Article 85 QSO 1984 Public Documents.
مندرجہ ذیل کو پبلک ڈاکومنٹس قرار دیا گیا ہے:
1. ریاستی کارروائیوں کے اعمال
ریاست، خودمختار اداروں اور عوامی دفاتر کی سرکاری کارروائیوں سے متعلق دستاویزات۔
2. عوامی دفاتر کے ریکارڈ
وہ ریکارڈ جو کسی عوامی افسر کے ذریعہ اپنی قانونی ذمہ داری یا اختیار کے تحت مرتب یا تحریر کیا گیا ہو۔
3. عدالتی ریکارڈ
عدالتوں اور ٹربیونلز کے فیصلے، ڈگریاں، احکامات اور عدالتی کارروائی کا ریکارڈ۔
---
اہم نکات
پبلک ڈاکومنٹس کے برعکس جو پرائیویٹ ڈاکومنٹس ہوتے ہیں، ان کا معیارِ ثبوت مختلف ہے۔
پبلک ڈاکومنٹس کی تصدیق شدہ کاپی عدالت میں بطور ثبوت قابلِ قبول ہوتی ہے۔
اصل پیش کرنے کی ضرورت ہر صورت میں نہیں ہوتی، بلکہ Certified Copy ہی کافی سمجھی جاتی ہے۔
پبلک ڈاکومنٹس کیا ہیں؟
(قانونِ شہادت آرڈر 1984 کی روشنی میں)
قانونِ شہادت آرڈر 1984 میں دستاویزات کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے:
پبلک ڈاکومنٹس
پرائیویٹ ڈاکومنٹس
پبلک ڈاکومنٹس وہ دستاویزات ہیں جو ریاست، عوامی اداروں یا عوامی افسران اپنی قانونی ذمہ داریوں کے تحت تیار یا محفوظ کرتے ہیں۔ ان کی حیثیت قانون میں نہایت اہم ہے کیونکہ ان کا تعلق براہِ راست عوامی معاملات اور ریاستی کارروائیوں سے ہوتا ہے۔
پبلک ڈاکومنٹس کی قانونی تعریف
قانونِ شہادت آرڈر 1984، آرٹیکل 85 کے مطابق درج ذیل دستاویزات کو پبلک ڈاکومنٹس قرار دیا گیا ہے:
1. ریاستی کارروائیوں کے اعمال
وہ تمام دستاویزات جو ریاست، خودمختار اداروں، سرکاری محکموں یا عوامی دفاتر کی سرکاری کارروائیوں سے متعلق ہوں۔
مثلاً:
حکومتی نوٹیفکیشن
سرکاری احکامات
انتظامی فیصلے
2. عوامی دفاتر کے ریکارڈ
وہ تمام ریکارڈ جو کسی عوامی افسر نے اپنی قانونی ذمہ داری یا اختیار کے تحت تیار یا تحریر کیا ہو۔
مثلاً:
رجسٹریشن ریکارڈ
لینڈ ریکارڈ
نادرا کا ریکارڈ
سرکاری رجسٹرز
3. عدالتی ریکارڈ
عدالتوں اور ٹربیونلز کے وہ تمام ریکارڈ جو عدالتی کارروائی کے دوران تیار ہوتے ہیں۔
مثلاً:
فیصلے
ڈگریاں
عدالتی احکامات
مقدمات کا ریکارڈ
پبلک ڈاکومنٹس کی اہم قانونی حیثیت
پبلک ڈاکومنٹس کی حیثیت ثبوت کے قانون میں غیر معمولی ہے۔ ان کے بارے میں قانون درج ذیل اصول وضع کرتا ہے:
✔ تصدیق شدہ کاپی بطور ثبوت
آرٹیکل 88 کے مطابق پبلک ڈاکومنٹس کی Certified Copy عدالت میں بطور ثبوت پیش کی جا سکتی ہے۔
✔ اصل دستاویز پیش کرنا لازم نہیں
پبلک ڈاکومنٹس کے معاملے میں ہر صورت اصل دستاویز پیش کرنا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ تصدیق شدہ نقل ہی کافی سمجھی جاتی ہے۔
✔ ثبوت کا معیار
پبلک ڈاکومنٹس کا ثبوتی معیار پرائیویٹ ڈاکومنٹس سے مختلف اور زیادہ مضبوط تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ ریاستی یا عدالتی نگرانی میں تیار ہوتے ہیں۔
پرائیویٹ ڈاکومنٹس سے فرق
پہلو
پبلک ڈاکومنٹس
پرائیویٹ ڈاکومنٹس
تیاری
ریاست یا عوامی افسر
نجی فرد
ثبوت
Certified Copy قابلِ قبول
اصل یا سخت ثبوت
اعتبار
قانونی مفروضہ موجود
مفروضہ موجود نہیں
پبلک ڈاکومنٹس کی عملی مثالیں
درج ذیل دستاویزات عام طور پر پبلک ڈاکومنٹس شمار ہوتی ہیں:
فردِ ملکیت (Land Record)
رجسٹریشن ڈیڈ
ایف آئی آر (FIR) کا ریکارڈ
عدالت کا ڈگری یا آرڈر
نادرا کا ریکارڈ
سرکاری سرٹیفکیٹس
نتیجہ
پبلک ڈاکومنٹس قانونِ شہادت میں ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد ذریعۂ ثبوت ہیں۔ ان کی تصدیق شدہ نقول عدالت میں پیش کی جا سکتی ہیں اور عام طور پر ان پر شک کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتی اور انتظامی نظام میں ان کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
---
📌 مثالیں:
فردِ ملکیت (Land Record)
رجسٹریشن ڈیڈ
ایف آئی آر (FIR) کا ریکارڈ
عدالت کا ڈگری یا آرڈر
نادرا کا ریکارڈ وغیرہ
Article 85 QSO 1984 – Public Documents

No comments:
Post a Comment