Cyber crimes FaceBook and other social media per larkion ki pics upload karna
سائبر جرائم کیا ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کیسے کی جائے؟
عزیز قارئین!
آج ہم ایک نہایت اہم اور حساس موضوع سائبر جرائم پر بات کریں گے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کا استعمال عام ہو چکا ہے مگر بدقسمتی سے اس کا غلط استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے خصوصاً نوجوانوں کی جانب سے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض افراد سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کرتے ہیں، لڑکیوں کی تصاویر لگا کر جعلی آئی ڈیز بناتے ہیں، لڑکیوں کو فحش اور نازیبا پیغامات بھیجتے ہیں، تصاویر کو ایڈٹ کر کے قابلِ اعتراض مواد تیار کرتے ہیں، نفرت انگیز تقاریر اور مواد پھیلاتے ہیں، اور بعض نادان لوگ (نعوذ باللہ) حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی جیسے سنگین جرائم کے مرتکب بھی ہو جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ قانون سے ناواقفیت کی وجہ سے ایسے افراد کے خلاف کارروائی نہیں کر پاتے حالانکہ پاکستان میں سائبر جرائم کے خلاف واضح قوانین موجود ہیں۔
سائبر کرائم کے ملزم کے خلاف کارروائی کیسے کی جائے
سب سے پہلے ملزم کے خلاف تمام ممکنہ ثبوت محفوظ کریں۔ سوشل میڈیا پوسٹس، پیغامات اور تبصروں کے اسکرین شاٹس لیں۔ قابلِ اعتراض تصاویر اور پیغامات کے پرنٹس نکلوائیں۔ اگر آڈیو یا ویڈیو پیغامات موجود ہوں تو ان کی ریکارڈنگ کر لیں۔ یاد رکھیں کہ شواہد جتنے مضبوط ہوں گے، کیس اتنا ہی مؤثر ہوگا۔
اب ایک تحریری درخواست تیار کریں۔ درخواست کا آغاز اس طرح کریں:
بخدمت جناب، ڈائریکٹر
FIA
لاہور
اگلی سطر میں لکھیں:
درخواست برائے اندراجِ مقدمہ برخلاف ملزم
اگر ملزم کا نام معلوم ہو تو ضرور درج کریں۔ اس کے بعد پورا مدعا بیان اسی انداز میں تحریر کریں جیسے ایف آئی آر کے لیے لکھا جاتا ہے اور واقعے کی مکمل تفصیل دیں۔
درخواست کے ساتھ تمام ثبوتوں کے پرنٹس اور آڈیو/ویڈیو ڈیٹا منسلک کر کے متعلقہ
FIA
سائبر کرائم ونگ میں جمع کروا دیں۔
درخواست جمع کرواتے وقت اس پر ڈائری نمبر ضرور لگوائیں اور وہ نمبر اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ یہ نمبر آپ کی درخواست کا سرکاری حوالہ ہوتا ہے۔
جمع کروائی گئی درخواست اور تمام دستاویزات کی ایک ایک کاپی اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ متعلقہ تفتیشی افسر کا فون نمبر لے کر رکھیں اور وقتاً فوقتاً کیس کی پیش رفت کے لیے رابطے میں رہیں۔
نتیجہ
سائبر جرائم ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں مگر قانون موجود ہے اور کارروائی ممکن ہے۔ ضرورت صرف آگاہی، حوصلے اور درست طریقہ اپنانے کی ہے۔ اگر ہم ثبوت اکٹھے کر کے درست قانونی راستہ اختیار کریں تو نہ صرف خود کو بلکہ معاشرے کو بھی ایسے جرائم سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔
aksar nojawan Social media ka misuse karte hain or logon ko galian dena or larkion ki pics laga kr id banana larkion ko behuda messages karna or larkion ki tasaweer edit kar k barhana pics banana nafrat angaz taqreer. or naoozbillah kai log hazoor pak ki shan main gustakhi k murtakib bhi hote ,hain . humare hann buhat se log qanoon se nawaqfeet ki waja se un k khalaf karwai nahi kar sakte .
Cyber crime ke mulzman k khalaf kese karwai ki ja sakti hai
wo tamam proves apne pass jama kr lain or un k screen shoot le lain
un tamam pics or sms k prints niklwa lain
wo tamam audio or video data record kar lain
un tamam documents or application ki aik aik copy apne pass mahfooz kr lain . or mutalqa officer ka number apne pass le kar mahfooz kr lain , or rabte main rahain or after inquiry un k khalaf Fir darj karwain
Mazeed maloomat k liye call karain 03244010279 Whats app available.
Our popular posts
Dear readers if u like this post plz comments and follow us . Thanks for reading .and as we want to awareness about law to common people and we want to tell poor people what are their rights and how can they can get their rights , so we need to advertise our blog Which is not possible without your coopration, plz tell about this blog and share our posts on social media . Thanks