G-KZ4T1KYLW3 Statement before Police of 161 crpc before investigation officer

Statement before Police of 161 crpc before investigation officer

Statement before Police of 161 crpc before investigation officer.



Statement of 161

تعارف: سیکشن 161 ضابطہ فوجداری

سیکشن 161 ضابطہ فوجداری 1898 کے تحت تفتیشی افسر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کا بیان قلمبند کرے جو کسی قابلِ دست اندازی جرم کے حالات و واقعات سے واقف ہو۔ اس بیان کو عام طور پر "پولیس بیان" کہا جاتا ہے، جو تفتیش کے مرحلے میں ریکارڈ کیا جاتا ہے، نہ کہ ٹرائل کے دوران۔

بیان کا مقصد

سیکشن 161 کے تحت بیان کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ تفتیشی افسر جرم کے حقائق تک پہنچ سکے، شواہد اکٹھے کرے اور یہ جانچ سکے کہ کون سا شخص جرم میں ملوث ہے اور کون بے گناہ۔ یہ بیان مقدمہ کی سمت متعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔

بیان کس سے لیا جا سکتا ہے

تفتیشی افسر ملزم، مدعی، گواہ یا کسی بھی ایسے شخص سے بیان لے سکتا ہے جو وقوعہ کے بارے میں معلومات رکھتا ہو۔ قانون میں یہ شرط نہیں کہ بیان دینے والا لازمی طور پر گواہ ہی ہو، بلکہ کوئی بھی باخبر شخص اس دائرے میں آتا ہے۔

بیان کی نوعیت

سیکشن 161 کے تحت دیا گیا بیان حلف کے بغیر ہوتا ہے اور اسے عدالت میں بطور شہادت براہِ راست استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیان صرف تفتیشی ریکارڈ کا حصہ ہوتا ہے، جس کی بنیاد پر پولیس اپنی رپورٹ مرتب کرتی ہے۔

ملزم کے بیان سے متعلق قانونی تحفظ

قانون ملزم کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے خلاف کوئی بات بیان کرنے کا پابند نہیں۔ سیکشن 161 واضح کرتا ہے کہ کوئی بھی شخص ایسا بیان دینے کا پابند نہیں جو اسے خود مجرم ثابت کرے۔ یہ حق آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 13(a) کے تحت حاصل تحفظ کے عین مطابق ہے۔

بیان کی قانونی حیثیت

سیکشن 161 کے تحت ریکارڈ شدہ بیان بذاتِ خود ثبوت نہیں ہوتا، لیکن اگر گواہ بعد میں عدالت میں مختلف بیان دے تو اس کا پولیس بیان اس کی جرح کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یعنی اس بیان کی حیثیت corroborative یا contradiction تک محدود ہے۔

تفتیشی افسر کے اختیارات اور حدود

تفتیشی افسر بیان لیتے وقت کسی شخص کو تشدد، دباؤ یا دھمکی کے ذریعے بیان دینے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ ایسا کوئی بھی بیان جو جبر کے تحت لیا جائے، قانوناً ناقابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے اور عدالت اسے مسترد کر سکتی ہے۔

دستخط سے متعلق قانون

سیکشن 161 کے تحت دیا گیا بیان بیان دینے والے سے دستخط کروانا لازم نہیں۔ درحقیقت، قانون کا تقاضا یہی ہے کہ پولیس بیان پر دستخط نہ لیے جائیں تاکہ بعد میں اس بیان کی حیثیت پر کوئی قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔

بیان اور دفعہ 164 کا فرق

سیکشن 161 کے تحت بیان پولیس افسر لیتا ہے جبکہ دفعہ 164 کے تحت بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہوتا ہے۔ دفعہ 164 کا بیان حلف کے تحت ہوتا ہے اور اسے شہادت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ سیکشن 161 کا بیان صرف تفتیش تک محدود ہوتا ہے۔

عدالتی نظائر

عدالتیں بارہا یہ قرار دے چکی ہیں کہ سیکشن 161 کا بیان بذاتِ خود سزا کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ کسی بھی ملزم کو صرف پولیس بیان کی بنیاد پر مجرم قرار دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

نتیجہ

سیکشن 161 ضابطہ فوجداری تفتیش کا ایک اہم مرحلہ ہے، لیکن اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ یہ بیان نہ تو حتمی شہادت ہے اور نہ ہی بذاتِ خود سزا کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کا مقصد صرف تفتیش میں معاونت فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی کو بلاجواز پھنسانا۔


Two types statements



There are two types statements in criminal cases first is before police ( investigation officer) called it sataetment of 161 CRPC and other is statement of 164 CRPC record before Magistrate.

After Fir police start investigation and collect evidence and take in custody the evidences, and notices to persons who have information about the accurance and record their statements are the statements of 161. When investigation complete Police make  final report of investigation under section 173 CRPC called it Challan.

What are the requirements if any body wants to record his or her statement of 161, 



 He should appear before investigation officer and request him to record his statement under section 161 crpc, which investigation officer is duty bound to record. 

If Investigation officer don't record the statements the person can application to Investigation in charge, some time investigation in charge is not SHO, in small districts SHO is In charge of both departments( operation and Investigation) But In Lahore Investigation department is separate then operation. Operation department lounge FIR(first information report) and then Investigation department investigate cases and make final report to submit under section 173 crpc.

Benefits of statement of 161 


To prove your case it is compulsory that there should be strong documentary and verbal evidence. 

Some time Police bribe from accused persons to give them relief don't record statement of 161, so in these circumstansis Application to DIG to change investigation otherwise investigation officer can make  discharge report to submit before SP, so statements of 161 are important to be record 

 Popular Articles 



















































 






















Post a Comment

Previous Post Next Post