Translate

8/13/2023

Ghair registery shuda istamp ko registery per tarjeeh di gai. Unregistered deed won the case and registered sale deed lost the case.

Ghair registery shuda istamp ko registery per tarjeeh di gai. Unregistered deed won the case and registered sale deed lost the case.


  • Supreme Court ka bara faisla unregistered istamp ke bare.
  • Property 1971 main kharidi gai thi
  • Or khareedne wale ke warsaan ne dawa apne haq main decree karwaia 
  • Bechne wala ne sari raqam lene ka iqrar kia tha
  • Or qabza bhi de dia gia tha . Or qabza bhi khareedne wale ke pass tha.
  • Bechne walo ne makan aage bech dia or dosri party ke haq main registery bhi hu gai.
  • Magar ju malak pehle kharid chuka tha case us ki favour ma decree hoa.
  • Or Supreme Court tak wo case jeet gia.


Unregistered sale deed and registered sale deed





غیر رجسٹرڈ بیع نامہ اور غیر منقولہ جائیداد کا قانونی تصور

غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی کے حوالے سے رجسٹریشن ایک اہم قانونی تقاضا ہے، تاہم یہ اصول مطلق نہیں۔ بعض مخصوص حالات میں غیر رجسٹرڈ بیع نامہ بھی قانونی تحفظ اور ترجیح حاصل کر سکتا ہے، خصوصاً جب فریقین کے طرزِ عمل، اقبالی بیانات اور قبضہ کی منتقلی جیسے عوامل واضح طور پر ثابت ہوں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے PLD 2023 Supreme Court 506 میں اسی اصول کو نہایت وضاحت اور استحکام کے ساتھ بیان کیا ہے۔

غیر رجسٹرڈ بیع نامہ کی قانونی حیثیت

عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ اگر بیچنے والا خود بیع نامہ کی تکمیل، بیع کی رقم کی وصولی اور جائیداد کے قبضہ کی منتقلی کا اعتراف کر لے تو محض اس بنیاد پر کہ بیع نامہ رجسٹرڈ نہیں، اسے کالعدم یا بے اثر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسے حالات میں غیر رجسٹرڈ بیع نامہ ایک مؤثر قانونی دستاویز کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر جب اس کے نتیجے میں خریدار کو عملی طور پر جائیداد کا قبضہ دے دیا گیا ہو۔

قبضہ کی منتقلی اور ترجیح کا اصول

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جب کسی غیر رجسٹرڈ بیع نامہ کی بنیاد پر خریدار کو جائیداد کا قبضہ دے دیا جائے تو اس کے حق میں ایک مستحکم اور محفوظ قانونی حق پیدا ہو جاتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسا قبضہ، جو بیع کے نتیجے میں دیا گیا ہو، بعد میں کسی رجسٹرڈ دستاویز کے ذریعے بھی متاثر نہیں کیا جا سکتا، چاہے وہ رجسٹرڈ دستاویز زمانی لحاظ سے بعد میں ہی کیوں نہ ہو۔

رجسٹرڈ دستاویز بمقابلہ غیر رجسٹرڈ بیع نامہ

عدالتِ عظمیٰ نے اس اہم قانونی نکتے کی وضاحت کی کہ محض رجسٹریشن کو ترجیح دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہو سکتا ہے، اگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہوں۔ جب ایک فریق غیر رجسٹرڈ بیع نامہ کی بنیاد پر جائیداد کے قبضہ میں آ چکا ہو اور اس کا قبضہ طویل عرصہ تک بلا تعطل برقرار رہا ہو تو بعد میں بننے والا رجسٹرڈ بیع نامہ اس کے حقوق کو ختم نہیں کر سکتا۔
دفعہ 50 قانونِ رجسٹریشن اور دفعہ 53-اے قانونِ انتقالِ جائیداد
سپریم کورٹ نے دفعہ 50 قانونِ رجسٹریشن 1908 کے پہلے پرووائزو کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے حقوق کو دفعہ 53-اے قانونِ انتقالِ جائیداد 1882 کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جب کسی شخص کو غیر رجسٹرڈ بیع نامہ کی بنیاد پر جائیداد کا قبضہ دے دیا جائے تو وہ شخص جزوی تکمیلِ معاہدہ کے اصول کے تحت اپنے حقوق کا قانونی دفاع کر سکتا ہے، چاہے دستاویز رجسٹرڈ نہ بھی ہو۔

موروثی حقوق اور حاصل شدہ حق کی حفاظت

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ جب غیر رجسٹرڈ بیع نامہ کے نتیجے میں 1971 میں فریقِ ثانی کو جائیداد کا قبضہ دے دیا گیا تو اس لمحہ سے ان کے حق میں ایک حاصل شدہ اور مستحکم حق وجود میں آ گیا، جسے محض تکنیکی نکات یا رسمی اعتراضات کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قانون کا مقصد انصاف فراہم کرنا ہے نہ کہ ایسے حقوق کو نظر انداز کرنا جو طویل عرصہ سے عملی طور پر موجود ہوں۔

دعویٰ برائے اعلامیہ اور مستقل حکمِ امتناعی

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فریقِ ثانی کے پیش رو کی جانب سے دائر کردہ دعویٰ برائے اعلامیہ اور مستقل حکمِ امتناعی بالکل درست بنیادوں پر منظور کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اس اصول کو مضبوط کیا کہ عملی قبضہ اور تسلیم شدہ بیع، محض رجسٹریشن کی کمی کے باعث غیر مؤثر نہیں ہو جاتیں۔

طے شدہ قانونی اصول

اس فیصلے کے ذریعے سپریم کورٹ نے یہ اصول مزید مستحکم کر دیا کہ جہاں غیر رجسٹرڈ بیع نامہ کے تحت قبضہ منتقل ہو چکا ہو اور بیچنے والا خود اس لین دین کو تسلیم کرے، وہاں بعد میں بننے والا رجسٹرڈ بیع نامہ اس حق کو متاثر نہیں کر سکتا۔ ایسے معاملات میں قانون تکنیکی موشگافیوں کے بجائے انصاف، نیت اور زمینی حقائق کو ترجیح دیتا ہے۔


PLD 2023 سپریم کورٹ 506 غیر منقولہ جائیداد --- 'غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ' --- ایسے حالات جن میں غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کو رجسٹرڈ ڈیڈ پر ترجیح دی جا سکتی ہے --- موجودہ کیس میں اپیل کنندہ / وینڈر نے نہ صرف سیل ڈیڈ پر عمل درآمد کا اعتراف کیا بلکہ اعتراف بھی کیا فروخت پر غور کی ادائیگی؛ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ سوٹ پراپرٹی کا قبضہ بھی فروخت کے لین دین کے نتیجے میں دیا گیا تھا --- غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کو رجسٹرڈ پر ترجیح دی جاسکتی ہے جب غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کی بنیاد پر جائیداد کی ملکیت ہو۔ یہ بھی دیا گیا --- جہاں ایک شخص جس کے حق میں جائیداد میں کچھ حقوق کی غیر رجسٹرڈ ڈیڈ کی منتقلی کی گئی ہو، اس کے پاس بھی جائیداد کا قبضہ تھا، وہ قانونی طور پر جائیداد میں اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے اور یہاں تک کہ اس کے بعد رجسٹرڈ ڈیڈ بھی۔ وقت کے ساتھ اس کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے --- رجسٹریشن ایکٹ، 1908 کے سیکشن 50 کی پہلی شرط بشرطیکہ جائیداد میں اس طرح کے حقوق کو ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ، 1882 کے سیکشن 53-A کے تحت محفوظ کیا جا سکتا ہے --- جب غیر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے مطابق، جواب دہندگان کو سال 1971 میں سوٹ اراضی پر قبضہ کیا گیا تھا، ان کے حق میں ایک مخصوص حق بنایا گیا تھا، جسے محض تکنیکی بنیادوں پر چھینا نہیں جا سکتا تھا --- سوٹ پیشرو کی طرف سے دائر کردہ اعلامیہ اور مستقل حکم امتناعی کے لیے جواب دہندگان کے مفاد میں درست فیصلہ کیا گیا تھا --

Must read Judgement 



PLD 2023 Supreme Court 506  

Immoveable property --- ' Unregistered sale deed ' --- Circumstances in which unregistered sale deed could be given preference over registered deed --- In the present case the appellant / vendor , not only admitted the execution of the sale deed but also admitted the payment of sale consideration ; he also admitted that the possession of the suit property had also been delivered in consequence of the sale transaction --- Un registered sale deed could be given preference over the registered one when on the basis of un - registered sale deed possession of the property had also been given --- Where a person in favour of whom an un registered deed qua transfer of certain rights in property had been executed , also had possession of the property , he could legally protect his rights in the property and even a registered deed subsequent in time would not affect his / her rights --- First proviso to section 50 of the Registration Act , 1908 provided that such rights in the property could be protected under section 53 - A of the Transfer of Property Act , 1882 --- When pursuant to the un - registered sale deed , the respondents were put in possession of the suit land in the year 1971 , a vested right had been created in their favour , which could not be taken away merely on the basis of technicalities --- Suit for declaration and permanent injunction filed by the predecessor - in - interest of respondents was rightly decreed --

For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.






























































 
























No comments:

Post a Comment

Featured Post

Court Marriage Process in Pakistan 2025 | Complete Urdu Guide

Court Marriage Process in Pakistan (2025 Latest Guide) کورٹ میرج پاکستان 2025 مکمل رہنمائی Last Updated: January 2026 Court marriage Pa...