Jurisdiction – 2025 CLC 1599
مقدمہ کا پس منظر
اس فیصلے میں عدالت نے یہ اہم نکتہ واضح کیا کہ محض تاخیر (limitation) کو بنیاد بنا کر ریویژنل کورٹ کے اختیار کو محدود نہیں کیا جا سکتا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی قرار دیا کہ مدتِ معیاد کو محض ایک رسمی کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔
عدالت کی مشاہدات
ہائی کورٹ نے قرار دیا:
1. اگر مقدمے کی کارروائی میں ایسے واضح اور سنگین قانونی سقم یا بے ضابطگیاں پائی جائیں جو انصاف کے تقاضوں کو ناکام بنا رہی ہوں، تو ریویژنل کورٹ تاخیر کے باوجود اپنا اختیار استعمال کر سکتی ہے۔
2. تاہم قانونِ معیاد (Law of Limitation) کو صرف ایک رسمی کارروائی یا خانہ پری نہیں سمجھا جا سکتا۔
3. قانون کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو بروقت اور محتاط ہوں، نہ کہ ان کی جو سستی اور غفلت کا شکار ہوں۔
4. عدالت ایسے فریق کے لیے کوئی رعایت نہیں دے سکتی جو اپنے حق کے تحفظ میں سویا رہا اور وقت گزرنے کے بعد بیدار ہوا۔
قانونی اصول
Revisional Jurisdiction: عدالت کے پاس یہ اختیار ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ وہ ایسے معاملات کو درست کرے جن میں انصاف کے تقاضے پامال ہو رہے ہوں۔
Law of Limitation: عدالتیں ان فریقین کی مدد نہیں کرتیں جو اپنے حقوق کے تحفظ میں غفلت برتیں۔
نتیجہ
یہ فیصلہ ایک متوازن اصول پیش کرتا ہے کہ:
انصاف کے تقاضوں کو مکمل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،
لیکن مدتِ معیاد کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
There is no cavil that mere limitation would not come in the way of revisional court to exercise its jurisdiction where it appears from the record that the proceedings brought before it are tainted with such patent illegalities or material irregularities defeating the ends of justice but at the same time limitation cannot be considered merely a formality. The prime object of law of limitation is to help the vigilant and not the indolent. A court cannot come to the rescue of a litigant having gone into deep slumber and became forgetful of his right.
2025 CLC 1599

No comments:
Post a Comment