Process of Recalling of Witness by Court in Pakistan, under Order XVIII Rule 17, C.P.C. — Scope and Limitation.
(2012 CLC 828)
🔹 عنوان:
گواہ کو عدالت کی جانب سے دوبارہ طلب کرنا — دائرہ اختیار اور حدود
🔹 تعارف:
دیوانی مقدمات میں بعض اوقات گواہ کے بیان کے دوران یا بعد میں کچھ نکات غیر واضح یا مبہم رہ جاتے ہیں۔
ایسی صورت میں عدالت کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ گواہ کو دوبارہ طلب کرے تاکہ کسی ابہام یا تضاد کو دور کیا جا سکے۔
یہ اختیار آرڈر 18 رول 17، ضابطہ دیوانی کارروائی (C.P.C) کے تحت دیا گیا ہے۔
🔹 قانونی پس منظر:
مقدمہ میں عدالت کے سامنے یہ سوال آیا کہ آیا کسی گواہ کو دوبارہ طلب کرنے کا اختیار عدالت کو حاصل ہے یا نہیں،
اور اگر ہے تو اس کا مقصد کیا ہے؟
عدالت نے وضاحت کی کہ آرڈر 18 رول 17 ایک آزاد قانونی دفعہ ہے جو عدالت کو یہ اجازت دیتی ہے کہ وہ کسی بھی مرحلے پر
(جب تک فیصلہ صادر نہ ہو) کسی گواہ کو از خود یا کسی درخواست پر دوبارہ بلا سکتی ہے۔
🔹 عدالت کا مشاہدہ:
عدالت نے کہا کہ گواہ کو دوبارہ طلب کرنے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ کوئی فریق اپنے گواہ کے بیان میں رہ جانے والی خامیوں کو پورا کرے،
بلکہ اصل مقصد صرف یہ ہے کہ اگر گواہ کے بیان میں کوئی ابہام (ambiguity) یا غیر وضاحت (obscurity)
ہو تو اسے دور کیا جا سکے،
تاکہ عدالت انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ دے سکے۔
🔹 اہم نکتہ:
> “The true object of re-examination under Order XVIII Rule 17, C.P.C. is to remove any obscurity or ambiguity in the statement of a witness, not to fill up omissions in evidence.”
یعنی عدالت کا اختیار وضاحت تک محدود ہے،
اسے فریق کو کمی پوری کرنے یا نیا مواد شامل کرنے کی اجازت نہیں۔
🔹 نتیجہ:
عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی گواہ کو دوبارہ طلب کرے۔
یہ اختیار صرف وضاحت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس کا غلط استعمال کر کے فریق کو نیا ثبوت یا وضاحت دینے کا موقع نہیں دیا جا سکتا۔
مقصد انصاف کی تکمیل ہے، نہ کہ کسی فریق کا فائدہ۔
🔹 خلاصہ:
آرڈر 18 رول 17، عدالت کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے وضاحت طلب کرنے کا محدود اختیار دیتا ہے۔
یہ اختیار کسی بھی فریق کو اپنی کمزوری دور کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
Exactly wording of the Court
31.14. Recalling of a witness by Court for re-examination
Order XVIII, R. 17, C.P.C. was an independent provision of law by virtue of which the Court had ample powers to re-summon any witness at any stage of the case before the pronouncement of the final decision (2012 CLC 828). True object of re-examination of a witness, as matter of fact and law, was to clear any obscurity and/or ambiguity which might have arisen during the course of his examination/statement, which had to be clarified as otherwise obscurity etc. might lead to injustice and the Court shall find it difficult to adjudicate the matter to do justice. Order XVIII, R.17, C.P.C was not meant and designed for the purpose of enabling a party to fill up the omissions in the evidence of a witness who had already been examined
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.