![]() |
| Delaying tactics |
Law Favours the Vigilant, Not the Indolent – 2025 SCMR 624
Muhammad Asim v. Dr. Abdul Hamid Jan & Others
---
تعارف
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک حالیہ فیصلے 2025 SCMR 624 میں ایک اہم اصول کو اجاگر کیا ہے کہ عدالت کے عمل کو نظر انداز کرنے والے اور بلاوجہ التواء پیدا کرنے والے فریقین کو قانون کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ اس مقدمہ میں درخواست گزار کو اپنی شہادت پیش کرنے کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے گئے، حتیٰ کہ "آخری اور حتمی موقع" کے ساتھ واضح انتباہ بھی دیا گیا، لیکن اس کے باوجود اس نے شہادت پیش نہ کی۔
---
فیصلہ کے اہم نکات
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار کو اپنی شہادت پیش کرنے کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے گئے تھے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ واضح انتباہ کے باوجود درخواست گزار نے اپنی شہادت پیش نہ کی اور عدالتی احکامات کو نظر انداز کیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایسا سست اور لاپرواہ شخص عدالتی کارروائی کے ساتھ کھیلنے اور معاملے کو بلاجواز طول دینے کا حق نہیں رکھتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے تحریری اور صریح احکامات کے ذریعے درخواست گزار کو "آخری اور حتمی موقع" دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار کا رویہ عدالتی احکامات کے مقابلے میں ہٹ دھرمی اور غیر سنجیدگی پر مبنی تھا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایسا رویہ عدالتی عمل کی خلاف ورزی اور عدالت کے وقار کے منافی ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قانون ہمیشہ ان لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو چوکنا اور مستعد ہوں، جبکہ سست اور لاپرواہ افراد قانون کی رعایت کے مستحق نہیں ہوتے۔
---
قانونی اصول
یہ فیصلہ ایک بار پھر اس اصول کو دہراتا ہے کہ “Law favours the vigilant, not the indolent”۔ عدالتیں صرف ان فریقین کو سہولت فراہم کرتی ہیں جو بروقت اور سنجیدگی سے اپنے مقدمات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ دوسری جانب، جو لوگ عدالتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہیں یا جان بوجھ کر التواء پیدا کرتے ہیں، وہ عدالت سے کسی رعایت یا ہمدردی کے حقدار نہیں ہوتے۔
---
اختتامیہ
یہ فیصلہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ عدالتی نظام میں سنجیدگی، بروقت عمل اور عدالتی احکامات کی پابندی بنیادی تقاضے ہیں۔ جو فریق ان تقاضوں کو نظر انداز کرتا ہے وہ نہ صرف اپنے مقدمے کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ قانون کی حمایت سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔
خلا صہ کیس
2025 SCMR 624
درخواست گزار کو اپنی شہادت پیش کرنے کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے گئے، تاہم، انتباہ کے باوجود اس نے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی زحمت نہ کی۔ اس قسم کے سست اور لاپرواہ شخص کو عدالت کے طریقہ کار سے کھیلنے اور معاملے کو بلاجواز التواء میں رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،
ریکارڈ سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات میں صراحت کے ساتھ درخواست گزار کو آخری اور حتمی مواقع فراہم کیے گئے تھے تاکہ وہ اپنی شہادت پیش کر سکے، اور اسے واضح انتباہ بھی دیا گیا، لیکن اس کے باوجود اس نے ٹرائل کورٹ کے احکامات اور ہدایات کو نظرانداز کیا۔ درخواست گزار کا یہ طرزِ عمل اس کے عدالتی احکامات کے خلاف ہٹ دھرمی اور غیرسنجیدہ رویے کو ظاہر کرت
Must read Judgement
Opportunities have been granted to the petitioner for producing his evidence and despite putting him under warning he did not bother to avail the same. Such like indolent person(s) cannot be allowed to play with the process of the Court and linger on the matter on one pretext or the other, that too, without any plausible and valid reason. It is evident from record that through speaking order(s) the petitioner was granted with absolute last and final opportunities for production of his evidence with clear cut warnings, the petitioner did not pay any heed to the orders and direction of the trial Court, which shows his adamant attitude towards the orders of the trial Court. The above picture of affairs makes it crystal clear that how the petitioner pursued his case and showed his disobedience and indifferent demeanour towards the orders of the Court; thus, such like indolent person cannot seek favour of law, because law favours the vigilant and not the indolent.
C.P.L.A.277-Q/2024
Muhammad Asim v. Dr. Abdul Hamid Jan and others
Mr. Justice Shahid Bilal Hassan
Popular posts

No comments:
Post a Comment