Is Time Always of the Essence in a Contract? – Supreme Court’s Ruling.
![]() |
| "Is Time Always of the Essence in a Contract? – Supreme Court’s Ruling" |
کیا ہر معاہدے میں وقت کی پابندی ضروری ہوتی ہے؟ – سپریم کورٹ کی وضاحت
معاہدات میں وقت کی پابندی کی اہمیت ایک عام قانونی سوال ہے، خاص طور پر ان معاملات میں جہاں کسی فریق کی طرف سے تاخیر کی وجہ سے دوسرے فریق کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے مقدمہ Zeeshan Pervez vs Muhammad Nasir (C.P.L.A.812-K/2022) میں فیصلہ دیتے ہوئے 2025 SCMR 495 میں ایک اہم اصول طے کیا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے میں وقت کی اہمیت کا تعین درج ذیل نکات کی بنیاد پر کیا جائے گا:
- معاہدے کے الفاظ:
- کیا معاہدے میں واضح طور پر وقت کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے؟
- فریقین کی نیت: کیا دونوں فریقین نے وقت کو ایک لازمی عنصر کے طور پر تسلیم کیا تھا؟
- واقعاتی حالات: مقدمے کے مخصوص حالات اور معاہدے کی نوعیت کیا ہے؟
عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی معاہدے میں وقت کو بنیادی شرط (time as essence of contract) کے طور پر شامل نہ کیا گیا ہو، تو محض وقت پر عمل نہ کرنے سے معاہدہ ناقابلِ نفاذ (voidable) نہیں ہو جاتا۔ اس صورت میں، متاثرہ فریق کا واحد قانونی حق یہ ہوتا ہے کہ وہ معاوضے (compensation) کا دعویٰ کرے، بجائے اس کے کہ معاہدے کو مکمل طور پر منسوخ کیا جائے۔
اس فیصلے کی اہمیت
یہ فیصلہ کاروباری اور دیگر قانونی معاہدوں کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ واضح کرتا ہے کہ ہر معاہدے میں وقت کی تاخیر معاہدے کی خلاف ورزی نہیں سمجھی جائے گی جب تک کہ معاہدے میں خاص طور پر وقت کی پابندی کو لازمی نہ ٹھہرایا گیا ہو۔ یہ اصول ٹھیکیداری، جائیداد کی خرید و فروخت، اور دیگر معاہداتی معاملات میں فریقین کے حقوق کے تحفظ میں مدد دیتا ہے۔
نتیجہ
سپریم کورٹ کے مطابق، وقت کی اہمیت کا تعین معاہدے کی نوعیت اور فریقین کی نیت کے مطابق کیا جائے گا۔ اگر وقت کو معاہدے میں بنیادی شرط کے طور پر شامل نہیں کیا گیا، تو معاہدہ کالعدم نہیں ہوگا بلکہ متاثرہ فریق کو صرف ہرجانہ (compensation) کا حق حاصل ہوگا۔ یہ اصول معاہداتی قانون میں ایک اہم نظیر کے طور پر کام کرے گا اور معاہداتی تنازعات کے حل میں رہنمائی فراہم کرے گا۔

No comments:
Post a Comment