Husband's rights after divorce.
![]() |
| Recovery of gold ornaments given by husband as dower, after khulla |
Husband's rights after divorce
- Zair nazar case law main husband ne dawa kia zewarat ki wapsi ka ke ju zewarat haqmahar ke ewaz diye gai the wo khulla ke baad wapis kiye jain.
- Family Court ne dawa decree Kar dia
- Appeal main Court ne Trial Court ke hukam ko setaside kar dia.
- Or qarar dia ke husband ko zewarat ki wapsi ke liye Civil Court main dawa file karna pare ga.kionke family Court husband ko zewarat nahi le kar de sakti.
- Magar High court ne appellate court ke faisle ko setaside karte hoe qarar dia ke family court agar bv ko haqmahar dalwa sakti hai tu wo husband ko bhi dawa family court main hi file karne haq rakhta .
حقِ مہر میں دیے گئے سونے کے زیورات کی واپسی کا قانونی حق
(2015 CLC 808)
ازدواجی تنازعات میں حقِ مہر اور اس کے اجزاء کی واپسی ایک اہم قانونی سوال ہے، خصوصاً اس صورت میں جب نکاح خلع کے ذریعے ختم ہو جائے۔ زیرِ نظر فیصلے میں عدالتِ عالیہ نے اس اصول کو واضح کیا ہے کہ اگر سونے کے زیورات حقِ مہر کے طور پر دیے گئے ہوں اور نکاح نامہ میں ان کا اندراج موجود ہو تو شوہر کو ان کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
مقدمے کا پس منظر
اس مقدمے میں شوہر نے اپنی بیوی کے خلاف فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا کہ نکاح کے وقت جو سونے کے زیورات حقِ مہر کے طور پر دیے گئے تھے، وہ واپس کروائے جائیں۔ یہ زیورات واضح طور پر نکاح نامہ میں بطور حقِ مہر درج تھے۔ دوسری جانب بیوی نے خلع کی بنیاد پر نکاح کے انحلال کا دعویٰ دائر کیا، جو ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 10(4) کے تحت منظور کر لیا گیا۔
خلع کی صورت میں حقِ مہر کی واپسی
عدالت نے اس قانونی اصول کو دہرایا کہ جب بیوی خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرواتی ہے تو وہ اس حقِ مہر کی واپسی کی پابند ہوتی ہے جو اسے نکاح کے وقت ملا ہو۔ چونکہ زیرِ نظر مقدمے میں سونے کے زیورات حقِ مہر کا حصہ تھے اور بیوی نے انہیں وصول کیا تھا، اس لیے وہ قانوناً ان کی واپسی کی ذمہ دار تھی۔
فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار کا تعین
فیملی کورٹ نے شوہر کے دعوے کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سونے کے زیورات کی واپسی کا ڈگری جاری کی۔ تاہم اپیلیٹ کورٹ نے یہ کہتے ہوئے دعویٰ واپس کر دیا کہ شوہر کو اس نوعیت کا دعویٰ سول کورٹ میں دائر کرنا چاہیے تھا۔
ہائی کورٹ نے اپیلیٹ کورٹ کے اس مؤقف کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے شیڈول میں شامل تمام ازدواجی معاملات، خواہ وہ شوہر کی جانب سے دائر کیے جائیں یا بیوی کی جانب سے، فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
شوہر کی جانب سے حقِ مہر کی واپسی کا دعویٰ
عدالت نے دوٹوک انداز میں یہ اصول طے کیا کہ فیملی کورٹس ایکٹ کسی صورت یہ پابندی عائد نہیں کرتا کہ حقِ مہر سے متعلق دعویٰ صرف بیوی ہی دائر کر سکتی ہے۔ اگر شوہر یہ مؤقف اختیار کرے کہ حقِ مہر کی کوئی شے، مثلاً سونے کے زیورات، خلع کے بعد واپس کی جانی چاہیے تو وہ بھی فیملی کورٹ میں ایسا دعویٰ دائر کرنے کا مجاز ہے۔
اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کی قانونی حیثیت
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اپیلیٹ کورٹ کا یہ کہنا کہ شوہر کا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں تھا اور اسے سول کورٹ میں دائر ہونا چاہیے تھا، قانون کے منافی ہے۔ چنانچہ اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ اور ڈگری کالعدم قرار دی گئی اور یہ ہدایت جاری کی گئی کہ اپیل کو زیرِ التوا تصور کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔
آئینی دائرہ اختیار اور عدالتی نگرانی
یہ معاملہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کے سامنے آیا، جہاں عدالت نے ماتحت عدالتوں کے دائرہ اختیار اور قانونی غلطیوں کی تصحیح کرتے ہوئے فیملی کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیا اور فیملی قوانین کی مؤثر عمل داری کو یقینی بنایا۔
قانونی اہمیت اور رہنما اصول
یہ فیصلہ اس امر کی واضح مثال ہے کہ حقِ مہر میں شامل اشیاء، خواہ وہ نقد رقم ہوں یا سونے کے زیورات، خلع کی صورت میں قابلِ واپسی ہوتی ہیں اور ان کی بازیابی کے لیے شوہر فیملی کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔ اس فیصلے نے فیملی کورٹس کے دائرہ اختیار کو وسیع اور واضح کرتے ہوئے غیر ضروری سول مقدمہ بازی کا راستہ بند کر دیا ہے۔
نتیجہ
2015 CLC 808 کا یہ فیصلہ خلع، حقِ مہر اور فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار کے حوالے سے ایک مستحکم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے مطابق شوہر کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ حقِ مہر میں دیے گئے سونے کے زیورات کی واپسی کے لیے براہِ راست فیملی کورٹ سے رجوع کرے اور ایسی درخواست قانوناً قابلِ سماعت ہوگی۔

No comments:
Post a Comment