Lawyers Cannot File Replications Without Client’s Signature – Balochistan High Court 2025 C L C 173۔
وکیل مؤکل کی جگہ دستخط نہیں کر سکتا بلوچستان ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
کیس کا تعارف
کیس کمال اشرف بنام عتیق الرحمن
فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ
تاریخ فیصلہ 26 جولائی 2024
پس منظر
اس مقدمہ میں ایک اہم قانونی مسئلہ سامنے آیا۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت میں جواب الجواب جمع کروایا لیکن اس پر صرف وکیل کے دستخط تھے جبکہ درخواست گزاروں کے اپنے دستخط موجود نہیں تھے۔ بعد میں اسی جواب الجواب کو دوسرے مقدمہ میں بطور ریکارڈ پیش کیا گیا۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ جواب الجواب ان کی اجازت اور دستخط کے بغیر داخل کیا گیا ہے اس لیے اسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم نچلی عدالتوں نے ان کی درخواست مسترد کر دی۔
اہم قانونی سوال
کیا وکیل اپنے مؤکل کی طرف سے بغیر دستخط کے جواب الجواب یا دیگر دستاویزات عدالت میں جمع کرا سکتا ہے؟
عدالت کا فیصلہ
بلوچستان ہائیکورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے نچلی عدالتوں کے فیصلے کو درست نہیں مانا اور واضح قرار دیا:
عدالت نے قرار دیا کہ قانون کے مطابق ایسی تمام تحریری گزارشات پر فریق کے اپنے دستخط ہونا ضروری ہیں یا پھر کسی مجاز نمائندہ کے دستخط ہوں جو حقیقتاً فریق کی طرف سے اختیار رکھتا ہو۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ وکیل محض نمائندہ ہوتا ہے اور وہ اپنے مؤکل کی جگہ نہیں لے سکتا۔ وکیل کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ مؤکل کے ذاتی حقائق بیان کرے یا ان پر مبنی درخواست خود سے داخل کرے۔
اہم اصول
عدالت نے اس فیصلہ میں چند بنیادی اصول واضح کیے:
عدالت نے قرار دیا کہ وکیل مؤکل کا متبادل نہیں بن سکتا
عدالت نے قرار دیا کہ حقائق کا علم صرف مؤکل کو ہوتا ہے
عدالت نے قرار دیا کہ وکیل مؤکل کی طرف سے بیان حلفی نہیں دے سکتا
عدالت نے قرار دیا کہ بغیر دستخط کے دستاویزات قابل اعتبار نہیں ہوتیں
عدالت نے قرار دیا کہ صرف اختیار نامہ ہونے کی بنیاد پر وکیل خود سے دعویٰ یا درخواست داخل نہیں کر سکتا
عدالت کا اہم مشاہدہ
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی درخواست پر مؤکل کے دستخط موجود نہ ہوں تو یہ بات مشکوک ہو جاتی ہے کہ آیا یہ درخواست واقعی مؤکل کی ہدایات پر داخل کی گئی ہے یا نہیں۔
نتیجہ
یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عدالت میں پیش کی جانے والی تحریری درخواستوں میں مؤکل کی شمولیت ضروری ہے اور وکیل صرف قانونی معاونت فراہم کرتا ہے، وہ مؤکل کی جگہ نہیں لے سکتا۔
عدالت کا فیصلہ:
آئینی درخواست منظور کی گئی اور یہ طے پایا کہ وکیل کلائنٹ کے دستخط کے بغیر اہم دعوی فائل نہیں کر سکتا۔
حوالہ جات:
Flight Lt. Anwarul Hasan Siddiqui v. Family Judge, Court No.III, Karachi and 2 others PLD 1980 Kar. 477
Secretary Communication and Works Department Govt. of Balochistan v. Dad Bakhsh and another 2013 CLC 343
منفرد نکتہ:
وکیل صرف کورٹ میں نمائیندگی کر سکتا ہے، مگر حقائق پر مبنی دعوے اور حلف کے لیے کلائنٹ کی اجازت اور دستخط ضروری ہیں۔
نکتہ:
وکیل کلائنٹ کی ہدایت اور دستخط کے بغیر کوئی اہم دعویٰ یا دستاویز فائل نہیں کر سکتا۔ وکیل کلائنٹ کی ذاتی معلومات یا حقائق کے بارے میں حلف نہیں دے سکتا، اور صرف مختار نامہ کی بنیاد پر مقدمہ یا دیگر درخواستیں دائر نہیں کر سکتا۔ اگر پٹیشنر کے دستخط نہ ہوں تو یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ واقعی کلائنٹ کی ہدایت پر دائر ہوئی ہے۔ اس لیے آئینی درخواست منظور کی گئی۔
ترجمہ:
وکیل کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے کلائنٹ کی جگہ لے کر عدالت سے کسی اہم ریلیف کا مطالبہ کرے، جو کلائنٹ اپنے حقائق کی بنیاد پر چاہتے ہوں۔ وکیل کلائنٹ کے موقف سے متعلق حقائق پر حلف نامہ نہیں دے سکتا، کیونکہ یہ حقائق صرف کلائنٹ کی ذاتی معلومات میں ہوتے ہیں۔ جب پٹیشن میں کلائنٹ کے دستخط نہیں ہوتے تو یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ واقعی کلائنٹ کی ہدایت پر دائر ہوئی۔ وکیل صرف پاور آف اٹارنی کی بنیاد پر مقدمہ یا دیگر درخواستیں فائل نہیں کر سکتا۔ ایسی صورتحال میں آئینی درخواست منظور کی گئی۔
Must read Judgement
2025 C L C 173
[Balochistan]
Before Muhammad Kamran Khan Mulakhail and Iqbal Ahmed Kasi, JJ
KAMAL ASHRAF and others---Petitioners
Versus
ATIQUE-UR-REHMAN and others---Respondents
C.P. No.1131 of 2021, decided on 26th July, 2024.
Civil Procedure Code (V of 1908)---
----O. III, R. 1 & O. VI, R.14---Appearance in court by recognized agents or pleaders---Power of an Advocate to sign pleadings/replications on behalf of his client---Scope---Advocate representing the petitioners/plaintiffs before the Trial Court in a suit for declaration with permanent injunction filed replication on behalf of petitioners only under his signatures and without being signed by the petitioners---Respondents filed application for placing on record the same replication in another civil suit---Petitioners filed application challenging the filing of replication by their previous counsel without being signed by the petitioners, which was dismissed by both the courts below---Validity---Order III, Rule 1 & O. VI, R. 14, C.P.C., mandate that certain pleadings, including replications, must be signed by the party or their authorized agent---Lawyers are not supposed to replace their client(s) for any substantial relief, which their clients want on the basis of fact from the Court---Lawyer(s) cannot swear affidavit of facts relating to the stance of their client(s) in which they/he need an order from the Court of law, so felt by their/his client---Facts and circumstances can only be in the personal knowledge of their client(s)--When the petition was not signed by the petitioners, it was difficult to believe that the petition had been filed under the instructions given by the petitioners---Lawyers cannot file suit and other miscellaneous petitions solely on the strength of power of attorney---Constitution petition was allowed, in circumstances.
Flight Lt. Anwarul Hasan Siddiqui v. Family Judge, Court No.III, Karachi and 2 others PLD 1980 Kar. 477 and Secretary Communication and Works Department Government of Balochistan and others v. Dad Bakhsh and another 2013 CLC 343 rel.
Naimatullah Achakzai for Petitioners.
Manzoor Ahmed Shah for Respondents Nos.1-A to 1-J and 2.
Shai Haq Baloch, Additional Advocate General for the State.
