Translate

2/17/2025

Ingredients of pre-emption

Ingredients of pre-emption.



  ۔ اس کیس میں دعویٰ حقِ شفعہ -) کے تحت دائر کیا گیا تھا اور عدالت نے خیبر پختونخوا حقِ شفعہ ایکٹ، 1987 کی دفعہ 13 کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ دیا۔

تعارفِ مقدمہ

یہ مقدمہ رحیم خان بنام ناصر خان و دیگران پشاور ہائی کورٹ (مینگورہ بنچ) میں جسٹس محمد اعجاز خان کے روبرو زیرِ سماعت آیا۔ مقدمہ دعویٰ حقِ شفعہ سے متعلق تھا جس میں عدالت نے خیبر پختونخوا حقِ شفعہ ایکٹ، 1987 بالخصوص دفعہ 13 کی تشریح اور اطلاق کرتے ہوئے فیصلہ صادر کیا۔

حقِ شفعہ کا بنیادی قانونی اصول

عدالت نے قرار دیا کہ حقِ شفعہ کے دعویٰ میں کامیابی کے لیے مدعی پر لازم ہے کہ وہ قانون میں مقرر تینوں مطالبات کو مکمل اور بروقت طور پر ثابت کرے۔ ان مطالبات میں فوری اظہارِ حق، گواہوں کی موجودگی میں اظہار اور نوٹس، اور بعد ازاں عدالت میں باقاعدہ دعویٰ دائر کرنا شامل ہے۔ ان میں سے کسی ایک تقاضے کی عدم تکمیل دعویٰ کو ناقابلِ قبول بنا دیتی ہے۔

طلبِ اشہاد کے ثبوت کا تقاضا

عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 13 کے تحت طلبِ اشہاد کا نوٹس دو سچے اور دیانت دار گواہوں کی موجودگی میں دیا جانا ضروری ہے۔ اس نوٹس کو ثابت کرنے کے لیے مدعی پر لازم ہے کہ وہ دونوں گواہوں کو عدالت میں پیش کرے تاکہ نوٹس کی قانونی حیثیت ثابت ہو سکے۔

گواہوں کی عدم پیشی کے قانونی نتائج

اس مقدمے میں مدعی صرف ایک گواہ پیش کرنے میں کامیاب ہوا جبکہ قانون کے مطابق دونوں گواہوں کی پیشی لازمی تھی۔ عدالت نے اس کو قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ طلبِ اشہاد کا نوٹس ثابت نہیں ہو سکا اور یوں یہ قانونی طور پر غیر مؤثر ہو گیا۔

نوٹس کی اصل دستاویز اور فوٹو کاپی کا معاملہ

مدعی نے عدالت میں نوٹس کی اصل دستاویز پیش نہ کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اصل نوٹس مدعا علیہان کو ارسال کر دیا گیا تھا، اس لیے فوٹو کاپی پیش نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر اصل نوٹس مدعا علیہان کو بھیجا جا چکا ہو تو اس کی فوٹو کاپی بطور ثبوت عدالت میں پیش اور نمائش کی جا سکتی ہے۔

نوٹس کی وصولی اور بوجھِ ثبوت

عدالت نے یہ اصول بھی واضح کیا کہ طلبِ اشہاد کے نوٹس کی ترسیل اور وصولی ثابت کرنے کا بوجھ مکمل طور پر مدعی پر ہوتا ہے۔ محض مدعا علیہ کا اعتراف کافی نہیں ہوتا بلکہ مدعی کو مثبت شہادت فراہم کرنا لازم ہے، جس میں نوٹس پہنچانے والے اہلکار کی گواہی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

قانونِ شہادت کے اصول کا اطلاق

عدالت نے قانونِ شہادت 1984 کے آرٹیکل 77 کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ عام حالات میں ثانوی شہادت پیش کرنے سے قبل اصل دستاویز رکھنے والے شخص کو نوٹس دینا ضروری ہوتا ہے، تاہم جہاں ثابت کی جانے والی دستاویز بذاتِ خود نوٹس ہو، وہاں اس قاعدے کا اطلاق نہیں ہوتا۔

عدالتی نتیجہ

چونکہ مدعی نہ تو طلبِ اشہاد کے دونوں لازمی گواہ پیش کر سکا اور نہ ہی نوٹس کی ترسیل و وصولی کا قابلِ قبول ثبوت فراہم کر سکا، اس لیے عدالت نے حقِ شفعہ کا دعویٰ خارج کر دیا۔

قانونی اہمیت

یہ فیصلہ اس اصول کو مزید مستحکم کرتا ہے کہ حقِ شفعہ ایک سخت قانونی حق ہے جس میں معمولی کوتاہی بھی دعویٰ کو ناکام بنا سکتی ہے، اور عدالتیں اس ضمن میں قانونی تقاضوں پر سختی سے عمل درآمد کرواتی ہیں۔

اہم نکات:

  1. حقِ شفعہ کا بنیادی اصول:

حقِ شفعہ کے دعوے میں کامیابی کے لیے مدعی (Pre-emptor) کو تین مطالبات (Talbs) کو مکمل طور پر ثابت کرنا ہوتا ہے:

طلبِ مواثبت (Talb-i-Muwathibat): فوری اظہارِ حق

طلبِ اشہاد (Talb-i-Ishhad): گواہوں کے سامنے اظہار اور تحریری نوٹس

طلبِ خصومت (Talb-i-Khusumat): عدالت میں دعویٰ دائر کرنا

  1. طلبِ اشہاد (Talb-i-Ishhad) کا ثبوت:

دفعہ 13 کے تحت، طلبِ اشہاد کا نوٹس دو سچے گواہوں کی موجودگی میں دیا جانا ضروری ہے۔

نوٹس کو ثابت کرنے کے لیے دعویدار کو دونوں گواہوں کو عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔

  1. گواہ پیش نہ کرنے کے نتائج:

درخواست گزار نے صرف ایک گواہ کو پیش کیا جبکہ قانون کے مطابق دونوں گواہوں کو پیش کرنا لازمی تھا۔

اس ناکامی کو عدالت نے قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا، جس کے نتیجے میں طلبِ اشہاد کا نوٹس غیر مؤثر قرار پایا۔

  1. نوٹس کا اصل ریکارڈ پیش نہ کرنا:

مدعی نے نوٹس کا اصل ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا اور دلیل دی کہ اصل نوٹس مدعا علیہان (vendees) کو بھیجا گیا تھا، اس لیے فوٹو کاپی کو ثبوت کے طور پر شامل نہیں کیا گیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر نوٹس قانون کے مطابق مدعا علیہان کو بھیجا گیا ہو، تو فوٹو کاپی کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

  1. نوٹس کی وصولی کا بوجھِ ثبوت (Burden of Proof):

نوٹس کی وصولی کا ثبوت دینا مدعی (Pre-emptor) کی ذمہ داری ہے، صرف مدعا علیہ کا اعتراف کافی نہیں۔

اس کے لیے مدعی کو مثبت شہادت (affirmative evidence) دینا ہوگی، بشمول اس ڈاکیے (Postman) کی گواہی جو نوٹس کی ترسیل کا ذمہ دار تھا۔

  1. قانونِ شہادت، 1984 کے تحت اصول:

آرٹیکل 77 کے تحت، اگر کوئی شخص کسی دستاویز کی نقل (Secondary Evidence) کو بطور ثبوت پیش کرنا چاہے، تو پہلے اسے اس شخص کو نوٹس دینا ہوگا جس کے پاس اصل دستاویز موجود ہے۔

لیکن اگر جس دستاویز کو ثابت کرنا ہے وہ خود ایک "نوٹس" ہو، تو ایسے نوٹس کی صورت میں ثانوی شہادت کے اصول لاگو نہیں ہوتے۔

عدالتی فیصلہ:

چونکہ درخواست گزار طلبِ اشہاد کے نوٹس کو ثابت کرنے کے لیے دونوں ضروری گواہ پیش نہ کر سکا اور نوٹس کی وصولی کا مناسب ثبوت فراہم کرنے میں بھی ناکام رہا، اس لیے عدالت نے حقِ شفعہ کا دعویٰ خارج کر دیا۔

یہ فیصلہ حقِ شفعہ کے معاملات میں ثبوت اور قانونی تقاضوں کی سختی سے پابندی کے اصول کو مضبوط کرتا ہے۔

Must read judgement 



2024 CLC 707

[Peshawar (Mingora Bench)]

Before Muhammad Ijaz Khan, J

RAHIM KHAN and others----Petitioners

Versus

NASIR KHAN and others----Respondents

C.R. No.03-P of 2010 with C.M. No.232-M of 2019, decided on 15th November, 2022.

(a) Khyber Pakhtunkhwa Pre-emption Act (X of 1987)---

----S. 13---Suit for pre-emption---Scope---For getting a favourable decree in a pre-emption case, a pre-emptor has to establish the performance of all the three talbs i.e. Talb-i-Muwathibat, Talb-i-Ishhad and Talb-i-Khusumat.

(b) Khyber Pakhtunkhwa Pre-emption Act (X of 1987)---

----S. 13---Suit for pre-emption---Talb-i-Ishhad---Proof---Section 13 of the Khyber Pakhtunkhwa Pre-emption Act, 1987, mandates that the notice of Talb-i-Ishhad must be attested by two truthful witnesses and thus in order to prove the same a pre-emptor has to produce them in Court.

(c) Khyber Pakhtunkhwa Pre-emption Act (X of 1987)---

----S. 13---Suit for pre-emption---Talb-i-Ishhad---Non-production of witnesses---Effect---Plaintiff had produced only one out of two witnesses of the notice of Talb-i-Ishhad---Such failure was a grave and blatant violation of S. 13, of Khyber Pakhtunkhwa Pre-emption Act, 1987, therefore, such notice of Talb-i-Ishhad would not be deemed to have been proved by the plaintiff.

(d) Khyber Pakhtunkhwa Preemption Act (X of 1987)---

----S. 13---Suit for pre-emption---Talb-i-Ishhad---Scope---Pre-emptor is bound to produce both the attesting witnesses of notice of Talb-i-Ishhad.

   Bilal Ahmad and another v. Abdul Hameed
 2020 SCMR 445; Mst. Nusrat Bibi v. Nazir
 Akhtar 2015 SCMR 808 and Dawa Khan through
 L.Rs and others v. Muhammad Tayyab 2013
 SCMR 1113 rel.  

(e) Khyber Pakhtunkhwa Pre-emption Act (X of 1987)---

----S. 13---Suit for pre-emption---Talb-i-Ishhad---Proof---Notice of Talb-i-Ishhad was not exhibited in evidence by the plaintiff on the pretext that since the original notice of Talb-i-Ishhad was sent to the vendees, therefore, the same was not exhibited under the impression that a photo state copy of the same could not be exhibited---When sending of notice of Talb-i-Ishhad to vendee was the requirement of S.13(3) and notice of Talb-i-Ishhad was required to be proved then a photostat copy of the same could be produced and exhibited.

(f) Khyber Pakhtunkhwa Pre-emption Act (X of 1987)---

----S. 13---Suit for pre-emption---Talb-i-Ishhad---Burden of proof---Scope---Affirmative onus to prove the receipt of notice of Talb-i-Ishhad is on the pre-emptor---Any admission on the part of the vendee is immaterial and even thereafter it is obligatory for the pre-emptor to prove the sending of notice of Talb-i-Ishhad by leading affirmative evidence including production of the postman, who actually delivered or served the notices upon the vendee.

   Allah Ditta through L.Rs. and others 
v. Muhammad Anar 2013 SCMR 866; Muhammad
 Bashir and others v. Abbas Ali Shah 2007
 SCMR 1105; Iffat Begum and another v. 
Robina Shaheen 2014 CLC 1425; Ashiq 
Muhammad Khan v. Additional District Judge 
Muzaffargarh and 4 others 2013 CLC 1033 
and Wazir Muhammad v. Haroon-ur-Rashid 
2014 CLC 706 rel.  

(g) Qanun-e-Shahadat (10 of 1984)---

----Art. 77---Rules as to notice to produce---Scope---Article 77 of the Qanun-e-Shahadat, 1984, stipulates that a person shall not be allowed to produce secondary evidence unless he gave a notice to the person or his advocate in whose possession such document is, however, giving such notice shall not be required where the document to be proved is itself a notice.

   Abdul Wadood for Petitioners.  

   Rashid Ali Khan for Respondents.  

   Date of hearing: 15th November, 2022




For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

































 




































1 comment:

Featured Post

Court Marriage Process in Pakistan 2025 | Complete Urdu Guide

Court Marriage Process in Pakistan (2025 Latest Guide) کورٹ میرج پاکستان 2025 مکمل رہنمائی Last Updated: January 2026 Court marriage Pa...