقم ملزم پر واجب الادا تھی
تعارف
یہ کیس پاکستان کے فوجداری نظام میں سیکشن 489-F، P.P.C. کے تحت چیک فراڈ (Dishonestly Issuing a Cheque) کے مقدمے سے متعلق ہے۔ مقدمے میں ملزم کے خلاف گرفتاری کے بعد ضمانت (Post Arrest Bail) دی گئی اور عدالت نے مزید تفتیش کے لیے کیس کو کھلا رکھا۔
مقدمے کے حقائق
ریکارڈ کے مطابق، FIR میں مدعی نے رقم 32,00,000 روپے کی وصولی کے لیے ملزم/مقدمہ فائل کرنے والے کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ تاہم، تحقیقات کے دوران یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ رقم کب، کس کے سامنے، کس مقصد کے لیے اور کس بنیاد پر مدعی نے ملزم کو دی تھی اور کس طرح یہ رقم ملزم پر واجب الادا تھی۔
عدالتی مؤقف
چونکہ معاملے کی نوعیت میں ابہام پایا گیا اور رقم کی تفصیل واضح نہیں تھی، عدالت نے فیصلہ دیا کہ سیکشن 489-F کے تحت ملزم کی قانونی ذمہ داری کا تعین مزید تفتیش کے بغیر ممکن نہیں۔ اس ضمن میں، سیکشن 497 (2) Cr.P.C. کے تحت مزید جانچ پڑتال ضروری سمجھی گئی۔
ضمانت کی منظوری
ان حالات میں، عدالت نے ملزم کو گرفتاری کے بعد ضمانت دینے کا حکم دیا تاکہ تفتیش کے دوران ملزم کی حاضری یقینی رہے اور قانونی کارروائی کی درستگی برقرار رہے۔
نتیجہ
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ چیک فراڈ کے مقدمات میں FIR کے دعوے اور ثبوت کی مکمل جانچ کے بغیر ملزم کو بلاوجہ گرفتار یا سزا نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے قانونی توازن برقرار رکھتے ہوئے ضمانت دی اور مزید تحقیقات کے لیے معاملہ کھلا رکھا۔
حوالہ کیس
2024 MLD 1363
کیس 2024 MLD 1363 میں، جس میں دفعہ 489-F کے تحت چیک کی دھوکہ دہی کا الزام تھا، عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا۔ ایف آئی آر میں چیک کے اجرا کی تفصیلات غائب تھیں، جیسے رقم دینے کی وجہ اور مقصد، جس سے یہ واضح ہوا کہ مزید تفتیش ضروری ہے۔ اس بنا پر، دفعہ 497 (2) Cr.P.C. کے تحت ضمانت دی گئی۔
2024 MLD 1363 میں درج کیس میں، جس میں پاکستان پینل کوڈ (P.P.C.) کی دفعہ 489-F کے تحت چیک کی دھوکہ دہی کا الزام تھا، عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کی بنیاد یہ تھی کہ ایف آئی آر میں چیک کے اجرا کی صورت حال کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی تھی۔ خاص طور پر، ایف آئی آر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ complainant نے ملزم کو رقم کیوں دی، کس مقصد کے لیے دی، اور یہ رقم ملزم پر کیسے واجب تھی۔ تحقیقات نے ان پہلوؤں کی وضاحت نہیں کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دفعہ 489-F کی درخواست کے لیے مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔ لہذا، دفعہ 497 (2) Cr.P.C. کے تحت مزید جانچ کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
Must read Judgement
S. 489 - F --- Dishonestly issuing a cheque --- Post arrest bail , grant of --- Further inquiry- Record revealed that though it was mentioned in the FIR that complainant had to take amount ( Rs 32,00,000 / - ) from the petitioner / accused yet during entire investigation of the case , it had not come on the record that when , before whom and for which reason as well as for what purpose , said amount was given by the complainant to the petitioner and how it was due to complainant from him ( petitioner ) , therefore , applicability of S.489 - F P.P.C. in the present case itself requires further probe / inquiry within the purview of subsection ( 2 ) of S.497 , Cr.P.C --- Bail was granted to the accused , in circumstances
2024 MLD 1363
Popular articles
Tags
489F bail granted
