Oral Evidence without statement of 161crpc.
 |
| Evidence without statement of 161crpc |
سپریم کورٹ/ہائی کورٹ فیصلہ:
استغاثہ کے گواہ کی گواہی کا ریکارڈ کرنا اور سیکشن 161 Cr.P.C. کی پابندی نہیں
Cr.P.C. کی دفعہ 265-F کے تحت چارج فریم کرنے کے بعد استغاثہ کے ثبوت ریکارڈ کرنے کے لیے درست طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔ اس دفعہ میں کہیں بھی یہ پابندی نہیں کی گئی کہ عدالت صرف اس شخص کا بیان ریکارڈ کرے جس کا بیان پولیس نے سیکشن 161 Cr.P.C. کے تحت ریکارڈ کیا ہو۔
مقدمے کے حقائق اور قانونی وضاحت
اس مقدمے میں گواہ نے واقعے کے دوران زخم حاصل کیا اور اس کا نام گواہوں کے کلینڈر میں شامل تھا۔ میڈیکل آفیسر نے اس گواہ کے میڈیکل ایگزامینیشن کے دوران واضح کیا کہ زخم کی بناوٹ میں کسی قسم کی جعلسازی کا امکان نہیں۔ لہٰذا، گواہ سے بہتر کوئی اور واقعے کے حقائق سے واقف نہیں ہو سکتا۔
عدالتی فیصلہ اور استدلال
عدالت نے کہا کہ استغاثہ کے گواہ کی گواہی کو خارج نہیں کیا جا سکتا صرف اس وجہ سے کہ تفتیشی افسر نے سیکشن 161 Cr.P.C. کے تحت اس کا بیان ریکارڈ نہ کیا ہو، خواہ وہ لاپروائی کے سبب ہو یا کسی بدنیتی کی بنیاد پر۔ گواہ کی موجودہ گواہی اور واقعے کے بارے میں براہِ راست علم کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔
نتیجہ
Cr.P.C. کی دفعہ 265-F کے تحت استغاثہ کے ثبوت ریکارڈ کرنے کے عمل میں عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ ہر متعلقہ اور حقیقی گواہ کی گواہی ریکارڈ کرے، چاہے اس کا بیان پولیس نے سیکشن 161 کے تحت نہ لیا ہو۔ اس فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قانونی کارروائی میں گواہ کی اصل معلومات اور شواہد کو مقدم رکھنا عدالت کی صوابدید ہے۔
یہ قانونی نکتہ واضح کرتا ہے کہ تعزیراتِ پاکستان (Cr.P.C) کی دفعہ 265-F کے تحت استغاثہ کے گواہوں کی شہادت قلمبند کرنے کا باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے۔ اس دفعہ میں کہیں بھی یہ پابندی عائد نہیں کی گئی کہ عدالت صرف ان گواہوں کی شہادت قلمبند کرے گی جن کے بیانات پولیس نے دفعہ 161 کے تحت ریکارڈ کیے ہوں۔
اگر کوئی گواہ وقوعہ کے دوران زخمی ہوا ہو
اگر کوئی گواہ وقوعہ کے دوران زخمی ہوا ہو اور اس کا نام گواہوں کی فہرست میں شامل ہو، تو اس کی شہادت کو محض اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ تفتیشی افسر نے جان بوجھ کر یا کسی غفلت کے باعث اس کا بیان دفعہ 161 Cr.P.C کے تحت ریکارڈ نہیں کیا۔ خاص طور پر جب میڈیکل افسر نے اس کی چوٹوں کو حقیقی قرار دیا ہو اور ان کے جعلی ہونے کے امکان کو رد کر دیا ہو، تو ایسا گواہ واقعات کا سب سے زیادہ باخبر فرد ہوتا ہے، اور اس کی گواہی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ اصول عدالتِ عالیہ کے فیصلے Criminal Appeal No. 78896/2019، محمد احسان عرف ملکّو بنام ریاست (2025 PCr.LJ 334) میں طے پایا، جس میں گواہ کی گواہی کو محض تفتیشی افسر کی غفلت یا بدنیتی کی بنا پر مسترد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
Must read judgement
A proper procedure for recording of prosecution evidence, after framing of charge has been laid down in Section 265-F of Cr.P.C. Nowhere in the said section a prohibition has been contained that the Court is bound only to record the testimony of a person, whose statement U/S 161 Cr.P.C. was recorded by the police.
Witness sustained injury during the occurrence and even his name was reflecting in the calendar of witnesses. The Medical Officer who conducted his medico legal examination ruled out any possibility of fabrication qua the injury sustained by him, therefore, none else is more aware of the facts than the said witness and his testimony cannot be excluded merely for the reasons that the Investigating Officer due to negligence or with malafide intention did not record his statement U/S 161 Cr.P.C.
Criminal Appeal No.78896/2019
M. Ihsan @ Malkoo etc. versus The State etc.
2025 PCr.LJ 334
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.
No comments:
Post a Comment