Translate

8/25/2025

DNA Testing and Inheritance Rights (PLD 2018 SC 149)



DNA Testing and Inheritance Rights (PLD 2018 SC 149)


سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: ڈی این اے ٹیسٹ اور وراثتی حقوق


(PLD 2018 SC 149)

مقدمے کا پس منظر


یہ مقدمہ ایک ایسے وراثتی تنازع سے متعلق تھا جس میں ایک بھائی نے اپنی بہن کے حقِ وراثت کو چیلنج کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ بہن دراصل والدین کی گود لی ہوئی اولاد ہے اور اس لیے وہ وراثت کی حقدار نہیں۔ اس بنیاد پر بھائی نے عدالت سے بہن کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی استدعا بھی کی۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا اور قرار دیا کہ:

1. پرائیویسی کا حق:

کسی بھی فرد کا ڈی این اے ٹیسٹ اس کی مرضی کے بغیر کرانا اس کی پرائیویسی اور وقارِ انسانیت کی خلاف ورزی ہے۔ آئین پاکستان ہر شہری کی عزت اور نجی زندگی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔


2. سرکاری ریکارڈ کی اہمیت:

خاتون کی پیدائش اور شناختی دستاویزات میں اسے باپ کی بیٹی کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ اس بنیاد پر اس کے وراثتی حق کو چیلنج کرنا بے بنیاد اور غیر قانونی تھا۔


3. جھوٹے دعووں کی مذمت:

عدالت نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی دعوے نہ صرف عدالتی وقت ضائع کرتے ہیں بلکہ خواتین کے لیے سماجی بدنامی (social stigma) کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے دعووں پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔


4. وراثتی حقوق کا تحفظ:

سپریم کورٹ نے بہن کے حقِ وراثت کو برقرار رکھتے ہوئے بھائی کا دعویٰ مسترد کر دیا۔



فیصلے کی اہمیت


یہ فیصلہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک نظیر (landmark precedent) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے درج ذیل اصول واضح ہوئے:

وراثتی تنازعات میں زبردستی ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کرایا جا سکتا۔

سرکاری ریکارڈ اور شناختی دستاویزات بنیادی شہادت ہیں۔

خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے جھوٹے مقدمات دائر کرنا قابلِ سزا عمل ہے۔


نتیجہ


سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے خواتین کے حقِ وراثت کے تحفظ کو مزید مضبوط کیا ہے اور واضح پیغام دیا ہے کہ ایسے جھوٹے دعوے معاشرے میں بے بنیاد بدنامی پھیلانے کے مترادف ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔


Must read Judgement


The Supreme Court has delivered a landmark judgment on DNA testing and inheritance rights. Led by Justice Qazi Faez Isa, the court dismissed a brother's claim against his sister's inheritance, citing her adoption. The brother sought a DNA test, which the court deemed an invasion of privacy without consent. Official documents confirmed her status as the father's daughter, making the claim groundless. The court emphasized that such frivolous claims can cause social stigma and warrant severe penalties. Reference: PLD 2018 SC 149.



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.



































 




































No comments:

Post a Comment

Featured Post

Court Marriage Process in Pakistan 2025 | Complete Urdu Guide

Court Marriage Process in Pakistan (2025 Latest Guide) کورٹ میرج پاکستان 2025 مکمل رہنمائی Last Updated: June 2025 Court marriage Pakis...