DNA evidence can only be used by the prosecution as corroboratory evidence, whereas it has a probative value for disproving the charge.
محض ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر کسی ملزم کو مجرم قرار دینا قانوناً کافی نہیں سمجھا جاتا جب تک دیگر شواہد اس کی تائید نہ کریں۔
تعارف
غیر مشاہدہ شدہ قتل کے واقعات میں ڈی این اے رپورٹ کو عموماً ملزم کی شناخت سے پردہ اٹھانے کا مؤثر ذریعہ تصور کیا جاتا ہے، تاہم عدالتی نظائر کے مطابق اس تصور کی قبولیت مطلق نہیں بلکہ مختلف شرائط، حدود اور قانونی پابندیوں سے مشروط ہے۔ محض ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر کسی ملزم کو مجرم قرار دینا قانوناً کافی نہیں سمجھا جاتا جب تک دیگر شواہد اس کی تائید نہ کریں۔
قانونِ انفرادیت اور ڈی این اے شواہد
ڈی این اے رپورٹ کی قانونی قبولیت کی بنیاد قانونِ انفرادیت (Law of Individuality) پر ہے۔ ڈاکٹر بی۔ آر۔ شرما نے اپنی کتاب Forensic Science in Criminal Investigation and Trials میں اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں موجود ہر شے، خواہ قدرتی ہو یا انسانی ساختہ، اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے جو کسی دوسری شے میں بعینہٖ موجود نہیں ہوتی۔ نہ قدرت نے خود کو دہرایا ہے اور نہ ہی انسان ایسا کر سکتا ہے۔ یہی اصول ڈی این اے اور فنگر پرنٹس پر لاگو ہوتا ہے، کیونکہ مختلف افراد کے فنگر پرنٹس یا ڈی این اے کبھی ایک جیسے نہیں پائے گئے۔
ڈی این اے ثبوت کی تائیدی اور اثباتی حیثیت
عدالت نے اس نکتے پر خاص زور دیا ہے کہ ڈی این اے ثبوت کی حیثیت بنیادی طور پر تائیدی (corroborative) ہے، نہ کہ بذاتِ خود فیصلہ کن۔ فوجداری قانون میں استغاثہ پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملزم کے جرم کو شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرے۔ اس کے برعکس ملزم کے لیے صرف اتنا کافی ہوتا ہے کہ وہ اپنے خلاف الزام میں معقول شک پیدا کر دے۔ اس پس منظر میں ڈی این اے شواہد کو استغاثہ صرف تائیدی شہادت کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، جبکہ ملزم کے حق میں یہی ڈی این اے ثبوت الزام کو رد کرنے کے لیے اثباتی (probative) حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔
استغاثہ پر عائد ثبوت کا معیار
عدالتی فیصلے کے مطابق سزا دلوانے کے لیے استغاثہ کو ہر پہلو سے مضبوط اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کرنا ہوتے ہیں۔ اگر استغاثہ کا مقدمہ کسی ایک کمزور کڑی پر کھڑا ہو، خصوصاً ڈی این اے جیسے سائنسی ثبوت میں قانونی تقاضے پورے نہ کیے گئے ہوں، تو فائدہ لازماً ملزم کو دیا جائے گا۔
نمونہ جات (Sampling) میں قانونی خامیاں
زیرِ نظر مقدمے میں عدالت نے اس امر کو انتہائی اہم قرار دیا کہ اندرونی اینل سوابز (internal anal swabs) کے نمونہ جات کی درست طریقے سے وصولی، حفاظت اور تجزیہ ثابت نہیں کیا جا سکا۔ ڈی این اے رپورٹ کی قانونی حیثیت اسی وقت قائم ہوتی ہے جب سیمپلنگ کا پورا عمل شفاف، مستند اور شواہد کے ذریعے ثابت ہو۔ اگر سیمپلنگ کا طریقہ مشکوک ہو یا اس کی کڑی ٹوٹ جائے تو ڈی این اے رپورٹ قابلِ اعتماد نہیں رہتی۔
عدالتی نتیجہ
عدالت نے قرار دیا کہ ڈی این اے رپورٹ اگرچہ ایک اہم سائنسی شہادت ہے، مگر اسے تنہا بنیاد بنا کر سزا نہیں دی جا سکتی۔ جب تک سیمپلنگ، چین آف کسٹڈی اور دیگر معاون شواہد مکمل طور پر ثابت نہ ہوں، ڈی این اے ثبوت محض ایک تائیدی شہادت سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
حوالۂ مقدمہ
PLJ 2024 Cr.C 772
Crl. A. No. 642 & Murder Reference No. 55-19
The State بنام ندیم شاہ
Must read judgement
The DNA report in unseen incidents of homicide is often referred as sufficient to lift veil from the identity of the culprit but such concept qualifies for acceptance subject to various restrictions and limitations. The acceptance of DNA report in legal system is based on the doctrine of law of individuality which is defined by Dr.B.R. Sharma in his book Forensic Science in Criminal Investigation and Trials in the manner that every object, natural or man-made, has an individuality, which is not duplicated in any other object and it is unique, neither the nature has duplicated itself nor can man. The law of individuality has been verified in various fields, the most important out of which pertains to finger prints which are never found to be identical of different persons.
Probative and corroborative value of DNA evidence.
While considering the DNA evidence, we must not forget that burden to prove the guilt of an accused upon the prosecution is much heavier than the onus of accused to disprove the charge. For securing conviction of an accused, the prosecution is legally obliged to prove its case without scintilla of any doubt. On the contrary, the accused can get rid of the charge framed against him by creating a doubt about his involvement in the crime. In this backdrop, it can be elucidated that DNA evidence can only be used by the prosecution as corroboratory evidence, whereas it has a probative value for disproving the charge. Same is the principle.
The failure to prove proper sampling of internal anal swabs.
Crl. A. No. 642 & Murder Reference
55-19
THE STATE VS NADEEM SHAH
PLJ 2024 Cr.C 772
