G-KZ4T1KYLW3 Children from pre-deceased son/daughter---Principle---Grand children are entitled to receive share equal to the share of their mother or father

Children from pre-deceased son/daughter---Principle---Grand children are entitled to receive share equal to the share of their mother or father

Children from pre-deceased son/daughter Principle---Grand children are entitled to receive share equal to the share of their mother or father.

Children from pre-deceased son/daughter---Principle---Grand children are entitled to receive share equal to the share of their mother or father

وراثت میں نواسے/نواسی کے حقوق: لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ

Mst. Saidan بمقابلہ Muhammad Yousaf — 2024 YLR 1394

مقدمے کا تعارف

اس مقدمے میں درخواست گزار Mst. Saidan، جو کہ ایک بیوہ تھیں، نے اپنے مرحوم بیٹے کی اولاد کے حق میں وراثتی حصہ کا دعویٰ دائر کیا۔ مقدمے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ مرحوم بیٹے یا بیٹی کی اولاد (نواسے/نواسی) کو ان کے والدین کے حصے کے برابر وراثت مل سکتی ہے یا نہیں۔

عدالت کا مؤقف

لاہور ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ Muslim Family Laws Ordinance, 1961 کی دفعہ 4 کے تحت، مرحوم بیٹے یا بیٹی کی اولاد کو ان کے والد یا والدہ کے حصے کے برابر وراثت حاصل کرنے کا حق ہے۔ عدالت نے یہ بھی شرط رکھی کہ یہ حق صرف اس صورت میں لاگو ہوگا جب وراثت کا معاملہ Ordinance کے نفاذ کے بعد کھلے۔

قانونی اہمیت

یہ فیصلہ وراثتی حقوق کے حوالے سے ایک اہم قانونی نظیر ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ:
نواسہ یا نواسی اپنے مرحوم والد یا والدہ کے حصے کے برابر وراثت کا مستحق ہے۔
یہ حق صرف اسی صورت میں حاصل ہوگا جب وراثت کا معاملہ Muslim Family Laws Ordinance, 1961 کے بعد کھلے۔
جی ہاں، مسلم عائلی قوانین آرڈیننس، 1961 کی دفعہ 4 کے تحت، اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں فوت ہو جائے، اور اس کے والدین (دادا/دادی یا نانا/نانی) بعد میں وفات پائیں، تو اس شخص کے بچے (یعنی پوتے/پوتیاں یا نواسے/نواسیاں) اپنے والد یا والدہ کے برابر حصہ پانے کے حقدار ہوں گے، گویا کہ ان کا والد/والدہ حیات ہوتے۔

اہم نکات:

  1. برابری کا اصول: اگر مرحوم بیٹا یا بیٹی زندہ ہوتے تو جو حصہ انہیں ملنا تھا، وہی حصہ ان کے بچوں (پوتے/پوتیوں یا نواسے/نواسیوں) کو ملے گا۔
  2. اطلاق کی شرط: اس دفعہ کا اطلاق صرف ان وراثتی کیسز پر ہوگا جہاں وراثت 1961 کے بعد کھلی ہو۔
  3. دفعہ 4 کی حیثیت: یہ قانون اسلامی فقہ کے اصول "اقرب کی موجودگی میں ابعد محروم ہوتا ہے" (Nearer in degree excludes the more remote) کی خلاف ورزی کرتا نظر آتا ہے، لیکن چونکہ یہ ایک قانونی ترمیم ہے، اس لیے اس کا اطلاق لازمی ہوگا جب تک کہ اسے منسوخ نہ کیا جائے۔

یہ دفعہ یتیم پوتے/پوتیوں اور نواسے/نواسیوں کے حق میں ایک سماجی و قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے تاکہ وہ اپنے دادا/دادی یا نانا/نانی کی جائیداد سے محروم نہ رہیں۔

Must read Judgement.

Citation Name : 2024 YLR 1394 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
Side Appellant : Mst. SAIDAN (widow)
Side Opponent : MUHAMMAD YOUSAF
S. 4---inheritance ---Children from pre-deceased son/daughter---Principle---Grand children are entitled to receive share equal to the share of their mother or father in view of S. 4 of Muslim Family Laws Ordinance, 1961---Only condition to such entitlement is that succussion should open after promulgation of Muslim Family Laws Ordinance, 1961.


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post