Powers of Duty judge ( what Duty judge can pass final order)
![]() |
| Powers of duty Judge |
![]() |
| Powers of duty judge |
🔹 آرٹیکل: ڈیوٹی جج کی مکمل عدالتی اختیارات — ایک اہم عدالتی فیصلہ
عدالتوں میں اکثر یہ صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے کہ کیس ریگولر جج کے سامنے لگایا جاتا ہے، لیکن جب جج کسی وجہ سے چھٹی پر چلا جائے تو مقدمہ ڈیوٹی جج کے سامنے سنایا جاتا ہے۔
عوام میں ایک عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ:
> "جب تک اصل جج واپس نہیں آئے گا، کیس کی کارروائی آگے نہیں بڑھے گی۔"
حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
---
🔹 حقیقت: ڈیوٹی جج مکمل اختیارات رکھتا ہے
قانون کے مطابق ڈیوٹی جج وہ تمام اختیارات رکھتا ہے جو ایک باقاعدہ جج کو حاصل ہوتے ہیں۔
یعنی ڈیوٹی جج:
کیس سن سکتا ہے
گواہوں سے بیان لے سکتا ہے
عبوری احکامات پاس کر سکتا ہے
حتیٰ کہ مقدمہ ڈگری (Decree) بھی کر سکتا ہے
لہٰذا یہ تاثر غلط ہے کہ جج کی غیر موجودگی میں کیس آگے نہیں بڑھتا۔
🔹 زیرِ نظر ہائی کورٹ کا فیصلہ — ڈیوٹی جج کی طاقت واضح
اس فیصلے میں ایک اہم صورتحال سامنے آئی:
1️⃣ پس منظر
Plaintiff نے Defendant کے خلاف دعویٰ دائر کیا۔
Case ریگولر جج کے سامنے لگا… مگر وہ طویل عرصہ کے لیے چھٹی پر چلا گیا۔
Plaintiff/respondent یہ سمجھتا رہا کہ:
> "جب تک اصل جج واپس نہیں آئے گا، مقدمہ نہیں چلے گا، اس لیے پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔"
مگر حقیقت یہ تھی کہ…
2️⃣ مقدمہ ڈیوٹی جج کے سامنے چلتا رہا
Defendant پیش نہ ہوا، اور:
✔ ڈیوٹی جج نے گواہیاں ریکارڈ کیں
✔ کیس کی کارروائی مکمل کی
✔ اور دعویٰ یکطرفہ ڈگری (Ex parte Decree) کر دیا
3️⃣ دو ماہ بعد Defendant کو پتا چلا
جب Execution میں نوٹس گیا، تب Defendant کو علم ہوا کہ اس کے خلاف تو کیس ڈگری ہو چکا ہے۔
اس نے فوراً:
District Court میں اپیل دائر کی
مگر تاخیر کی وجہ سے اپیل نا قابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی گئی
پھر High Court میں ریویژن دائر کیا
مگر وہ بھی خارج ہو گئی
---
🔹 عدالت کے اہم مشاہدات
ہائی کورٹ نے واضح فیصلہ دیا کہ:
✔ ڈیوٹی جج مکمل عدالتی اختیارات رکھتا ہے
وہ وہی سب کام کر سکتا ہے جو ایک ریگولر جج کرتا ہے، جیسے:
ثبوت ریکارڈ کرنا
یکطرفہ ڈگری جاری کرنا
کیس کا فیصلہ کرنا
✔ Plaintiff کا بہانہ ناقابل قبول
یہ کہنا کہ:
> “جج چھٹی پر تھا، اس لیے میں پیش نہیں ہوا”
قانونی طور پر کوئی جواز نہیں۔
✔ مقدمات عدالت کے نظام کے تحت چلتے ہیں، نہ کہ جج کی شخصیت کے ساتھ
اس لیے پارٹیوں پر لازم ہے کہ ہر تاریخ پر پیش ہوں، اور اگر کوئی تبدیلی ہو تو خود عدالت سے معلومات لیں۔
---
🔹 فیصلے کی قانونی اہمیت
یہ فیصلہ چند اہم قانونی اصول واضح کرتا ہے:
1️⃣ ڈیوٹی جج کا اختیار برابر ہے
چاہے جج چھٹی پر ہو یا تبادلہ ہو، کیس رک نہیں جاتا۔
2️⃣ کسی بھی پارٹی کی غیر حاضری کے نتائج وہی ہوں گے جو ریگولر جج کی موجودگی میں ہوتے
3️⃣ عدالت میں “غلط فہمی” کوئی قانونی دفاع نہیں
4️⃣ وقت گزر جانے کے بعد اپیل بحال نہیں ہوتی جب تک کوئی معقول وجہ نہ ہو
---
🔹 نتیجہ
یہ فیصلہ عوام، وکلاء اور مقدمات میں شامل ہر شخص کے لیے اہم سبق ہے:
> عدالت کا کام رکنے والا نہیں۔ جج چھٹی پر ہو یا حاضر، قانون اپنی رفتار سے چلتا ہے۔
لہٰذا ہر تاریخ پر عدالت کی حاضری ضروری ہے، ورنہ یکطرفہ کارروائی اور ڈگری ہو سکتی ہے۔
---
Baz ooqat ap ke case main judge chuti per hota ha or mamla duty judge sunta ha.
Ziada tar dekha gia hai ke Duty judge apne order main sirf agli date announced karta ha
Or aam logo ka khial yeh hota hai ke jub tak judge chuti per ha case ki karwai multawi rahe gi
Magar haqeeqat main aisa nahi hai.
Duty judge har order pass kar sakta hai.
Zair nazar Judgement duty judge ki powers ke bare mai. Hai.
Following case main High court ka faisla ha .
Jiss main district court ke Appeal ke faisle ko challenge kia gia hai.
Plaintiff/respondent ke khalaf dawa hoa or judge chuti per chala gia taqreeban kai mah ke liye.
Plaintiff/respondent case main iss wajah se pesh na hota raha ke judge chuti per hai or jab tak judge wapis nahi aata case ki karwai multawi rahe gi
Magar case chalta raha or duty judge ne defendant ke pesh na hone per dawa yaktarfa decree kar dia.
Or case decree hone ke 2 mah baad jab ijrah mai. Notice gai defendant ko tu us ko pata chala ke us ke khalaf dawa decree hu gia.
Us ne district judge ke pass Appeal file ki ju ke time barrd hone ki wajah se dismiss hu gai.
Jiss ke khalaf revision application high court main file ki gai wo bhi dismiss hu gai.
Court ne qarar dia ke Duty judge case decree kar sakta hai evidence le sakta hai.
Must read judgement in pics
Popular articles




