G-KZ4T1KYLW3 Case laws on List of witness in 7 days

Case laws on List of witness in 7 days

Case laws on List of witness in 7 days.


List of witnesses 

مدعا علیہ نے ٹرائل کورٹ میں درخواست دائر کی کہ اسے گواہوں کی فہرست جمع کروانے کی اجازت دی جائے

تمہید

لاہور ہائی کورٹ (بہاولپور بنچ) کا یہ فیصلہ دیوانی مقدمات میں ضابطہ جاتی تقاضوں اور انصاف کے تقاضوں کے درمیان توازن کی ایک اہم نظیر ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض تکنیکی بنیادوں پر کسی فریق کو اس کے بنیادی حقِ سماعت اور دفاع سے محروم نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب مقدمہ کا فیصلہ میرٹ پر ہونا مقصود ہو۔

مقدمہ کا پس منظر

مدعی نے مدعا علیہ کے خلاف زبانی معاہدہ فروخت کی بنیاد پر تعمیلِ مختص کا دعویٰ دائر کیا۔ مقدمہ میں مسائل مرتب ہونے کے بعد ٹرائل کورٹ نے فریقین کو ہدایت دی کہ وہ سات دن کے اندر اپنے گواہوں کی فہرست اور شہادت پیش کرنے کی تیاری کا سرٹیفکیٹ جمع کروائیں۔ بعد ازاں مدعی کا ثبوت مکمل ہوا اور اس کے گواہوں پر مدعا علیہ کے وکیل نے جرح بھی کی۔ جب مقدمہ مدعا علیہ کے ثبوت کے لیے مقرر ہوا تو اس مرحلہ پر انکشاف ہوا کہ مدعا علیہ کی جانب سے بروقت گواہوں کی فہرست جمع نہیں کروائی گئی۔

ٹرائل کورٹ اور نظرثانی عدالت کا مؤقف

مدعا علیہ نے ٹرائل کورٹ میں درخواست دائر کی کہ اسے گواہوں کی فہرست جمع کروانے کی اجازت دی جائے، تاہم یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔ بعد ازاں دائر کی گئی نظرثانی درخواست بھی مسترد ہو گئی۔ اس بنیاد پر معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے سامنے آیا۔

لاہور ہائی کورٹ کا تجزیہ

ہائی کورٹ نے عدالتی ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ مسائل مرتب کرتے وقت گواہوں کی فہرست جمع کروانے کا حکم فریقین کی موجودگی میں دیا گیا تھا اور مدعا علیہ کے وکیل مقدمہ کی کارروائی میں مسلسل پیش ہو رہے تھے، حتیٰ کہ مدعی کے گواہوں پر جرح بھی کی گئی۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وکیل کو عدالتی کارروائی کا مکمل علم تھا۔
تاہم عدالت نے اس پہلو کو بھی اہم قرار دیا کہ مدعا علیہ کے قیمتی حقوق اس مقدمہ سے وابستہ تھے اور اگر اسے مکمل طور پر شہادت پیش کرنے کے حق سے محروم کر دیا جائے تو اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔

تکنیکی اعتراضات بمقابلہ انصاف

لاہور ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ دیوانی قانون کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ تنازع کا فیصلہ میرٹ پر کیا جائے، نہ کہ محض طریقہ کار کی سختی کی بنیاد پر۔ جہاں تک ممکن ہو، عدالتی کارروائی میں ایسی تکنیکی رکاوٹوں سے اجتناب کیا جانا چاہیے جو انصاف کی راہ میں حائل ہوں۔

ایک موقع، جرمانہ کے ساتھ

عدالت نے مدعا علیہ کے وکیل کی اس استدعا کو تسلیم کیا کہ کم از کم ایک موقع دیا جائے، خواہ جرمانہ عائد کر کے ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ ہائی کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ مدعا علیہ کو صرف ایک موقع دیا جائے تاکہ وہ گواہوں کی فہرست جمع کروا سکے، اور اس کے ساتھ مناسب جرمانہ عائد کیا جائے۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ اگر مقررہ تاریخ پر نہ جرمانہ ادا کیا جائے اور نہ ہی گواہوں کی فہرست جمع کروائی جائے تو ٹرائل کورٹ قانون کے مطابق مقدمہ کی کارروائی آگے بڑھانے کی مجاز ہو گی۔

عدالتی نظائر

اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے متعدد اہم فیصلوں پر انحصار کیا گیا، جن میں یہ اصول طے کیا گیا کہ طریقہ کار کی تکنیکی پیچیدگیوں کو انصاف کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے اور مقدمات کا فیصلہ حتی الامکان میرٹ پر ہونا چاہیے۔

قانونی اہمیت

یہ فیصلہ دیوانی قانون کے پریکٹیشنرز کے لیے ایک واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ اگرچہ ضابطہ جاتی احکامات کی پابندی ضروری ہے، تاہم عدالتیں ایسے معاملات میں لچک کا مظاہرہ کر سکتی ہیں جہاں کسی فریق کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ایسی رعایت غیر مشروط نہیں بلکہ جرمانہ اور سخت شرائط کے ساتھ ہی دی جائے گی۔

نتیجہ

2023 YLR 37 کا یہ فیصلہ انصاف کے اس اصول کو تقویت دیتا ہے کہ عدالتوں کا اصل مقصد تنازعات کا منصفانہ اور میرٹ پر حل ہے۔ محض تکنیکی کوتاہیوں کی بنیاد پر کسی فریق کو مکمل دفاع کے حق سے محروم کرنا انصاف کے منافی ہے، تاہم عدالت کی دی گئی رعایت کی حدود اور شرائط کی پابندی لازمی ہے۔

list_of_witnesses belated stage allowed

witness list 
*مسٹر جسٹس صفدر سلیم شاہد صاحب*
عدالت جب ایشوز فریم کرتی ھے تو 7 دن میں لسٹ گواھان داخل کرنی لازم ھوتی ھے اس کیس میں اندر 7 یوم لسٹ داخل نہیں ھوئی۔ بعد میں درخواست گزاری گئی جو ماتحت عدالت اور عدالت اپیل نے بھی خارج کر دی۔ لیکن ھائیکورٹ نے جرمانہ کے ساتھ داخل کرنے کی اجازت دی۔

Must read Judgement 



2023 Y L R 37
[Lahore (Bahawalpur Bench)]

Syed QALANDAR HUSSAIN SHAH---Appellant

Versus

ADDITIONAL DISTRICT JUDGE and others---Respondents

(a) Civil Procedure Code (V of 1908)----

----O. XVI, R.1---List of witnesses---Matter to be decided on merit---Respondent/ plaintiff filed suit for specific performance of contract on basis of oral agreement to sell against petitioner/ defendant---Issues were framed and parties were directed to submit their list of witnesses within seven (7) days but petitioner/defendant had no knowledge about the said order---When evidence of respondent/plaintiff was closed then it came into knowledge of petitioner/ defendant that list of witnesses was not submitted by petitioner within time---Petitioner/defendant filed an application before Civil Court for submitting list of witnesses which was dismissed---Petitioner filed a civil revision before Revisional Court which was also dismissed---Held, that order sheet appended with the petition revealed that on 10..03.2016 application filed by respondent for temporary injunction was allowed and after farming of issues Trial Court directed the parties to submit list of witnesses and certificate for readiness to produce evidence within seven (7) days, said order was passed by Trial Court in presence of both parties---Suit was adjourned on many dates for recording of evidence of the plaintiff and evidence of respondents witnesses was recorded and counsel for the petitioner conducted cross-examination upon them---Plaintiff produced his documentary evidence and then the case was fixed for evidence of petitioner/defendant---Counsel for the petitioner filed an application before Trial Court for submitting list of witnesses at belated stage which was dismissed by Trial Court, which mean that counsel for the petitioner had been appearing in the Court but did not file application for submitting list of witnesses---Counsel for the petitioner requested for only one opportunity to submit list of witnesses, even on payment of costs as valuable rights of the petitioner were involved in the matter---Petition was allowed by High Court and Trial Court was directed to grant only one opportunity and fixed a date for submitting list of witnesses by the petitioner and if the cost imposed was not paid or list of witnesses was not submitted on the fixed date as directed, Trial Court should proceed with the matter in accordance with law.

(b) Administration of justice---

----Technicalities of procedure ought to be avoided and matter should be decided on merits---Petition was allowed.

       Mst. Bundi Begum v. Munshi Khan and others PLD 2004 SC 154; Syed Sharif ul Hassan through LRs. v. Hafiz Muhammad Amin and others 2012 SCMR 1258 and Zohra Bibi and another v. Haji Sultan Mahmood and others 2018 SCMR 762 



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 































Post a Comment

Previous Post Next Post