Authenticity of Hiba Deed & Scope of Writ Jurisdiction – 2023 CLC 1518 Peshawar High Court.
ھبہ نامہ کی تصدیق، فرانزک کو روکنے کی رٹ مسترد۔ جانچ اور رِٹِ سرٹیوری کی حدود
(2023 CLC 1518 – پشاور ہائی کورٹ)**
تمہید
پاکستان میں وراثتی تنازعات بالخصوص ھبہ نامہ / تمليك ڈیڈ کی بنیاد پر اکثر عدالتوں میں زیرِ بحث آتے ہیں۔ ایسے مقدمات میں سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا مبینہ دستاویز اصل، درست اور حقیقی ہے یا نہیں۔ زیرِ نظر فیصلہ پشاور ہائی کورٹ کا ایک اہم نظیراتی فیصلہ ہے جس میں فرانزک سائنس لیبارٹری (FSL) کو دستاویز بھیجنے، ثبوت کے معیار اور آئینی رِٹ کی حدود کو واضح کیا گیا ہے۔
کیس کا پس منظر
مدعیہ: مسماۃ عدالت بی بی
مدعا علیہان: مسماۃ سوچا بی بی وغیرہ
دعویٰ:
والد کی وراثت میں حصہ
مبینہ تمليك ڈیڈ / ھبہ نامہ کی منسوخی
مدعیہ کا مؤقف تھا کہ اس کے نام سے منسوب ھبہ نامہ جعلی ہے اور اس پر لگے انگوٹھے کے نشان اس کے نہیں ہیں۔
عدالتی کارروائی
ٹرائل کورٹ نے مدعا علیہان کی درخواست پر ھبہ نامہ فرانزک سائنس لیبارٹری (FSL) بھجوانے کا حکم دیا۔
اپیلیٹ کورٹ نے بھی اس حکم کو برقرار رکھا۔
اس کے بعد مدعیہ نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
مدعیہ کے دلائل
مدعیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ:
مدعا علیہان پر لازم تھا کہ وہ ھبہ نامہ کی اصالت براہِ راست شہادت (Direct Evidence) سے ثابت کرتے۔
صرف فرانزک جانچ کے لیے دستاویز بھیجنا قانون کے خلاف ہے۔
نچلی عدالتوں نے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ
پشاور ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے درج ذیل اہم اصول وضع کیے:
1. رِٹِ سرٹیوری کا دائرہ محدود
عدالت نے واضح کیا کہ:
آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ اسی صورت جاری ہو سکتی ہے جب:
نچلی عدالت نے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا ہو
اختیار کا غلط استعمال کیا ہو
یا اختیار موجود ہی نہ ہو
محض ناپسندیدہ یا ناپسند فیصلے پر رِٹ دائر نہیں کی جا سکتی۔
2. دستاویز کی اصالت جانچنے کا اختیار
عدالت نے قرار دیا کہ:
جب کسی دستاویز کی اصالت یا جعلسازی سوال میں ہو تو:
عدالت کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ اسے FSL بھجوا کر
انگوٹھے کے نشان یا دستخط کا سائنسی موازنہ کروائے
یہ اقدام:
قانونِ شہادت (Arts. 59, 72, 117) کے عین مطابق ہے۔
3. فرانزک شہادت Direct Evidence کے منافی نہیں
عدالت نے واضح کیا کہ:
فرانزک رپورٹ مددگار شہادت (Corroborative Evidence) ہوتی ہے۔
یہ براہِ راست شہادت کے اصول کے خلاف نہیں۔
بلکہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں معاون ہے۔
اہم قانونی اصول (Key Takeaways)
ھبہ نامہ یا تمليك ڈیڈ کی تصدیق کے لیے فرانزک جانچ جائز ہے۔
صرف یہ مؤقف کہ "مدعا علیہ براہِ راست ثبوت لائے" کافی نہیں۔
آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ شواہد کا ازسرِ نو جائزہ نہیں لیتی۔
ٹرائل کورٹ کا صوابدیدی اختیار (Discretion) محترم ہے۔
وراثتی مقدمات میں انگوٹھے کے نشان کی جانچ ایک مستند طریقہ ہے۔
نتیجہ
یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ جب کسی قانونی دستاویز کی اصالت مشکوک ہو تو عدالت سائنسی طریقۂ تحقیق اختیار کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا کہ آئینی درخواستیں اپیل کا نعم البدل نہیں ہوتیں۔
یہ فیصلہ خاص طور پر:
وراثتی مقدمات
ھبہ نامہ کی منسوخی
جعلی دستاویزات کے تنازعات
میں ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
![]() |
| Authenticity and genuineness of document |
یہ کیس مست عدالت بی بی بنام مست سوچا بی بی سے متعلق ہے، جس میں درخواست گزار (مست عدالت بی بی) نے اپنے والد کی وراثت میں حصہ لینے اور ایک ھبہ نامہ (تملیک دستاویز) کی تنسیخ کے لیے دعویٰ دائر کیا تھا۔
اہم نکات:
- ھبہ نامہ کی صداقت: مدعا علیہان نے دعویٰ کیا کہ مدعیہ نے یہ ھبہ نامہ خود ان کے حق میں تحریر کیا تھا۔
- عدالت کے احکامات: سول عدالت نے مدعا علیہان کی درخواست پر یہ دستاویز فرانزک سائنس لیبارٹری (FSL) بھیجنے کا حکم دیا تاکہ مدعیہ کے انگوٹھے کے نشان کی تصدیق کی جا سکے۔
- اپیلٹ کورٹ کا مؤقف: سول عدالت کے فیصلے کو اپیلٹ کورٹ نے برقرار رکھا۔
- آئینی درخواست:
- مدعیہ نے پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اپنایا کہ مدعا علیہان کو ھبہ نامہ کی صداقت براہ راست ثبوت سے ثابت کرنا چاہیے تھا۔
- ہائی کورٹ کا فیصلہ:
- عدالت نے کہا کہ آئینی درخواست گزار کو ثابت کرنا تھا کہ ماتحت عدالتوں نے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا یا اختیار کو غلط استعمال کیا، لیکن وہ ایسا کوئی جواز پیش نہ کر سکی۔
- لہٰذا، ہائی کورٹ نے آئینی درخواست مسترد کر دی اور ماتحت عدالتوں کے احکامات برقرار رکھے۔
نتیجہ:
پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ھبہ نامہ کی تصدیق کے لیے FSL سے معائنہ کرانے کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے اور اس میں کوئی غیر قانونی اقدام نہیں پایا گیا، اس لیے آئینی درخواست مسترد کر دی گئی۔
